چند مستثنیات کے ماسوا ہر بیماری کا علاج منجانب اللہ ، بندہ کے اختیار میں ہے۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 3:23 PM IST | Faizul Abrar Siddiqui | Mumbai
چند مستثنیات کے ماسوا ہر بیماری کا علاج منجانب اللہ ، بندہ کے اختیار میں ہے۔
چند مستثنیات کے ماسوا ہر بیماری کا علاج منجانب اللہ ، بندہ کے اختیار میں ہے۔
علاج کے بعد بھی بعض بیماریاں ایسی ہیں جن کا کوئی علاج نہیں۔اس میں اس کی موت ہے اور دوسرا بڑھاپا۔موت کسی کی واقع ہونے والی ہے تو کتنی ہی احتیاطی تدابیر اختیار کیوں نہ کرلی جائیں اسے کوئی روک نہیں سکتا اور وہ وقت ِ معینہ پر آکر رہے گی۔ اسی طرح بڑھاپے کو بھی کوئی دوا ٹال نہیں سکتی ، کیوں کہ بڑھاپا طاری ہی اسی لئے ہوتا ہے کہ اب اس کا کام اس دنیا سے ختم ہوگیا اس لئے اسے بڑھاپے کی منزل میں پہنچادیا گیا جس میں وہ کچھ دن مبتلا رہ کراس دنیا سے رخصت ہوجائے گا چنانچہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا :اللہ کے بندو ! علاج کراؤ اس لئے کہ اللہ عزوجل نے موت اور بڑھاپے کے سوا جو بھی بیماری اتاری ہے اس کے لئے شفا بھی رکھی ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن نے باطنی تضاد کو انسانی اخلاقی زوال کی ایک بڑی علامت قرار دیا ہے
عیادت سے مریض کی صحت کو تقویت ملتی ہے: یہیں سے عیا دت کی شرعی حیثیت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی مصیبت اور بیماری میں مبتلاہوتو دوسرے بھائی کو چاہئے کہ وہ اس کی عیادت کے لئے پہنچے اور مریض کو تسلی بخش باتیں سنا کر لوٹے ۔ اس سے مریض کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی یہ خیر خواہی مریض کے حق میں اتنی مفید ہوتی ہے کہ کوئی دوا بھی اس کا بدل نہیں ہوتی اور بیمار باتو ں باتوں میں اچھا ہوجاتا ہے اور بستر مرض سے اٹھ کرچلنے پھرنے لگتا ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ :’’جو مسلما ن کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس پر رحمت کی دعا بھیجتے ہیں ، اگروہ شام کے وقت اس کی عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس پر رحمت کی دعا بھیجتے ہیں اور جنت میں اس کے لئے پھل ہوں گے ۔‘‘ عیادت نہ صرف یہ کہ اپنے قریب ترین رشتہ دار کی کی جائے بلکہ اس کے مستحق سارے لوگ ہیں ، یہاں تک کہ غیر مسلموں کی بھی کی جانی چاہئے۔ اللہ کے رسول ؐ کا اس پر کثرت سے عمل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ نے مسلمانوں کو تا کید کے ساتھ فرمایا : ’’بھوکے کو کھا نا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو ، اور قیدی کو چھڑاؤ ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اخلاص کا ایک ذرّہ
بیما ری سے گناہ کم ہوتے ہیں:تندرستی کے برقرار رہنے کے لئے ضروری ہے کہ انسانوں کا واسطہ چھوٹی موٹی بیماری سے پڑتا رہے تاکہ اس کے جسم سے غیر ضروری اجزاء اور فضلات کا اخراج ہوتا رہے ۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ گناہ کم ہوتے ہیں .کیوں کہ اللہ تعالیٰ جس بندے سے خفا ہوتا ہے تو اسے بیماری میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ بندہ نے جو گناہ کیا ہے اس کی مدافعت ہو جائے . چنا نچہ اللہ کے رسولؐ نے فر ما یا :
’’مسلما نوں کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے یہاں تک کہ اسے کوئی کا نٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے گنا ہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ اگر کسی مؤمن بندے کو یہ اندازہ ہو جائے کہ بیما ری اور مصیبت کے ذریعہ اسے کتنا بڑا فائدہ پہنچنے والا ہے تو وہ یہی چاہے گا کہ ہمیشہ بیماری میں مبتلا رہے . جیسا کہ رسولؐ نے فرما یا : ’’جو لوگ عافیت میں ہیں ، قیامت کے دن جب کہ مصیبت زدوں کو ثواب دیا جائے گا ، یہ چاہیں گے کاش ! دنیا میں قینچیوں سے ان کی کھا لوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جا تے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: صاحبو، ماہ ِرمضان گزرگیا، اب کیا؟
ایک دوسری حدیث میں بیماری کومسلما نوں کے لئے ایک نعمت اور اس کے گنا ہوں کا کفارہ قرار دیتے ہوئے فرما یا گیا: ’’جس مسلمان کو کا نٹا چبھنے کی یا اس سے بڑی کو ئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اس کی غلطیوں کو اس طرح ختم کر دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتاہے۔