یہ سوال صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ اب کمپنیوں کے بورڈ رومز، بینکنگ پالیسی میٹنگز ، اکنامک جرنلز اور دیگر جگہوں پر بھی زیرِ بحث ہے۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 10:54 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
یہ سوال صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ اب کمپنیوں کے بورڈ رومز، بینکنگ پالیسی میٹنگز ، اکنامک جرنلز اور دیگر جگہوں پر بھی زیرِ بحث ہے۔
۲۰۲۶ء کی دنیا ایک عجیب معاشی تضاد دیکھ رہی ہے۔ ایک طرف وہ نسل ہے جس نے دہائیوں تک محنت کی، ڈگریاں حاصل کی، نوکریوں میں ترقی پائی، معاشرتی وقار کو ترجیح دی ، اور دوسری طرف جین زی (جنریشن زیڈ)، جو نسبتاً کم عمر، کم تجربہ کار، اور بعض عالمی مطالعات کے مطابق کم اوسط آئی کیو اسکورز رکھنے کے باوجود مالی طور پر زیادہ آزاد، زیادہ مطمئن اور زیادہ لچکدار نظر آتی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ جین زی ’’دولت کے کھیل‘‘ میں کیا مختلف کررہی ہے؟ یہ سوال صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا ہے، اب کمپنیوں کے بورڈ رومز، بینکنگ پالیسی میٹنگز اور اکنامک جرنلز میں بھی زیرِ بحث ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: نیوٹریشن لیبل: سائیلنٹ سیلزمین اور صارف کا ’سائیلنٹ فرینڈ‘
حالیہ بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس ، جن میں ناروے، برطانیہ اور امریکہ میں کئے گئے آئی کیو ٹرینڈ اسٹڈیز شامل ہیں ، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جین زی پہلی ایسی نسل ہے جس میں اوسط آئی کیو اسکورز ان کے والدین اور مِلینیئلز سے کم ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ ماہرین اس کی وجوہات میں اسکرین ٹائم، ڈجیٹل آلات پر انحصار، اور رسمی تعلیم میں گراوٹ کو شامل کرتے ہیں۔لیکن یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے: آئی کیو (انٹیلی جنس کوشنٹ) اور معاشی ذہانت (فنانشیل انٹیلی جنس) دو مختلف چیزیں ہیں۔ جین زی نے رسمی یا روایتی ذہانت کے بجائے مارکیٹ کی ذہانت کو اپنایا ہے۔ اس نسل نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ ’’ہم کتنے ذہین ہیں؟‘‘ بلکہ یہ پوچھا کہ ’’ہم اس نظام میں کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟‘‘ہندوستان جیسے ترقی پذیر مگر تیزی سے بدلتے معاشی نظام میں یہ سوچ خاص طور پر کارآمد ثابت ہوئی ہے۔
مِلینیئلز نے دولت کو ہمیشہ ایک سماجی شناخت کے طور پر دیکھا، جیسے اچھی نوکری، استعمال کیلئے بہتر برانڈز اور اسٹیٹس برقرار رکھنے کا دباؤ۔ ہندوستان میں یہ دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے، جہاں خاندان، سماج اور رشتہ داروں کی توقعات معاشی فیصلوں کو براہِ راست متاثر کرتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا: آمدنی بڑھی مگر بچت کم ہوئی۔ سرمایہ کاری کی گئی مگر خوف غالب رہا، اور مالی فیصلے جذبات کی بنیاد پر ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جین زی نے اس پورے فریم ورک کو رد کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: فرینڈز؛ انسٹاگرام کی نئی چال اور ڈجیٹل معیشت کا بدلتا چہرہ
جین زی کی پہلی اور سب سے نمایاں مالی عادت ہے Loud Budgeting (لاؤڈ بجٹنگ) ہے ، یعنی بجٹ بنانا، اس پر عمل کرنا، اور اس کا اعلان کرنا۔جہاں مِلینیئلز، دوستوں اور سماجی حلقوں میں اکثر اپنی ’’مالی مجبوری‘‘ یا ’’مالی حیثیت‘‘ چھپاتے ہیں، وہیں جین زی صاف الفاظ میں کہتی ہے، ’’مَیں اس خرچ میں شامل نہیں ہوں کیونکہ میں اپنی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہوں۔‘‘ یہ رویہ محض ذاتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ اہم پہلو یہ ہے کہ جب لاکھوں نوجوان کھل کر اپنے مالی فیصلے بیان کرتے ہیں تو غیر ضروری خرچ کم ہوتا ہے، صارفین کا رویہ بدلتا ہے اور بازار میں حقیقت پسند مانگ پروان چڑھتی ہے۔ ہندوستان میں یہ رجحان خاص طور پر شہری نوجوانوں میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں مہنگائی، مکانوں کی قیمتیں اور غیر یقینی ملازمتوں نے بجٹنگ کو فخر کا معاملہ بنا دیا ہے۔
جین زی کی دوسری اہم عادت ہے Soft Saving Pivot(سوفٹ سیونگ پیووٹ)یعنی قربانی نہیں، توازن۔ مِلینیئلزنے بچت کو اکثر قربانی سے جوڑا ہے۔ اسے یوں سمجھئے ’’آج جینا چھوڑ دو، کل کیلئے محفوظ ہونے کی کوشش کرو۔‘‘مگر جین زی نے اس سوچ کو بدل دیا۔ اس کے نزدیک مستقبل کیلئے سرمایہ کاری اہم ہے، لیکن حال کی ’’اچھی زندگی‘‘ کو نظرانداز کئے بغیر۔ یہ فلسفہ عالمی سطح پر مقبول ہو رہا ہے، خاص طور پر ان معیشتوں میں جہاں نوجوان ریٹائرمنٹ کے روایتی ماڈل پر اعتماد نہیں کرتے۔ ہمارے ملک میں جہاں اوسط عمر کم اور کریئر غیر یقینی ہے، جین زی سمجھتی ہے کہ زندگی کو ریٹائرمنٹ کے بعد جینا ایک خطرناک مفروضہ ہے۔ نتیجتاً وہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں، سیکھنے کے وقفوں، اور مختصر چھٹیوں کو بھی مالی منصوبہ بندی کا حصہ بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: اسٹیٹس گیم اور ویلیڈیٹ ٹیکس کی بھول بھلیاں
یہ تمام رجحانات ایک بڑی تصویر پیش کرتے ہیں۔ جین زی نہ صرف اپنے لئے بلکہ مارکیٹ کیلئے بھی نئے اصول لکھ رہی ہے۔ ان کے نزدیک اہم ہے، بجٹ کو نارمل بنانا، بچت کو زیادہ آسان بنانا اور دولت کو مقصد کے ساتھ جوڑنا۔ یہ تبدیلیاں ملک کے کنزیومر اکنامی، فنانشل سروسیز، اور اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہیں۔ عالمی معیشت پر اس کے دیرپا اثرات قائم ہوںگے۔ ہر نسل کو زندگی گزارنے کیلئے پیسے درکار ہوتے ہیں۔ پرانی نسلوں میں بچت کی عادت زیادہ تھی، مِلینیئلز میں یہ عادت ہے مگر اس کی شدت کم ہے اور جین زی اس پر زیادہ توجہ نہیں دیتی۔ وہ سرمایہ کاری کو اہم قرار دیتی ہے لیکن اس بات کا بھی خیال رکھتی ہے کہ کل اچھا بنانے کیلئے آج جینا نہ چھوڑے۔ غالباً جین زی وہ پہلی نسل ہے جو آج میں جیتی ہے اور کل کی فکر کم کرتی ہے۔ کیا اس کی یہی عادت اسے معیشت کا مرکزی حصہ بنا رہی ہے؟