ہمارے یہاں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ لباس صرف سادہ ہونا چاہئے ۔ جبکہ اسلامی احکام کے مطابق لباس کی بنیادی شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ستر کو مکمل طور پر چھپانے والا ہو، موسم کی سردی و گرمی سے حفاظت کا ذریعہ بنے، مرد اور عورت کی جنسیت کے امتیاز کو واضح کرے، اور اس میں کسی غیر قوم کی مشابہت نہ خالی ہو۔
لباس کے معاملے میں اسلام میں آسانی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ شرعی حدود میں رہتے ہوئے معمولی یا قیمتی، ہر قسم کا لباس پہنا جا سکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
انسان کی بنیادی اور فطری ضروریات میں لباس کو جو مقام حاصل ہے، وہ محض تن ڈھانپنے یا موسم کی سختیوں سے بچنے تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی تہذیبی شناخت، عفت و حیا کا مظہر اور اس کی شخصیت کا ترجمان بھی ہے۔ لباس کے معاملے میں دین ِ اسلام نے کوئی ایسی غیرضروری تنگی اور سختی نہیں برتی جیسی عام طور پر کم علمی یا کج فہمی کے سبب لوگوں نے سمجھ رکھی ہے۔ شریعت ِ مطہرہ نے زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح لباس کے معاملے میں بھی واضح اور متوازن اصول متعارف کروائے ہیں، جن کا مقصود اخلاقی پاکیزگی اور معاشرتی وقار کا تحفظ ہے۔
اسلامی احکام کے مطابق لباس کی بنیادی شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ستر کو مکمل طور پر چھپانے والا ہو، موسم کی سردی و گرمی سے حفاظت کا ذریعہ بنے، مرد اور عورت کی جنسیت کے درمیان امتیاز کو واضح کرے، اور کسی غیر قوم کی شعائراتی مشابہت سے خالی ہو۔ ساتر ہونے کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ بدن نظر نہ آئے بلکہ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اعضاے مستورہ کی ساخت اور باڈی شیپ نمایاں نہ ہو۔ رنگوں کے انتخاب میں مَردوں کے لئے سفید رنگ کو پسندیدہ قرار دیا گیا، تاہم دیگر رنگوں کے لباس پہننے کی بھی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ وہ تکبر یا شہرت کا ذریعہ نہ بنیں۔ اسی طرح مَردوں کیلئے یہ پابندی بھی رکھی گئی کہ وہ ریشم نہ پہنیں اور ان کا لباس ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکے۔
یہ بھی پڑھئے: ایسے تھے وہ اساتذۂ کرام اور طلباء!
جہاں تک غیر قوموں کی مشابہت کا تعلق ہے اس معاملے میں بھی ویسی شدت اختیار نہیں کی گئی جو آج کل کے بعض حلقوں میں دیکھنے میں آتی ہے۔ خود سیرتِ طیبہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رومی جبہ زیب ِ تن فرمایا تھا۔ جب کوئی لباس کسی خاص قوم کی دینی یا مذہبی شناخت نہ رہے بلکہ وہ بین الاقوامی یا عمومی لباس کی شکل اختیار کر لے تو اس کے اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ جمعہ، عیدین، شادی بیاہ اور دیگر مسرت کے مواقع پر نئے، اچھے اور باوقار لباس کا اہتمام کرنا بھی ثابت ہے، البتہ اس میں اسراف اور فضول خرچی سے گریز کرنا لازم ہے۔
نبی کریمﷺلباس کے معاملے میں کو ئی (خاص تکلف یا) اہتمام نہیں فرماتے تھے، جومیسر آتا اس کو استعمال فرماتے تھے، کبھی عمدہ لباس بھی آپؐنے زیب تن فرمایااورکبھی معمولی بھی۔ آپؐ ؐ اپنے زمانے اور علاقے کے رواج کے مطابق عام لباس پہنتے تھے۔ آپؐ تہبند، چادر، کرتا، عمامہ اور ٹوپی استعمال کرتے تھے، جو زیادہ تر عام سوتی کپڑے ہوتے تھے۔ کبھی کبھار آپؐ باہر کے علاقوں سے آنے والے اچھے لباس یا یمنی چادریں اور شامی جبّہ بھی پہن لیا کرتے تھے۔
اس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ لباس کے معاملے میں اسلام میں آسانی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اسلامی حدود میں رہتے ہوئے معمولی یا قیمتی، ہر قسم کا لباس پہنا جا سکتا ہے۔ ہر خطے اور زمانے کے لوگ شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا پسندیدہ لباس پہن سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ تہذیب کی ترقی اور جغرافیائی حالات کی وجہ سے لباس بدلتے رہتے ہیں، اس لیے شریعت نے کسی خاص قسم کے لباس کو ضروری قرار نہیں دیا، بلکہ صرف بنیادی اصول دیے ہیں جن پر ہر دور میں آسانی سے عمل کیا جا سکتا ہے۔
اچھا لباس پہننا جائز اور پسندیدہ ہے
اسلام میں صاف ستھرا اور اچھا لباس پہننا ممنوع نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا اظہار اور پسندیدہ عمل ہے۔ قرآن مجید میں ہے : ’’اﷲ کی اس زینت (و آرائش) کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے ۔‘‘ (سورہ الاعراف:۳۲)
یہ بھی پڑھئے:حضرت بلالؓ کی تین اذانیں
ابوالاحوص اپنے والد حضرت مالک بن نضلہ الجشمیؓسے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں حضورؐ کے پاس معمولی کپڑوں میں حاضر ہوا تو آپؐ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپؐ نے پوچھا: کیا مال ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے اونٹ، بکری، گھوڑے اور غلام وغیرہ سب کچھ دے رکھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: جب اللہ نے تمہیں مال دیا ہے تو چاہئے کہ اللہ کی نعمت کا اثر تم پر ظاہر ہو اور اس کی عزت بھی ظاہر ہو۔(ابوداؤد)
مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو حلال و حرام ٹھہرانا صرف اس ذات پاک کا حق ہے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے، کسی دوسرے کی اس میں مداخلت جائز نہیں، اس لئے وہ لوگ قابلِ عتاب ہیں جو اللہ کی حلال کی ہوئی عمدہ پوشاک یا پاکیزہ اور لذیذ خوراک کو حرام سمجھیں۔ وسعت ہوتے ہوئے پھٹے حالوں، گندہ، پراگندہ رہنا نہ تو اسلام کی تعلیم ہے، نہ ہی اسے پسند کیا گیا ہے۔
اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ سلف صالحین اور ائمۂ اسلام میں بہت سے اکابر؛ جن کو اللہ تعالیٰ نے مالی وسعت عطا فرمائی تھی اکثر عمدہ اور بیش قیمت لباس استعمال فرماتے تھے۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ سے منقول ہے کہ چار سو گنّی کی قیمت کی چادر استعمال فرمائی۔ اسی طرح امام مالکؒ ہمیشہ نفیس اور عمدہ لباس استعمال فرماتے تھے، ان کیلئے تو کسی صاحب نے سال بھر کیلئے تین سو ساٹھ جوڑوں کا سالانہ انتظام اپنے ذمّے لیا ہوا تھا۔
اگر عمدہ لباس پہن کر آدمی کی طبیعت میںکوئی فخر اور غرور پیدا نہ ہو تو کوئی حرج کی بات نہیں، اللہ تعالیٰ نے نعمت دی ہے تو پہن سکتاہے۔ تاہم اگر عمدہ لباس پہن کر طبیعت میں غرور آتا ہےاور اس لباس کی وجہ سے آدمی دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے تو ایسا لباس اس کے لئے ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔ یہی حال معمولی لباس کا بھی ہے، بعض لوگ معمولی لباس پہن کر اپنی تواضع کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، اس کو بھی شریعت پسند نہیں کرتی۔ہاں اگر واقعتاً تواضع اور خاکساری کی وجہ سے معمولی لباس زیب ِ تن کرتا ہے تو پسندیدہ ہے، کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ بہرحال کوئی بھی شکل ہو، شریعت کی ہدایت کے خلاف نہیں ہونا چاہئے۔ (محمودالخصائل شرح الشمائل)
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: ماں باپ کے ترکہ میں تمام لڑکے لڑکیاں سہام شرعیہ کے مطابق حقدار ہوتے ہیں
لباس کے متعلق جامع آیت
اللہ تعالیٰ نے لباس کے متعلق ایک آیت میں جامع ہدایات دیتے ہوئے فرمایا: ’’اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اور (اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک باطنی لباس بھی اتارا ہے اور وہی) تقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔‘‘ (سورہ الاعراف:۲۶)
اس میں انسان کے لئے لباس کی اہمیت بھی بیان فرمائی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لباس کا اصل مقصد جسم کا پردہ ہے اور ساتھ ہی لباس انسان کیلئے زینت اور خوشنمائی کا بھی ذریعہ ہے۔ ایک اچھے لباس کی صفت یہ ہونی چاہئے کہ وہ مذکورہ دونوں مقصد پورے کرے اور جس لباس سے پردے کا مقصد حاصل نہ ہو وہ انسانی فطرت کے خلاف ہے، نیز ظاہری لباس پہننے کے ساتھ ساتھ انسان کو یہ فکر بھی رکھنی چاہیے کہ وہ تقوے کے لباس سے آراستہ ہو جو زیادہ اہم لباس ہے۔(توضیح القرآن)