• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: کیا جین زی معیشت کا ’’پاور سینٹر‘‘ بن رہی ہے؟

Updated: February 15, 2026, 9:25 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

یہ نسل خود کو ایک پروڈکٹ (مصنوع) سمجھتی ہے، جسے اَپ گریڈ کر کے بہتر قیمت پر بیچا جا سکتا ہے، اس کی یہ سوچ کارپوریٹ سیکٹر کیلئےایک واضح چیلنج ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گزشتہ ہفتے معاشیانہ میں جین زی کی مالی سوچ کے فلسفہ کا احاطہ کیا گیا تھا۔ آج پڑھئے کہ اس کی یہ سوچ عملی طاقت کیسے بنتی ہے۔جین زی کی تیسری اہم عادت ہے Mercenary Upskilling (مسینری اَپ اسکلنگ) یعنی ڈگری نہیں بلکہ ایسی اسکل میں مہارت جسے وہ ’فروخت‘ کرکے پیسے کماسکے۔ مِلینیئلز کی معاشی زندگی ایک واضح راستے پر چلتی رہی ہے: تعلیم، نوکری، ترقی، اور ریٹائرمنٹ۔ جین زی نے اس راستے کو غیر ضروری حد تک سست اور غیر یقینی سمجھا۔ اس نے سوال پوچھا ’’اگر مارکیٹ ہر ۳؍ سال میں بدل رہا ہے تو ڈگری حاصل کرنے میں ۳؍ سال کیوں صرف کرنا؟‘‘ یہیں سے مسنیری اَپ اسکلنگ کا تصور سامنے آیا ، یعنی وہ مہارتیں سیکھنا جن سے فوراً پیسے کمائے جاسکیں۔ ہندوستان میں یہ رجحان خاص طور پر مضبوط ہوا ہے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے؛ اے آئی ٹولز، یوٹیوب اور مائیکرو لرننگ، کم لاگت یا مفت آن لائن بوٹ کیمپس اور فری لانس اور گِگ اکنامی۔ جین زی کیلئے سیکھنا اب ایک وقتی مرحلہ نہیں بلکہ ایسا بزنس ماڈل ہے جو مسلسل چلتا رہتا ہے۔ جین زی خود کو ایک پروڈکٹ (مصنوع) سمجھتی ہے، جسے اَپ گریڈ کر کے بہتر قیمت پر بیچا جا سکتا ہے۔ اس نسل کی یہ سوچ کارپوریٹ سیکٹر کیلئےایک واضح چیلنج ہے، جہاں روایتی ہائرنگ ماڈلز اب غیر متعلق ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: نیوٹریشن لیبل: سائیلنٹ سیلزمین اور صارف کا ’سائیلنٹ فرینڈ‘

جین زی کی چوتھی عادت ہے Algo-driven Investing (الگو ڈریون انویسٹنگ) یعنی جذبات سے آزادی۔ مِلینیئلز کی سرمایہ کاری اکثر خوف، لالچ اور جذبات کے زیرِ اثر رہی ہے۔ جین زی نے سرمایہ کاری میں ایک بنیادی تبدیلی کی ہے، جس میں انسانی فیصلوں کا عمل دخل کم ہوتا ہے۔ Algo-driven Investing کا مطلب ہے، خودکار پورٹ فولیو ری بیلنسنگ، ڈیٹا پر مبنی فیصلے، جذباتی اتار چڑھاؤ سے تحفظ اور طویل مدتی نظم و ضبط۔ ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے، جن میں بڑی تعداد مِلینیئلز اور جین زی کی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جین زی الگورتھمز اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہے۔ یہ رجحان صرف نوجوان سرمایہ کاروں تک محدود نہیں رہا۔بینک، فِن ٹیک کمپنیاں اور ویلتھ مینجمنٹ ادارے بھی اب ’’اے آئی فرسٹ‘‘ سرمایہ کاری ماڈلز پر منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ مستقبل میں سرمایہ کاری کا اختیار مشینوں کے ساتھ شراکت میں ہوگا، نہ کہ صرف انسانی تجربے پر۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: فرینڈز؛ انسٹاگرام کی نئی چال اور ڈجیٹل معیشت کا بدلتا چہرہ

جین زی کی پانچویں عادت ہے Dupe Economy (ڈوپ اکنامی) یعنی قیمت اہم نہیں، معیار ضروری ہے۔ یہ ایک خاموش مگر طاقتور تبدیلی ہے۔ جین زی کے نزدیک،کسی اشیاء وخدمات کا مہنگا ہونا معیار کی ضمانت نہیں ہے۔ یہ نسل برانڈز کے پیچھے نہیں بھاگتی بلکہ سوال پوچھتی ہے کہ ’’ کیا یہ واقعی بہتر اور معیاری ہے؟ کیا اس شے (یا خدمت) کی قیمت جائز ہے؟ کیا سستا متبادل وہی کام کر سکتا ہے؟‘‘ ہمارے ملک میں جہاں متوسط طبقہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، یہ سوچ بہت گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ صارفین اب ’’لوگو‘‘ نہیں بلکہ ’’معیاری ‘‘ چیزیں خرید رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ برآمد ہورہا ہے؛ لگژری برانڈز دباؤ میں ہیں، مقامی اور صارفین سے جڑے برانڈز ابھر رہے ہیں، اور قیمت اور معیار کے بیچ فرق واضح ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی صرف فیشن یا لائف اسٹائل تک محدود نہیں ہے۔ یہ خدمات، تعلیم، اور حتیٰ کہ ہیلتھ کیئر تک پھیل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: بھجن کلبنگ؛ فیک ویڈنگ کے بعد جین زی کا نیا ثقافتی رجحان

ایسے میں یہ سوال دوبارہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر جین زی کا آئی کیو اسکور کم کیوں ہورہا ہے؟ عالمی ماہرین اس رجحان کو تشویشناک قرار دے رہے ہیں، مگر معاشی حقائق کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی کیو ٹیسٹ ایک خاص قسم کی ذہانت کی پیمائش کرتے ہیں۔ جدید معیشت میں کامیابی کیلئے ایڈاپٹیو انٹیلی جنس (وقت کے ساتھ تبدیل ہونے کی ذہانت) زیادہ ضروری ہے۔ مسئلہ حل کرنے، سیکھنے، اور بدلتے حالات میں خود کو ڈھالنے کی صلاحیت زیادہ اہم ہے۔ جین زی نے یہ صلاحیتیں غیر رسمی مگر مؤثر طریقے سے حاصل کی ہیں۔ وہ دنیا کے طے کردہ معیار کے مطابق روایتی ذہانت میں شاید پیچھے ہو، مگر مارکیٹ اور مارکیٹ میں برقرار رہنے کی زبان روانی سے بولتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ’زیرو کلک‘ اور اے آئی جوابات کے سبب بدلتی ڈجیٹل معیشت

یہ تمام رجحانات ایک بڑی معاشی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہندوستان میں صارفین کی خرید و فروخت کا انداز بدل رہا ہے۔ فری لانس اور گِگ اکنامی مضبوط ہو رہی ہے۔ ڈجیٹل فنانس اور فِن ٹیک کو فروغ مل رہا ہے۔ نوکری کے بجائے مہارت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ نتیجتاً، عالمی سطح پر کارپوریٹ اسٹرکچرز دباؤ میں ہیں، تعلیم اور روزگار کے روایتی ماڈلز ٹوٹ رہے ہیں، سرمایہ کاری زیادہ خودکار ہو رہی ہے، اور نوجوان معیشت کا فعال حصہ بن رہے ہیں۔ جین زی پر ہمہ وقت تنقید کرنے والے مِلینیئلز کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس نسل سے یہ باتیں ضرور سیکھے: بجٹ کو شرمندگی نہ بنائے، بچت کو انسان دشمن نہ بنائے، سیکھنے کو زندگی کا ختم شدہ مرحلہ نہ سمجھے، سرمایہ کاری میں جذبات آڑے نہ آنے دے، اور قیمت سے زیادہ معیار کا جائزہ لیں۔ ۲۰۲۶ء میں کامیابی کا راز عمر، ڈگری، تجربہ یا آئی کیو نہیں بلکہ لچک، حقیقت پسندی اور جرات مندانہ فیصلے ہیں۔ کم آئی کیو رکھنے والی نسل جین زی نے ثابت کر دیا ہے کہ معاشی کامیابی کا تعلق صرف ذہانت سے نہیں بلکہ سمجھداری سے ہے۔ اس نے ایک ایسا مالی ماڈل اپنایا ہے جو موجودہ دنیا کے مطابق ہے، یعنی غیر یقینی، تیز رفتار، اور ڈجیٹل۔ جو نسل اس حقیقت کو جلد سمجھے گی،وہی آنے والی معیشت میں آگے ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK