• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: یادیں حقیقی ہیں یا جعلی؟ مصنوعی ذہانت انسانی یادداشت کو ازسرِنو لکھ رہی ہے

Updated: February 22, 2026, 9:41 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

’اے آئی‘ کے ذریعے روزانہ اربوں تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز تخلیق ہو رہے ہیں۔ یہ مواد اتنا حقیقی دکھائی دیتا ہے کہ عام انسان کیلئے اصلی اور جعلی میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

تصور کیجئے کہ آپ اپنے بچپن کی ایک تصویر دیکھ رہے ہیں۔ آپ کو یقین ہے کہ یہ تصویر آپ کے اسکول کے سالانہ جلسے کی ہے۔ آپ دوستوں میں گھرے ہیں اور مسکرا رہے ہیں مگر چند دن بعد آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصویر کبھی لی ہی نہیں گئی تھی۔ اسے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے تخلیق کیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ تصویر کبھی کھینچی ہی نہیں گئی تھی تو پھر آپ کی یادداشت جھوٹی ہے یا حقیقت؟

یہی وہ نیا دور ہے جس میں دنیا داخل ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے روزانہ اربوں تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز تخلیق ہو رہے ہیں۔ یہ مواد اتنا حقیقی دکھائی دیتا ہے کہ عام انسان کیلئے اصلی اور جعلی میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ اس رجحان نے نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا بلکہ معیشت، سیاست، میڈیا اور انسانی شعور تک کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی ’ڈیپ فیک‘ ٹیکنالوجی نے گزشتہ چند برسوں میں حیران کن ترقی کی ہے۔ اب کوئی بھی شخص چند کلکس میں ایسا ویڈیو بنا سکتا ہے جس میں کوئی معروف شخصیت ایسی بات کہہ رہی ہو جو اس نے کبھی کہی ہی نہ ہو۔ عالمی سیاست میں اس کے اثرات نمایاں ہو چکے ہیں۔ انتخابی مہمات کے دوران جعلی ویڈیوز رائے عامہ کو متاثر کرنے کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑحئے: معاشیانہ: کیا جین زی معیشت کا ’’پاور سینٹر‘‘ بن رہی ہے؟

معاشی طور پر اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ فیک مواد کی صنعت خود ایک بڑا مارکیٹ بن چکی ہے۔ اے آئی ٹولز بنانے والی کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر رہی ہیں۔ مگر دوسری طرف سائبر سیکوریٹی، فیک نیوز کی نگرانی، اور ڈجیٹل تصدیق کے نظام پر بھی بھاری اخراجات کئے جا رہے ہیں۔ یوں ایک نئی ’ڈجیٹل معیشت‘ جنم لے رہی ہے جس کا ایک حصہ تخلیق کرتا ہے اور دوسرا اس کی تصدیق اور روک تھام پر خرچ ہوتا ہے۔انسانی یادداشت مکمل طور پر ناقابلِ خطا نہیں ہوتی۔ ماہرین نفسیات پہلے ہی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ انسان کی یادداشت وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ اب جب مصنوعی ذہانت جعلی تصویریں اور ویڈیوز تخلیق کر رہی ہے تو یہ یادداشت کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔ فرض کیجئے کسی شخص کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتا ہے جس میں وہ کوئی متنازع بیان دیتا نظر آتا ہے۔ بعد میں ثابت ہو کہ ویڈیو جعلی تھا، مگر تب تک لاکھوں لوگ اسے دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ انسانی ذہن میں پہلا تاثر اکثر مستقل ہو جاتا ہے۔ اس طرح جھوٹا مواد اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ٹیکنالوجی انسانی شعور کو چیلنج کر رہی ہے۔

ہندوستان جیسے ممالک میں جہاں سوشل میڈیا کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے، ڈیپ فیک مواد کا اثر کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ انتخابی سیاست، مذہبی حساسیت، اور سماجی تنوع ایسے عوامل ہیں جو جعلی مواد کو خطرناک بنا دیتے ہیں۔ کاروباری سطح پر بھی اس کے اثرات واضح ہیں۔ اگر کسی بڑی کمپنی کے سربراہ کا جعلی ویڈیو وائرل ہو جائے جس میں وہ کسی مالی بحران کا اعتراف کرتا نظر آئے، تو اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہو سکتے ہیں، اور چند گھنٹوں میں اربوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اسی لئے ہندوستان میں ڈجیٹل قوانین کو مضبوط بنانے، فیک مواد کی نشاندہی کیلئے اے آئی پر مبنی سسٹمز تیار کرنے، اور عوامی شعور بیدار کرنے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف سماجی استحکام بلکہ معاشی تحفظ کیلئے بھی ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: کیا مالی سمجھداری میں جین زی نے مِلینیئلز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ٹیکنالوجی فلم اور اشتہاری صنعت میں مثبت کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ فلموں میں بصری اثرات، تاریخی کرداروں کی ڈجیٹل بحالی، اور تخلیقی تجربات اب پہلے سے زیادہ آسان ہو گئے ہیں۔ مگر جب یہی ٹیکنالوجی غلط مقاصد کیلئے استعمال ہوتی ہے تو اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ فلمی صنعت کو اب اپنی ساکھ بچانے کیلئے ڈجیٹل تصدیقی نظام اپنانے پڑ رہے ہیں۔ اداکار اور عوامی شخصیات اپنی شناخت کے تحفظ کیلئے قانونی اقدامات کر رہی ہیں۔ اس پورے عمل میں قانونی مشاورت، سائبر سیکوریٹی، اور ٹیکنالوجی کے نئے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں جو خود معیشت کا حصہ بن چکے ہیں۔

خیال رہے کہ معیشت کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے۔ اگر عوام کو یقین نہ رہے کہ وہ جو دیکھ رہے ہیں وہی حقیقت ہے، تو میڈیا، سیاست اور کاروبار سب متاثر ہوتے ہیں۔ جعلی مواد کے پھیلاؤ سے ’’اعتماد کا بحران‘‘ پیدا ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر حکومتیں اور ٹیکنالوجی کمپنیاں مل کر ڈجیٹل واٹرمارکنگ، بلاک چین پر مبنی تصدیقی نظام، اور اے آئی ڈٹیکشن ٹولز تیار کر رہی ہیں۔ یہ سب اقدامات اس لئے ضروری ہیں تاکہ انسانی یادداشت کو مکمل طور پر مشین کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیا جائے۔یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اخلاقیات اور فلسفے کا بھی ہے۔ کیا ہم اس دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں حقیقت کی تعریف بدل جائے گی؟ کیا آنے والی نسلیں تصویروں اور ویڈیوز پر ویسا ہی یقین کریں گی جیسا ہم کرتے آئے ہیں؟ شاید اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنی یادداشت کا اختیار برقرار رکھ پائے گا یا نہیں؟ مصنوعی ذہانت بے پناہ امکانات رکھتی ہے، مگر اس کے ساتھ ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: نیوٹریشن لیبل: سائیلنٹ سیلزمین اور صارف کا ’سائیلنٹ فرینڈ‘

اربوں جعلی تصاویر اور ویڈیوز صرف ڈجیٹل مواد نہیں بلکہ انسانی شعور کیلئے ایک آزمائش ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی جہاں تخلیقی معیشت کو وسعت دے رہی ہے، وہیں اجتماعی یادداشت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا کو اس نئے چیلنج کیلئے تیار ہونا ہوگا۔یاد رہے کہ معیشت، سیاست اور سماج، سبھی حقیقت پر قائم ہوتے ہیں۔ اگر حقیقت ہی مشکوک ہو جائے تو سب کچھ بدل سکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں سب سے بڑی جنگ شاید سرحدوں پر نہیں بلکہ اسکرینوں پر لڑی جائے گی، اور وہ جنگ ہوگی سچ اور فریب کے درمیان۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK