Inquilab Logo Happiest Places to Work

صحابۂ کرام ؓ، حضورؐ کے رفقاء ہی نہیں، شریعت کے محافظ اور امت کیلئے معیارِ حق بھی ہیں

Updated: August 14, 2026, 4:08 PM IST | Mohammad Javed Qasmi | Mumbai

حضراتِ صحابہؓ نے نہ صرف وحیِ الٰہی کو دیانت وامانت کے ساتھ محفوظ رکھا، بلکہ اپنے قول، عمل اور کردار کے ذریعے اسی اصل صورت میں بعد کی نسلوں تک منتقل کیا۔ یہی وہ عظیم خدمت ہے جس کی بنا پر وہ شریعت کے اوّلین پاسبان کہلانے کے مستحق ہیں۔

Let us pray that the Lord of the Worlds, for the sake of His Beloved (PBUH), enables us to follow the *Uswah-e-Hasana* (the excellent example) just as the noble Companions (RA) did. Picture: INN
آئیے، دعا کریں کہ رب العالمین اپنے محبوب ؐ کے صدقے ہمیں بھی اسوۂ حسنہ پر اسی طرح عمل کرنے بنا دے جس طرح صحابہ کرامؓ عمل کرتے تھے۔ تصویر: آئی این این

حضرت محمد ﷺ، رب العالمین کی طرف سے مبعوث کئے گئے آخری نبی ہیں، آپؐ پر نازل ہونے والی آسمانی کتاب قرآنِ کریم، ہدایتِ الٰہی کی آخری کتاب ہے، اور آپؐ جو شریعت لے کر تشریف لائے، وہ بھی قیامت تک کے لئے آخری، کامل اور جامع شریعت ہے۔ آپ ؐکے بعد نہ کسی نبی کی بعثت ہوگی، نہ کوئی نئی آسمانی کتاب نازل کی جائے گی اور نہ ہی کوئی نئی شریعت آئے گی۔ چنانچہ جب تک یہ دنیا قائم ہے، ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ حضرت محمدؐ کو خاتم النبین تسلیم کرے، قرآنِ کریم کو اللہ کی آخری کتاب مانے، اور آپؐ کی لائی ہوئی شریعت و تعلیمات کو اپنی زندگی کا دستور بنائے۔ اس سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ شریعت ِ محمدیہ کا محفوظ اور برقرار رہنا ناگزیر تھا۔ لہٰذاضروری تھا کہ قرآنِ کریم اپنی اصل صورت میں ہر قسم کی تحریف و تغیر سے محفوظ رہے، اور رسولؐ اللہ کی سنت، احادیث، ارشادات اور عملی تعلیمات بھی بعینہ اسی طرح بعد کی نسلوں تک منتقل ہوں، جس طرح آپ نے انہیں امت تک پہنچایا اور اپنی عملی زندگی میں نافذ فرمایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: نوافل میں قعدہ اولیٰ، عقیقہ کا سوال، دوسرے کی کمپنی کا نام استعمال کرنا

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ کسی بھی دین، نظریے یا فکری نظام کی حفاظت، اشاعت اور بقاء میں اس کے اوّلین مخاطبین اور ابتدائی حاملین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ نفوس ہوتے ہیں جو براہِ راست معلمِ اوّل سے تعلیم حاصل کرتے ہیں، اس کے مقاصد وتعلیمات کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں، اور پھر انہیں پوری دیانت و امانت کے ساتھ آنے والی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ اگر ان کی دیانت، امانت اور علمی ثقاہت مشکوک قرار پائے، تو پورے فکری و دینی سرمایہ کی بنیاد متزلزل ہوجائے۔ لہٰذا حکمتِ الٰہی کا تقاضا یہی تھا کہ شریعتِ محمدیہ کے اوّلین مخاطبین، یعنی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، ایسے برگزیدہ اور بے مثال افراد ہوں جنہیں بلا تردد انسانیت کے لئے آئیڈیل بنایا جا سکے۔ ان کی گفتار و کردار، ظاہر و باطن اور قول و عمل میں کامل ہم آہنگی ہو؛ ان کی زندگی کا ہر گوشہ ایمان، تقویٰ، توکل، اخوت، محبت اور ایثار کا عملی مظہر ہو؛ ان کی نشست و برخاست میں سیرتِ نبویؐ کا عکس جھلکتا ہو؛ ان کے قلوب عشقِ رسول سے سرشار ہوں ؛ ان کا جینااور مرنا اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہو، ان کی زندگی کا مقصد، اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی اشاعت و حفاظت ہو اور ان کے درخشاں کارنامے عقلِ انسانی کو حیرت میں ڈال دیں۔ 

مزید برآں، حکمت ِ الٰہی کا تقاضا یہ بھی تھا کہ ان عظیم ہستیوں کی عظمت و فضیلت کی گواہی خود خالقِ کائنات دے، ان کے ایمان، ایقان، اخلاص اور پاکیزہ کردار کو اپنی آخری کتاب میں محفوظ فرمادے، اور اللہ کے رسول ؐ بھی اپنی زبانِ مبارک سے انہیں ایمان و ہدایت کا معیار قرار دیں، تاکہ قیامت تک کسی کے لئے ان کے مقام ومرتبہ میں تشکیک کی ادنیٰ گنجائش بھی باقی نہ رہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، فلک نے اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ساکنانِ ارض و سماء نے بھی اس کی گواہی دی اور یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ انبیائے کرام ؑکے بعد اگر اس سینۂ گیتی پر کسی جماعت کو سب سے بلند مقام حاصل ہے تو وہ صحابہ کرام ؓکی جماعت ہے، انبیاء کے قلوب کے بعد سب سے پاکیزہ قلوب انہی کے ہیں۔ انبیاء کے بعد اگر کسی جماعت کو معیارِ حق قرار دیا جاسکتا ہے تو بلا شک و شبہ وہ آپؐ کے جاں نثار اصحاب ہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: قرآن و حدیث کی روشنی میں جین زی سے برتاؤ

اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نے بھی نہایت بلیغ انداز میں واضح فرمایا ہے، چنانچہ مختلف مواقع پر مختلف انداز میں ، کہیں ان کے ایمان کو معیارِ ہدایت قرار دیا، کہیں ان کی عبادت، اخلاص، رحم دلی اور باہمی محبت کی تصویر پیش کی، کہیں ان کے ادبِ نبوی، تقویٰ اور طہارتِ قلب کی شہادت دی، کہیں ان کے دلوں کو ایمان کی محبت سے آراستہ اور کفر، فسق و عصیان سے متنفر قرار دیا، اور آخرکار اپنی رضا، مغفرت اور جنت کی بشارت کا پروانہ عطا فرما کر ان کے مقامِ بلند اور معیارِ حق ہونے پر اپنی مہرِ تصدیق ثبت فرما دی۔ 

 صحابۂ کرام ؓ کے ایمان کو معیار قرار دیتے ہوئے قرآن، یہود و نصاریٰ کو دعوت دیتا ہے کہ اگر تم لوگ محمد ؐکے ساتھیوں کی طرح ایمان لےآؤ تو ہدایت پاجاؤ گے: ’اگر وہ (یہود بھی) اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم اس پر ایمان لائے ہو تو وہ (واقعی ) ہدایت پا جائیں گے۔ ‘‘ (سورہ البقرہ:۱۳۷)دوسرے مقام پر قرآن کریم ان نفوسِ قدسیہ کی باہمی محبت، کافروں کے مقابلے میں ان کی استقامت، عبادت گزاری اور اخلاصِ بندگی کی روح پرور تصویر ان الفاظ میں پیش کرتا ہے:’’محمد (ﷺ)اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لئے نرم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ ‘‘ (سورہ الفتح:۲۹ ) 

نیز قرآنِ کریم ان کے ادبِ نبوی، تقویٰ، رفعت ِ کردار، مغفرت اور اجر ِ عظیم کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:’’بیشک جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں (ادب و نیاز کے باعث) اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اﷲ نے تقویٰ کے لئے چن کر خالص کر لیا ہے۔ ان ہی کے لئے بخشش ہے اور اجرِ عظیم ہے۔ ‘‘ ( سورہ الحجرات:۳)

 قرآن ان کے قلوب کی پاکیزگی، ایمان سے والہانہ وابستگی اور کفر، فسق و عصیان سے نفرت کو یوں بیان کرتا ہے:

’’اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑجاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہیں ایمان کی محبت عطا فرمائی اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ فرما دیا اور کفر اور نافرمانی اور گناہ سے تمہیں متنفر کر دیا، ایسے ہی لوگ دین کی راہ پر ثابت اور گامزن ہیں۔ ‘‘ (سورہ الحجرات:۷)

سابقین ِ اولین مہاجرین و انصار اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کے بلند مقام، رضائے الٰہی اور ابدی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے:’’اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔ ‘‘(التوبہ:۱۰۰) 

الغرض، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف اسالیب میں صحابہ کرام ؓ کی عظمت و فضیلت بیان فرماکر ان کے معیارِحق ہونے پر گواہی دے دی ہے۔ 

صحابۂ کرام ؓ محض رسولؐ اللہ کے رفقا نہیں تھے بلکہ دین ِ اسلام کے امین، شریعت کے محافظ اور امت کے لئے معیارِ حق تھے۔ اگر یہ ہستیاں ایسی بلند پایہ نہ ہوتیں، نبیؐ کے بعد، ان کے قلوب سب سے زیادہ پاکیزہ نہ ہوتےاور وہ سراپا عادل و باادب، تقویٰ کا پیکر، مغفور و محفوظ نہ ہوتے، تو شریعت کے محفوظ رہنے میں تردد پیدا ہوتا، اور دین کی تعلیمات کا صحیح اور مستند صورت میں بعد کی نسلوں تک پہنچنا نہایت دشوار ہو جاتا، کوئی بھی کج فہم انہیں عام انسانوں کی فہرست میں کھڑا کرکے انہیں تنقید کا نشانہ بناتا، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کا ایسا بے مثال انتظام فرمایا کہ ہرفتنہ اور ہر شبہ کا دروازہ ہی بند ہوگیا۔ صحابۂ کرام ؓنے نہ صرف وحیِ الٰہی کو کامل دیانت وامانت کے ساتھ محفوظ رکھا، بلکہ اسے اپنے قول، عمل اور کردار کے ذریعے اسی اصل صورت میں بعد کی نسلوں تک منتقل بھی کیا۔ یہی وہ عظیم خدمت ہے جس کی بنا پر وہ بجا طور پر شریعت کے اوّلین پاسبان کہلانے کے مستحق ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: قرآن آپ سے ہی مخاطب ہے!

بزبان ِ نبویؐ، صحابہ کرامؓ کی فضیلت

جس حقیقت کی قرآن کریم نے گواہی دی، اسی کی توثیق رسولؐ اللہ نے بھی اپنے ارشاداتِ مبارکہ سے فرمائی۔ آپؐ نے نہ صرف صحابۂ کرام ؐ کے فضل و شرف کو واضح فرمایا، بلکہ انہیں حق و ہدایت کا معیار بھی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ کتب ِ حدیث میں ان کے فضائل و مناقب سے متعلق بے شمار روایات محفوظ ہیں ۔ 

صحابہؓ ستاروں کی مانند

ایک روایت میں آپ ؐنے ارشاد فرمایا: ’’ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، ان میں سے جس کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت پاجاؤ گے۔ ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح) 

ہدف ِ تنقید بنانے والوں کا انجام

اسی طرح آپؐ نے صحابۂ کرام ؓکی شان میں گستاخی اور انہیں ہدفِ تنقید بنانے سے نہایت سختی کے ساتھ منع فرمایا۔ آپ ؐ کا ارشاد ہے: ’’میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، میرے بعد انہیں ملامت اور تنقید کا نشانہ نہ بنانا۔ یادرکھو! جو شخص ان کودوست رکھتا ہے تو وہ میری وجہ سے ان کو دوست رکھتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ہے تو وہ مجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب ان کو دشمن رکھتا ہے، اورجس نے ان کو اذیت پہنچائی، اس نے گویا مجھے ایذاء پہنچائی، اور جس نے مجھے ایذاء پہنچائی، اس نے گویا خدا تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی، اور جس نے خدا کو ایذاء پہنچائی، تو وہ دن دور نہیں جب خدا اس کو اپنی گرفت میں لے لے گا۔ ‘‘(ترمذی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK