Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: ذائقوں کا بدلتا رجحان؛ ریستوراں میں نان ویج ڈیزرٹس کی واپسی

Updated: June 07, 2026, 5:45 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

کئی دہائیوں بعد پرانی، شاہی اور علاقائی روایات دوبارہ توجہ حاصل کر رہی ہیں، اور وہ غیر معمولی میٹھے پکوان بھی واپس آ رہے ہیں جنہیں کبھی مغلیہ، اودھی اور مالاباری باورچی خانوں کا فخر سمجھا جاتا تھا۔

The food of the subcontinent has always been the result of the intermingling of different civilizations, religions and cultures. Photo: INN
برصغیر کی خوراک ہمیشہ سے مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے میل جول کا نتیجہ رہی ہے۔ تصویر: آئی این این

برصغیر میں کھانے پینے کی اشیاء کی تاریخ میں ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب دسترخوان پر سجنے والے ہر پکوان کو آج کے پیمانوں سے نہیں ناپا جاتا تھا۔ میٹھے اور نمکین کو الگ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ باورچی خانے ذائقوں کے درمیان دیواریں کھڑی نہیں کرتے تھے۔ ایک ہی دسترخوان پر ایسا پلاؤ پیش کیا جا سکتا تھا جو دیکھنے میں ’’نا ن ویج‘‘ ہو مگر ذائقے میں میٹھا ہو، اور ایسا حلوہ بھی جس میں انڈے یا گوشت شامل ہوں مگر اسے مکمل طور پر مٹھائی (ڈیزرٹ) سمجھا جائے۔ 
وقت کے ساتھ یہ دنیا بدل گئی۔ کھانوں کی درجہ بندی زیادہ واضح ہو گئی۔ گوشت مرکزی کھانے کا حصہ بن گیا اور مٹھائیاں دودھ، میوؤں اور چینی تک محدود ہوتی چلی گئیں۔ مگر اب کئی دہائیوں بعد پرانی، شاہی اور علاقائی روایات دوبارہ توجہ حاصل کر رہی ہیں، اور ان کے ساتھ وہ غیر معمولی میٹھے پکوان بھی واپس آ رہے ہیں جنہیں کبھی مغلیہ، اودھی اور مالاباری باورچی خانوں کا فخر سمجھا جاتا تھا۔ یہ محض کھانے پینے کا ایک رجحان نہیں بلکہ ثقافت، تاریخ اور کاروبار کے سنگم پر ابھرنے والی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ 
دہلی، لکھنؤ، حیدرآباد اور کوچی جیسے شہروں میں بعض باورچی، محققین اور ریستوراں اب ایسی تراکیب کو زندہ کر رہے ہیں جو برسوں سے عوامی یادداشت سے تقریباً غائب ہو چکی تھیں۔ ان میں انڈے کا حلوہ، گوشت کا حلوہ، متنجن اور مُٹّہ مالا جیسے پکوان شامل ہیں۔ یہ وہ میٹھے پکوان ہیں جو کبھی شاہی دسترخوانوں اور مخصوص علاقائی ثقافتوں کا حصہ تھے۔ اس رجحان کی اصل اہمیت اس بات میں نہیں کہ لوگ اچانک گوشت والے میٹھے پکوان کھانے لگے ہیں بلکہ اس میں ہے کہ خوراک کی دنیا میں ’’ورثے‘‘ کی قدر بڑھ رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:معاشیانہ: سیلف انجیکٹ ایبل پین: خوبصورتی اور صحت ایک سرنج میں، کیا یہ محفوظ ہے؟

ایک عرصے تک ریستوراں صنعت کا زور نئی تراکیب، بین الاقوامی ذائقوں اور جدید پیشکش پر رہا۔ ہر شہر میں ایک جیسی کافی، ایک جیسا برگر اور تقریباً ایک جیسی مٹھائیاں دستیاب ہونے لگیں۔ اس یکسانیت نے سہولت تو پیدا کی، مگر مقامی شناخت کو کمزور بھی کیا۔ اب صورت حال بدل رہی ہے۔ صارفین خاص طور پر نوجوان نسل ایسی چیزیں تلاش کر رہی ہے جن کے پیچھے کوئی کہانی ہو، کوئی تاریخ ہو اور کوئی ثقافتی ورثہ موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ فراموش شدہ میٹھے پکوان دوبارہ اہمیت حاصل کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر متنجن، جو بظاہر پلاؤ دکھائی دیتا ہے مگر اس میں شیرہ، زعفران اور گوشت (چکن یا مٹن) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کبھی اودھ کے شاہی باورچی خانوں کی شان سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح انڈے کا حلوہ کئی علاقوں میں گھریلو روایت کے طور پر زندہ رہا، مگر جدید مٹھائی کی دکانوں میں اس کیلئے جگہ کم ہوتی گئی۔ اب یہی پکوان دوبارہ متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ 
معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ رجحان ’’ورثہ خوراک‘‘ کی بڑھتی ہوئی منڈی کا حصہ ہے۔ دنیا بھر میں خوراک اب صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ تجربہ بن چکی ہے۔ لوگ صرف کھانا نہیں خریدتے بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی کہانی، تاریخ اور شناخت بھی خریدتے ہیں۔ اٹلی اپنے علاقائی پنیر بیچتا ہے، جاپان اپنی صدیوں پرانی کھانے کی روایات کو فروغ دیتا ہے، اور فرانس اپنے کلاسیکی پکوانوں کو ثقافتی اثاثے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ہندوستان میں بھی اب یہی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ اسی لیے خوراک کی صنعت میں ’روایتی‘ اور’فراموش شدہ‘ پکوان کاروباری اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ 
ریستوراں مالکان جانتے ہیں کہ اگر وہ صارف کو ایک ایسی چیز پیش کریں جو اسے کہیں اور نہ ملے، تو اس کی تجارتی قدر بڑھ جاتی ہے۔ ایک عام حلوہ شاید زیادہ توجہ حاصل نہ کرے، مگر ایک ایسی مٹھائی جس کا تعلق نوابی دور، مغلیہ دسترخوان یا کسی مخصوص علاقے کی ثقافت سے ہو، فوراً گفتگو کا موضوع بن سکتی ہے۔ اس رجحان کو سوشل میڈیا نے بھی تقویت دی ہے۔ آج ایک غیر معمولی پکوان صرف کھانے کی چیز نہیں رہتا بلکہ تصویر، ویڈیو اور آن لائن گفتگو کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ریستوراں ایسے پکوانوں کو اپنی شناخت کا مرکز بنا رہے ہیں جو ماضی میں تقریباً فراموش ہو چکے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان صرف امیر طبقے تک محدود نہیں۔ اب بیشتر افراد یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد کیا کھاتے تھے، مختلف علاقوں کے ذائقے کیسے تھے اور وقت کے ساتھ کون سی روایات غائب ہو گئیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ:سلیبریٹی آئی وی تھیراپی بڑھا رہی ہے ’’ڈِرِپ کلچر‘‘ کی چمک

اس تناظر میں نان ویج ڈیزرٹس کی واپسی ایک بڑی ثقافتی تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ برصغیر کی خوراک ہمیشہ سے مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے میل جول کا نتیجہ رہی ہے۔ کئی ایسے پکوان جو آج غیر معمولی محسوس ہوتے ہیں، کبھی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ ہندوستان میں یہ رجحان سیاحت سے بھی جڑ سکتا ہے۔ دنیا بھر میں خوراک کی سیاحت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مسافر اب صرف تاریخی عمارتیں نہیں بلکہ مقامی ذائقے بھی تلاش کرتے ہیں۔ اگر کسی شہر کی شناخت اس کے منفرد پکوانوں سے جڑ جائے تو اس سے مقامی معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی خطے اپنی پرانی تراکیب کو محفوظ کرنے اور دوبارہ متعارف کرانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ تاہم، اس رجحان کی سب سے دلچسپ بات شاید یہ ہے کہ یہ جدید دنیا کے ایک بڑے تضاد کو سامنے لاتا ہے۔ ایک طرف ہم تیزی سے یکساں ہوتی ہوئی عالمی خوراک کی دنیا میں رہ رہے ہیں، اور دوسری طرف ہم اپنی مقامی شناخت کو دوبارہ تلاش کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات سب سے جدید خیال دراصل ماضی کی طرف واپسی ثابت ہوتا ہے۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ فراموش شدہ ڈیزرٹس کی واپسی صرف ہندوستان میں نہیں ہو رہی ہے۔ پرتگال میں خانقاہوں کی قدیم انڈوں سے بنی مٹھائیاں آج سیاحتی کشش کا مرکز ہیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی علاقوں میں جانوروں کی چربی یا گوشت سے تیار ہونے والے روایتی میٹھے اب بھی ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ ہیں اور پروسے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ماہرین اور شیف، اب ایسی تراکیب کو دوبارہ تلاش کر رہے ہیں جو جدید کھانوں کے رجحانات کے باعث پس منظر میں چلی گئی تھیں۔ 
نان ویج ڈیزرٹس کی واپسی بھی اسی حقیقت کا اظہار ہے۔ یہ صرف چند نایاب پکوانوں کی کہانی نہیں۔ یہ اس خواہش کی علامت ہے جس کے تحت لوگ اپنی تاریخ، اپنی ثقافت اور اپنے ذائقوں سے دوبارہ جڑنا چاہتے ہیں۔ اس لئے اب اگر آپ کسی ریستوراں، کسی کیفے یا ہوٹل میں جائیں  اور انڈے کا حلوہ، حبشی حلوہ، مٹّہ مالا یا متنجن آرڈر کریں تو یاد رکھیں کہ آپ صرف ایک ڈیزرٹ نہیں منگا رہے ہیں بلکہ ایک بھولی ہوئی یاد کو زندہ کررہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK