عالمی سطح پرووڈکاسٹ کی ترقی دراصل ایک بڑی میڈیا تبدیلی کا حصہ ہے۔ یوٹیوب، اسپوٹیفائی اور اس طرح کے دیگر پلیٹ فارمز نے ویڈیو پوڈکاسٹ کو مرکزی حیثیت دینا شروع کر دی ہے۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 8:58 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
عالمی سطح پرووڈکاسٹ کی ترقی دراصل ایک بڑی میڈیا تبدیلی کا حصہ ہے۔ یوٹیوب، اسپوٹیفائی اور اس طرح کے دیگر پلیٹ فارمز نے ویڈیو پوڈکاسٹ کو مرکزی حیثیت دینا شروع کر دی ہے۔
ایک وقت تھا جب پوڈکاسٹ صرف آواز کا کھیل تھا۔ لوگ گاڑی چلاتے ہوئے، واک کرتے ہوئے یا سوتے وقت ہیڈفون لگا کر کسی کی باتیں سنتے تھے۔ اس میں تخیل کی گنجائش تھی، خاموشی کا حسن تھا، اور ایک غیر مرئی دنیا تھی جہاں آواز ہی سب کچھ تھی۔ مگر آج وہی دنیا ایک واضح تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ اب وہی میز، وہی مائیکروفون اور وہی گفتگو کیمرے کے سامنے آ چکی ہے۔ یہی تبدیلی پوڈکاسٹ کو ’ووڈکاسٹ‘ میں بدل رہی ہے، اور یہ صرف فارمیٹ کی تبدیلی نہیں ہے بلکہ ڈجیٹل میڈیا، کاروبار اور صارفین کے رویے کی بھی تبدیلی ہے۔
پوڈکاسٹ کی کامیابی کی بنیاد اس کی سادگی تھی، مگر جیسے جیسے دنیا ’ویڈیو فرسٹ‘ بنتی گئی، صارفین کی ترجیحات بھی بدل گئیں۔ آج معلومات تلاش کرنے کیلئے لوگ تیزی سے ویڈیو پلیٹ فارمز کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہی گفتگو جو کبھی صرف سننے کیلئے ہوتی تھی، اب دیکھنے کیلئے بھی پیش کی جا رہی ہے۔ جب کسی میزبان کا چہرہ، اس کے تاثرات اور گفتگو کا ماحول شامل ہو جاتا ہے تو سامع (ناظر) کا تعلق زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہی بصری قربت ووڈکاسٹ کو ایک طاقتور میڈیم بناتی ہے اور یہی اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ ہے۔
عالمی سطح پر ووڈکاسٹ کی ترقی دراصل ایک بڑی میڈیا تبدیلی کا حصہ ہے۔ یوٹیوب، اسپوٹیفائی اور دیگر پلیٹ فارمز نے ویڈیو پوڈکاسٹ کو مرکزی حیثیت دینا شروع کر دی ہے۔ اشتہارات، برانڈ انٹیگریشن اور اسپانسرشپ کے نئے طریقے اس فارمیٹ میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ ویڈیو میں نہ صرف آواز بلکہ بصری عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پوڈکاسٹ اور ووڈکاسٹ انڈسٹری تیزی سے اربوں ڈالر کی مارکیٹ میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ کنٹینٹ اب صرف معلومات دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل کاروباری ماڈل بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: اسکین کرکے بل کی ادائیگی کی، مگر اصل’’ قیمت‘‘ کیا ادا کی؟
اگر اس رجحان کو کسی ایک ملک میں سب سے زیادہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہندوستان ہے۔ ہمارے ملک میں پوڈکاسٹ مارکیٹ تیزی سے وسیع ہورہا ہے اور اندازہ ہے کہ آنے والے برسوں میں اس کی مالیت کئی گنا ہوجائے گی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان اب’موبائل فرسٹ‘والا ملک بن چکا ہے جہاں ویڈیو دیکھنے کی عادت پہلے بھی تھی، مگر اب مزید پختہ ہوگئی ہے۔ سستے ڈیٹا اور یوٹیوب تک آسان رسائی نے ویڈیو کو ہر طبقے تک پہنچا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پوڈکاسٹ ویڈیو میں تبدیل ہوتا ہے تو وہ بڑے پیمانے پر فوراً مقبول ہو جاتا ہے۔
ہندوستان میں ووڈکاسٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سمجھنے کیلئے یہاں کے کریئیٹرز کے متعلق بھی جاننا ضروری ہے۔ راج شامانی نے اپنے شو ’’فگرنگ آؤٹ‘‘ کے ذریعے کاروبار، کریئر اور زندگی کے موضوعات کو ویژول انٹرویوز کی شکل میں پیش کیا، جس نے نوجوانوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ اسی طرح دھرو راٹھی نے معلوماتی ویڈیوز کے ذریعے ایک ایسا فارمیٹ متعارف کروایا جس میں تحقیق، وضاحت اور بصری پیشکش ایک ساتھ چلتی ہے، جو ووڈکاسٹ کے تصور کے قریب ہے۔ پراجکتا کولی نے بھی گفتگو اور ویژول اسٹوری ٹیلنگ کو ملا کر ایک ایسا انداز اپنایا جو نئی نسل کیلئے زیادہ پرکشش ہے۔ یہ تمام مثالیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ ہندوستان میں ووڈکاسٹ صرف ایک فارمیٹ نہیں بلکہ ایک مکمل میڈیا انقلاب ہے۔
اس تبدیلی کا سب سے اہم پہلو اس کا بزنس ماڈل ہے۔ روایتی پوڈکاسٹ زیادہ تر اشتہارات پر منحصر تھے، مگر ووڈکاسٹ نے آمدنی کے ذرائع کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ یوٹیوب ایڈ ریونیو، برانڈ کولیبریشن، لائیو ایونٹس اور سبسکرپشن جیسے ماڈلز نے کریئیٹرز کو ایک مضبوط مالی بنیاد فراہم کی ہے۔ اس کے ساتھ contentpreneurship کا تصور بھی ابھرا ہے، جہاں ایک فرد نہ صرف مواد تخلیق کرتا ہے بلکہ اپنا ذاتا برانڈ اور کاروبار بھی قائم کرتا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل کی معیشت میں کریئیٹرز کا کردار مزید اہم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ’’دھرندھر اِفیکٹ‘‘ اور فلمی معیشت کی نئی حقیقت
ووڈکاسٹ کی کامیابی کے پیچھے ایک بنیادی انسانی حقیقت ہے کہ لوگ صرف سننا نہیں چاہتے بلکہ دیکھنا اور محسوس کرنا بھی چاہتے ہیں۔ ویڈیو ایک ایسا میڈیم ہے جو اعتماد پیدا کرتا ہے اور تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔ جب سامع میزبان کو دیکھتا ہے تو وہ اس کے ساتھ ایک ایسا تعلق قائم کرتا ہے جو محض آواز کے ذریعے ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ووڈکاسٹ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور یہ تبدیلی کسی عارضی رجحان کے بجائے ایک فطری ارتقاء معلوم ہوتی ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ آڈیو پوڈکاسٹ ختم ہو جائیں گے۔ آڈیو ہمیشہ اپنی جگہ برقرار رکھے گا، خاص طور پر ان لمحات میں جہاں اسکرین دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ مگر یہ واضح ہے کہ ترقی اور توسیع اب ویڈیو کے ذریعے ہوگی۔ مستقبل میں ہم ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہر پوڈکاسٹ ویڈیو میں بھی دستیاب ہوگا اور ہر ویڈیو کو آڈیو میں بھی سنا جا سکے گا۔ یہ ہائبرڈ ماڈل ہی آنے والے وقت کی میڈیا حقیقت ہوگا۔
پوڈکاسٹ سے ووڈکاسٹ کا سفر اس بات کی کہانی ہے کہ انسان اور اس کی ترجیحات کیسے بدل رہی ہیں۔ یہ صرف ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں بلکہ توجہ، تعلق اور اعتماد کی نئی تعریف ہے۔ ہندوستان میں یہ تبدیلی خاص طور پر تیز ہے کیونکہ یہاں نوجوان آبادی، ویڈیو کلچر اور بڑھتی ہوئی کریئیٹر اکنامی ایک ساتھ مل کر ایک نیا میڈیا ایکو سسٹم بنا رہی ہے۔ شاید اسی لئے آنے والے وقت میں آواز کافی نہیں ہوگی، بلکہ چہرہ بھی عیاں کرنا ہوگا کیونکہ ڈجیٹل دنیا میں اب کہانی صرف سنائی نہیں، دکھائی بھی جاتی ہے۔