Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: سیلف انجیکٹ ایبل پین: خوبصورتی اور صحت ایک سرنج میں، کیا یہ محفوظ ہے؟

Updated: May 24, 2026, 5:28 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

چند برس پہلے تک اس طرح کی دوائیں صرف ذیابیطس یا مخصوص بیماریوں کے علاج سے وابستہ سمجھی جاتی تھیں، مگر اب یہی ادویات خوبصورتی، دُبلے جسم اور’بہتر زندگی‘ کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ممبئیکی فلمی بستیوں اور دبئی کے پُرتعیش فلاحی مراکز کے درمیان ایک نیا منظر تیزی سے عام ہو رہا ہے۔ شوٹنگ سے پہلے، فیشن شو کے عقب میں، یا کسی طویل فضائی سفر کے بعد، لوگ خاموشی سے ایک مختصر سا انجکشن لیتے ہیں اور چند لمحوں بعد خود کو پہلے سے زیادہ ہلکا، توانا اور تازہ محسوس کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ چند برس پہلے تک ایسی دوائیں صرف ذیابیطس یا مخصوص بیماریوں کے علاج سے وابستہ سمجھی جاتی تھیں، مگر اب وہی ادویات خوبصورتی، دُبلے جسم اور ’’بہتر زندگی‘‘ کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس نے ’’سیلف انجیکٹ ایبل پین‘‘ (قلم نما انجکشن کے ذریعے خود سے انجکشن لگانا) کے ذریعے ویل نیس کو ایک عالمی رجحان میں بدل دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : اس ہفتے اخبارات نے ’نیٹ پیپر لیک‘ اور مودی کے مشوروں پر تنقید کو موضوع بنایا

اس رجحان کی بنیاد اُن دواؤں نے رکھی جنہیں ابتدا میں ذیابیطس کے مریضوں کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں جب یہ معلوم ہوا کہ ان کے استعمال سے وزن میں نمایاں کمی آتی ہے، تو دیکھتے ہی دیکھتے یہ ادویات فیشن، فلم اور سماجی ذرائع ابلاغ کی دنیا میں داخل ہو گئیں۔ اچانک کم ہوتا وزن، چہرے پر نمایاں تبدیلی اور چند ماہ میں بدلتی ہوئی جسمانی ساخت نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ جلد ہی یہ تصور عام ہونے لگا کہ اب جسمانی تبدیلی برسوں کی محنت نہیں بلکہ چند انجکشنزکی محتاج ہے۔ دنیا بھر میں اس رجحان کو سب سے زیادہ تقویت مشہور شخصیات اور سماجی ذرائع ابلاغ نے دی۔ جب اداکار، گلوکار اور سماجی اثر رکھنے والے افراد اپنی بدلتی ہوئی جسمانی ساخت کے ساتھ منظر عام پر آئے تو لاکھوں لوگوں نے انہی راستوں کو اپنانے کی خواہش ظاہر کی۔ اس پورے رجحان کو صرف صحت کے مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک نئے طرزِ زندگی کے طور پر پیش کیا گیا، جہاں تھکن، بڑھتا وزن، عمر کے آثار اور بے رونقی سب کچھ ایک طبی عمل کے ذریعے قابو میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : ’نیٹ‘ پیپر لیک سے لے کر بے روزگاری تک: مودی سرکار کی کارگزاری کے۱۲؍ سال کا جائزہ

ہندوستان میں یہ رجحان ابھی مکمل طور پر عام نہیں ہوا، مگر بڑے شہروں میں اس کی موجودگی تیزی سے محسوس کی جا رہی ہے۔ ممبئی، دہلی اور بنگلور کے کئی نجی مراکز اب وزن گھٹانے، جلد میں نکھار پیدا کرنے اور جسمانی توانائی بڑھانے کے نام پر مختلف اقسام کے انجکشن فراہم کر رہے ہیں۔ ان مراکز میں آنے والوں میں صرف فلمی شخصیات ہی نہیں بلکہ کارپوریٹ دنیا سے وابستہ نوجوان، سماجی ذرائع ابلاغ پر سرگرم افراد اور وہ شہری طبقہ بھی شامل ہے جو تیز رفتار زندگی کے دباؤ سے فوری نجات چاہتا ہے۔ یہ تبدیلی دراصل جدید شہری زندگی کی نفسیات کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ آج کا انسان ہر چیز جلد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ فوری نتائج کا عادی ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متوازن غذا، ورزش اور طویل محنت کے بجائے اب ایسے طریقے مقبول ہو رہے ہیں جو کم وقت میں نمایاں تبدیلی کا وعدہ کرتے ہیں۔ سیلف انجیکٹ ایبل انجکشن اسی ذہنیت کی پیداوار ہے، جہاں جسم کو ایک ایسے منصوبے کی طرح دیکھا جا رہا ہے جسے ہر وقت بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ 
اس رجحان نے عالمی فلاحی صنعت کو بھی نئی سمت دی ہے۔ پہلے خوبصورتی اور صحت کی صنعت زیادہ تر جلدی مصنوعات، ورزش یا غذائی سپلیمنٹس تک محدود تھی، مگر اب دوا ساز کمپنیاں اور نجی مراکز ایسے مرکبات متعارف کرا رہے ہیں جو براہِ راست جسم میں داخل کیے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک نئی منڈی وجود میں آ رہی ہے جہاں صحت، خوبصورتی اور طبی سائنس ایک دوسرے میں مدغم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ ہندوستان کیلئے اس رجحان کا معاشی پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ چونکہ ملک پہلے ہی دنیا کی بڑی دوا ساز منڈیوں میں شمار ہوتا ہے، اسلئے وزن گھٹانے والی ادویات اور انجکشنز کی تیاری میں ہندوستانی کمپنیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ان ادویات کے کم قیمت متبادل ہندوستان میں تیار ہونے لگے تو ملک عالمی سطح پر ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف دوا سازی کی صنعت کو فائدہ ہوگا بلکہ طبی سیاحت اور نجی فلاحی مراکز کا دائرہ بھی وسیع ہو سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : پی ایم نے عوام سے احتیاط کی اپیل کیوں کی؟ معیشت پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں ؟

تاہم اس پورے رجحان کے ساتھ کئی سنجیدہ سوالات بھی وابستہ ہیں۔ طبی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ ان دواؤں کے طویل مدتی اثرات ابھی پوری طرح واضح نہیں۔ بعض افراد بغیر کسی طبی نگرانی کے یہ انجکشن استعمال کر رہے ہیں، جو مستقبل میں صحت کے پیچیدہ مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ کچھ مریضوں میں شدید کمزوری، معدے کے مسائل اور جسمانی توازن بگڑنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ڈاکٹر اس رجحان کو احتیاط سے دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ واقعی مستقل حل ہے یا محض وقتی تبدیلی۔ متعدد مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انجکشن بند کرنے کے بعد بعض افراد کا وزن دوبارہ بڑھنے لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایک ایسے دائرے میں داخل ہو سکتے ہیں جہاں انہیں مسلسل دواؤں پر انحصار کرنا پڑے۔ 

یہ بھی پڑھئے : حج سے متعلق ناقص انتظامات کا الزام، کہیں کوئی سازش تو نہیں؟

یہ رجحان سماجی سطح پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ خوبصورتی اور جسمانی کشش کو اب فطری عمل کے بجائے طبی مداخلت کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے معاشرے میں جسمانی معیار مزید سخت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل پر اس کے نفسیاتی اثرات گہرے ہو سکتے ہیں، کیونکہ سماجی ذرائع ابلاغ پہلے ہی’مثالی جسم‘ کے تصور کو غیر معمولی حد تک بڑھا چکے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ اہم بات شاید یہ ہے کہ جدید دور کا انسان اب صرف صحت مند رہنا نہیں چاہتا بلکہ وہ اپنے جسم پر مکمل اختیار چاہتا ہے۔ وہ عمر، وزن اور ظاہری شکل کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہی خواہش ’’سیلف انجیکٹ ایبل پین‘‘ کو ایک وقتی رجحان سے بڑھا کر ایک مکمل معاشی اور سماجی حقیقت بنا رہی ہے۔ 
ممکن ہے آنے والے برسوں میں یہ صنعت مزید پھیل جائے اور ایسے انجکشن عام ہو جائیں جو صرف وزن ہی نہیں بلکہ نیند، ذہنی سکون، جسمانی توانائی اور بڑھاپے کے آثار تک کو قابو میں رکھنے کے دعوے کریں، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی شدت سے موجود رہے گا کہ آیا انسان واقعی صحت مند ہو رہا ہے یا صرف ایک ایسے تصور کے پیچھے بھاگ رہا ہے جو جدید دنیا نے اس کے سامنے رکھ دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK