لاک ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں، یہ خود ایک مسئلہ ہے

Updated: May 10, 2020, 1:13 PM IST | Qutbuddin Shahid

تئیس مارچ کو وزیراعظم مودی نے جب ملک میں پہلے مرحلے کے لاک ڈاؤن کااعلان کیا تھا، تو اس بات کا بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس درمیان کورونا کو’ قابو‘ میں کرلیاجائے گا.... لیکن ایساکچھ نہیں ہوا۔ کورونا ہنوز’ آزاد‘ ہے۔ کامیابی اسلئے نہیں ملی کیونکہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جو کچھ کیا جانا چاہئے تھا، وہ ہم نے نہیں کیا۔ ہم نے صرف لاک ڈاؤن ہی کو مسئلے کا حل سمجھ لیا

Lockdown - Pic : PTI
لاک ڈاؤن ۔ تصویر : پی ٹی آئی

جن لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوتا یا احساس ہوتا ہے مگر ان میں اس غلطی کے اعتراف کی طاقت نہیں ہوتی، وہ اپنی اصلاح نہیں کرپاتے۔ وہ غلطیوں پر غلطیاں کرتے ہیں اور ان غلطیوں کی مختلف توجیحات و تاویلات بھی پیش کرتے ہیں لیکن  دیر سویر انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑتا ہے۔  ان دنوں کچھ اسی طرح کی کیفیات سے ہماری حکومت بھی گزر رہی  ہے۔۲۳؍ مارچ کو وزیراعظم نریندر مودی نے  کورونا سے نمٹنے کیلئے جب ملک گیر سطح پر۲۱؍ دنوں کیلئے لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلے کااعلان کیا تھا تو اس بات کا بھی دعویٰ کیاتھا کہ ان تین ہفتوں میں کورونا وائرس کو نہ صرف پھیلنے سے روک دیا جائے گا بلکہ اسے’کنٹرول‘ بھی کر لیا جائے گا لیکن ایساکچھ نہیں ہوا۔یکے بعد دیگرے لاک ڈاؤن میں تیسری مرتبہ توسیع کی گئی ،اس کے باوجود متاثرین اور مہلوکین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اس معاملے میں ہمیں کامیابی اسلئے نہیں ملی کیونکہ اس تباہ کن وائرس سے نمٹنے کیلئے جو کچھ کیا جانا چاہئے تھا، وہ ہم نے نہیں کیا۔ہم نے صرف لاک ڈاؤن ہی کو مسئلے کا حل سمجھ لیا جبکہ ایسا نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں، یہ خود ایک مسئلہ ہے۔
 افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کو ابھی بھی بغیر سوچے سمجھے اور بغیرتیاری کے لاک ڈاؤن کے اعلان کئے جانے کی اپنی غلطی کا احساس نہیں ہے اور اگر ہے تو اس میں اس کے اعتراف کی طاقت نہیں ہے جس کی وجہ سے اصلاحات کے امکانات بھی معدوم نظر آرہے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ اس کا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑرہا ہے۔  
 کورونا یقیناً ایک خطرناک وائرس ہے جس سے دنیا کے بیشتر ممالک جوجھ رہے ہیں۔ کئی ممالک  میں کورونا نے خاصی تباہی مچائی ہے۔ بڑی طاقتیں بھی اس کے آگے بے بس دکھائی دے رہی ہیں۔ چین سے شروع ہونےوالی یہ  بیماری  ان دنوں امریکہ، روس، برطانیہ اور فرانس میں قہر ڈھا رہی ہے ۔ ان پانچ ممالک کاشمار دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں میں ہوتا ہے جودرپردہ پوری  دنیا پر راج کررہی ہیں۔ دنیا بھر میں اب تک ۴۰؍ لاکھ سے زیادہ افراد اس بیماری سے متاثر پائے گئے ہیں جن میں سےتقریباً نصف یعنی ۱۹؍ لاکھ ۹۱؍ ہزار متاثرین سے زائد کا تعلق انہی پانچ ممالک سے ہے۔ اسی طرح اس  وبا کی وجہ سے تقریباً ۲؍ لاکھ ۸۰؍   ہزار انسانی جانوں کا اتلاف ہوا ہے جن میں سے ایک لاکھ ۴۲؍ ہزار ۵۴۷؍ کاتعلق دنیاکی انہیں ۵؍ بڑی طاقتوں سے ہے۔   ان میں اگر اسپین ، اٹلی اور جرمنی کو بھی شمار کرلیا جائے تو پتہ چلے گا کہ کورونا کی وجہ سے ہونے والی کل تباہی کا بڑا حصہ انہی ممالک کے حصے میں آیا ہے۔
 یہاں ان ممالک کا تذکرہ  اسلئے نہیں کیا گیا ہے کہ ان کی تباہی سے ہم اطمینان کی سانس لیں کہ چلو ہمارے یہاں غنیمت ہے یا ہم کم خسارے میں ہیں بلکہ ان کے تذکرے کی ضرورت اسلئے پڑی کہ ان تمام ممالک نے ’کورونا قہر‘ پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے۔  اتنی بڑی تباہی کے بعد اس پر قابو پانا کوئی آسان کام نہیں  تھا لیکن ان میں سے بیشتر ممالک نے  اس بیماری کو اپنے یہاںپھیلنے سے روک دینے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک نے صرف لاک ڈاؤن ہی کو سب کچھ نہیں سمجھا بلکہ لاک ڈاؤن کے درمیان ملنے والی مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کورونا کو ’کنٹرول‘ کرنے کی کوشش کی۔
 لاک ڈاؤن کا مطلب یہ تھا کہ جو جہاں ہے، وہ وہیں رہے، آواجاہی بند ہو، بھیڑ بھاڑ کم ہو اور ایک دوسرے سے میل ملاقات کا سلسلہ رُکے جبکہ اس کا مقصد تھا کہ اب تک  کورونا کے جتنے متاثرین ہیں، ان کی شناخت کی جائے،  ان کی جانچ ہو، انہیں الگ تھلگ کیا جائے تاکہ دوسرے اس کا شکار نہ ہوں اوران کا علاج کرکے ملک کے کورونا سے پاک ہونے کااعلان کیا جائے.... مگر افسوس کہ ہماری حکومت نے  ٹھیک سے لاک ڈاؤن کا مطلب سمجھا، نہ ہی اس کے مقصد پر توجہ دی۔ اگراس نے لاک ڈاؤن کامطلب ٹھیک سے سمجھا ہوتا تو اس کا اچانک اعلان نہیں کرتی بلکہ پہلے اس کی تیاری کرتی۔حکومت کواس بات کااندازہ ہونا چاہئے تھا کہ اگر یوں اچانک لاک ڈاؤن کاا علان کر دیاگیا تو ملک میں پھیلے کروڑوں مہاجر مزدورں اور ملک کے مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ کا کیا ہوگا؟یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ۱۳۰؍ کروڑ کی آبادی والی گاڑی کے پہئے کو اچانک روک دینے کی بات تھی۔ ایسے میں جھٹکا لگنا یقینی تھا،اسلئے سوچ سمجھ کر بریک لگانا چاہئے تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے قبل سیاسی جماعتوںکو اعتماد میں لیاجاتا، ریاستوں کو آگاہ کیا جاتا اور ماہرین سے مشورہ کیا جاتا ۔  
 ہماری حکومت جو ہر بات میں چین، امریکہ اور برطانیہ کی نقل کرتی ہے،اس نے اس معاملے میں ان سے  بھی کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ایسا قطعی نہیں تھا کہ کورونا وائرس اچانک حملہ آور ہوا تھا، اسلئے حکومت کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا اور وہ عجلت میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئی... بالکل بھی نہیں....  سچ تو یہ ہے کہ حکومت نے ابتدائی دنوں میں نہ صرف خود کافی تساہلی برتی بلکہ عوام کو بھی بہت دنوں تک مغالطے میں رکھا۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کی جانب سے ۱۱؍ مارچ کو کورونا کو وبائی  مرض کے طور پر اعلان کردیاگیا تھا لیکن۱۳؍ مارچ کو ہماری حکومت نے سرکاری طور پریہ اعلان کیا کہ ’’ملک میں طبی ایمرجنسی جیسا کوئی معاملہ نہیں ہے،اسلئے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اسے حکومت کی مجرمانہ چشم پوشی  نہ کہیں تو کیا کہیں کہ ملک میں ۳۰؍ جنوری ہی کو کورونا دستک دے چکا تھا،اس کے باوجود  ۲۵۔۲۴؍ فروری کو ’نمستے ٹرمپ‘ کے نام پر دہلی تا احمد آباد ہنگامہ برپا کیاگیا اور سیاسی فائدے کیلئے لاکھوں افراد کو یکجا کیاگیا جبکہ پڑوسی ملک چین کے حوالے سےکورونا کی سفاکیت کا اندازہ ہوچکا تھا اور یہ بھی پتہ تھا کہ میل جول ہی سے یہ بیماری پھیلتی ہے۔    
  حکومت نے ۲۳؍ مارچ کی شام میں جب  رات ۱۲؍ بجے سے تین ہفتوں کیلئے لاک ڈاؤن کاا علان کیا تھا،اُس وقت ملک بھر میں کورونا کے ۵۳۶؍ متاثرین اور ۱۰؍ مہلوکین تھے  اور آج جبکہ لاک ڈاؤن کو ڈیڑھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، متاثرین کی تعداد میں ۱۰۰؍ اورمہلوکین کی تعداد میں ۲۰۰؍گنا کا اضافہ ہوچکا ہے۔مطلب صاف ہےکہ لاک ڈاؤن کا فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ اِس وقت ملک بھر میں ۶۰؍ ہزار سے زائد کورونا کے متاثرین  ہیں جبکہ اس دوران ۲؍ ہزار سے زائد انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کو ابھی بھی اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اس سے کہاں غلطی ہوئی ہے ؟ یا پھر وہ جان بوجھ کر ہٹ دھرمی کامظاہرہ کررہی ہے۔ 
 دنیا کے وہ تمام ممالک جہاں کورونا نے قہر ڈھایا لیکن اب وہ کورونا کو کنٹرول کرنے میں کامیاب رہے، انہوں نے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹنگ کے فارمولےپر عمل کیا۔اس معاملے میں ہم بہت پیچھے ہیں بلکہ حکومتی اقدامات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ٹیسٹنگ ہماری ترجیحات  میں شامل ہی نہیں ہے۔ امریکہ میں ہر دس لاکھ کی آبادی میں ۲۶؍ ہزار ۹۹؍ افراد کی ٹیسٹنگ ہوچکی ہے جبکہ اسپین میں یہ تعداد ۴۱؍ ہزار۳۳۲؍ ہے۔  اٹلی میں کم و بیش ۴۰؍ ہزار ہے تو برطانیہ، روس اور فرانس میں یہ تعداد بالترتیب  ۲۴؍ ہزار ، ۳۵؍ ہزار ۲۱؍ ہزار سے زائد ہے۔ہندوستان میں یہ شرح افسوس ناک حد تک کم ہے یعنی  ہمارے یہاں ہر دس لاکھ کی آبادی میں صرف ۱۱۰۴؍ افراد ہی کی ٹیسٹنگ ہوسکی ہے۔ ہم سے کہیں بہتر پوزیشن میں وہ چھوٹے ممالک ہیں جنہیں ہم خاطر میں نہیں لاتے۔  مالدیپ میں جہاں  یہ شرح ۲۰؍ ہزار ۹۰۳؍ ہے وہیں سری لنکا اور پاکستان میں بالترتیب ۱۵۸۳؍ اور ۱۲۲۲؍ ہے۔ ہنگری جیسے ملک میں ہر دس لاکھ کی آبادی میں سے  ایک لاکھ ۷؍ ہزار اور پرتگال میں ۴۹؍ ہزار افراد کی جانچ کرلی گئی ہے۔ ٹیکنالوجی اورطبی شعبے میں’ محتاج‘ قرار دیئے جانے والے عرب ممالک بھی ہم سے بہت آگے ہیں۔  متحدہ عرب امارات اور بحرین میں جہاں ہر دس لاکھ کی آبادی میں سے ایک لاکھ سے زائد افراد کی ٹیسٹنگ کرلی گئی ہے، وہیں قطر، کویت اور سعودی عرب میں یہ شرح بالترتیب ۴۳؍ ہزار، ۴۶؍ ہزار اور ۱۲؍ ہزار ہے۔
 اب جبکہ۴۷؍ دنوں کے لاک ڈاؤن کے بعد بھی مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے، حکومت کو اپنی ترجیحات میں تبدیلی لانی چاہئے۔ کورونا پرقابوپانے کیلئے ماہرین سے رجوع ہونا چاہئے،ملک کی گاڑی ٹھیک سے چلے،اس کیلئے حزب اختلاف کی رائے کو اہمیت دینی چاہئے اوران سب سے زیادہ یہ کہ ہر کام میں سیاسی فائدہ تلاش نہیں کیا جانا چاہئے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK