• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: فرینڈز؛ انسٹاگرام کی نئی چال اور ڈجیٹل معیشت کا بدلتا چہرہ

Updated: January 25, 2026, 11:10 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

اب سوال یہ نہیں رہے گا کہ کتنے لوگ آپ کو دیکھتے ہیں؟ بلکہ یہ ہوگا کہ کتنے لوگ واقعی آپ کے ساتھ جڑے ہیں؟اس سے جعلی فالوورز رکھنے والوں کی اہمیت کم ہوجائے گی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سوشل میڈیا کی دنیا میں طاقت کا ایک ہی پیمانہ ہے:آپ کے کتنے فالوورز ہیں؟ یہ سوال صرف شہرت کا نہیں بلکہ کاروبار، کمائی اور اثر و رسوخ کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ انسٹاگرام پر لاکھوں فالوورز رکھنے والا فرد محض صارف نہیں رہتا، وہ ایک چلتی پھرتی مارکیٹ بن جاتا ہے۔ برانڈز اس پر پیسہ لگاتے ہیں، کمپنیاں اس کے ذریعے مصنوعات بیچتی ہیں، اور معیشت کے ایک نئے باب کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ مگر اب یہ دنیا خاموشی سے بدل رہی ہے۔ انسٹاگرام ایک خاموش مگر گہرا تجربہ کر رہا ہے۔ اب Following (فالوئنگ)کی جگہ Friends (فرینڈز) لے رہا ہے۔ آپ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر نوٹس کیا ہوگا کہ اب فالوئنگ کی جگہ فرینڈز ٹیب نے لے لی ہے۔ بظاہر یہ ڈیزائن میں ایک سادہ سی تبدیلی معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت میں یہ ڈجیٹل سرمایہ داری میں ایک نیا موڑ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: بھجن کلبنگ؛ فیک ویڈنگ کے بعد جین زی کا نیا ثقافتی رجحان

انسٹاگرام نے ابتدا میں خود کو ’’دوستوں کے ساتھ تصویری لمحے بانٹنے‘‘ کے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا تھا مگر جیسے جیسے اس کے صارفین بڑھے، اور جیسے ہی اسے میٹا کے کاروباری نظام میں مکمل طور پر ضم کیا گیا، یہ پلیٹ فارم رشتوں سے نکل کر منافع کی طرف بڑھتا گیا۔پھر فالوورز صرف لوگ نہیں رہے،وہ اعداد بن گئے۔ اعداد جو اشتہارات بیچتے ہیں،اعداد جو مارکیٹ ویلیو بناتے ہیں، اور اعداد جو سرمایہ کاروں کو مطمئن کرتے ہیں۔ اسی دوڑ میں ’اصل تعلق‘ کہیں پیچھے رہ گیا۔ انسٹاگرام کے مطابق، پروفائل پر اب یہ نمایاں نہیں ہوگا کہ آپ کتنے لوگوں کو فالو کرتے ہیں بلکہ یہ دکھایا جائے گا کہ کتنے لوگ آپ کے ’فرینڈز‘ (دوست) ہیں یعنی وہ جن کے ساتھ تعلق دو طرفہ ہے۔ یہ تبدیلی تین بڑے پیغامات واضح کرتی ہے: (۱) یک طرفہ شہرت کی قدر کم کی جا رہی ہے۔ (۲) باہمی تعلق (Mutual Connection) کو اہم بنایا جا رہا ہے۔ (۳) الگورتھم کو نئے طریقے سے ترتیب دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ذیابیطس؛ معیشت پر بوجھ بھی، معیشت کی ترقی کیلئے موقع بھی!

واضح رہے کہ یہ انسٹاگرام کی کاروباری حکمتِ عملی ہے۔ عالمی سطح پر Influencer Economy (انفلوئنسر اکنامی) کی مالیت اربوں ڈالرز میں ہے۔ اس معیشت کا سسادہ اصول ہے: جس کے جتنے زیادہ فالوورز، اس کی اتنی زیادہ قیمت، قدر یا اس کو اتنا زیادہ معاوضہ۔ مگر ابFriend Count (دوستوں کا شمار) اس اصول کو توڑے گا۔ اب سوال یہ نہیں رہے گا کہ کتنے لوگ آپ کو دیکھتے ہیں؟ بلکہ یہ ہوگا کہ کتنے لوگ واقعی آپ کے ساتھ جڑے ہیں؟ اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ جعلی فالوورز رکھنے والے انفلوئنسرز کی مارکیٹ ویلیو کم ہوجائے، چھوٹے مگر گہرے تعلق رکھنے والے کریئیٹرز مضبوط ہو ں اور برانڈز Reach کے بجائے Trust خریدنے لگیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ اشتہاری صنعت کیلئے مہنگا مگر صحت مند جھٹکا ثابت ہو۔ 

ہندوستان میں انسٹاگرام صرف تفریح نہیں بلکہ چھوٹے کاروبار کا شو روم، فری لانسرز کی دکان، گھریلو خواتین کا مارکیٹ اور نوجوانوں کی امید سمجھا جاتا ہے۔ یہاں لاکھوں لوگ فالوورز کو سماجی حیثیت اور آمدنی، دونوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ فرینڈ کاؤنٹ اسے بدل دے گا۔ پھر لوگوں کی دو قسم وجود میں آئے گی؛ (۱) وہ لوگ جن کے پاس واقعی کمیونٹی ہے۔ (۲) اور وہ جو صرف نمبر کے سہارے کھڑے ہیں۔ فرینڈز ٹیب خاص طور پر فیشن، بیوٹی، فوڈ بلاگنگ، اور لوکل بزنس کے شعبوں میں فلٹر کا کام کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: اسٹیٹس گیم اور ویلیڈیٹ ٹیکس کی بھول بھلیاں

یہاں ایک تلخ سوال بھی قائم ہوتا ہے۔ کیا انسٹاگرام واقعی انسانی تعلقات بچانا چاہتا ہے؟یا یہ محض ایک نیا کنٹرول میکانزم ہے؟ ماہرین کے مطابق فرینڈ کاؤنٹ بھی ایک نیا میٹرک بن جائے گا، صارفین اس کے پیچھے بھی دوڑ لگائیں گے اور نفسیاتی دباؤ کم نہیں ہوگا، صرف شکل بدلے گا۔ یہ اس عالمی اقتصادی رجحان کی علامت ہے جس میںڈیٹا سینٹرک بزنس ماڈلز نئے انسانی تعلقات سینٹرک ماڈلز کی طرف بڑھ رہے ہیں، برانڈز گہرے تعلقات (deep engagement) کو ترجیح دینے لگے ہیں، اور صارفین اصل کنکشن اور اعتماد کو خریداری کے فیصلوں میں اہم سمجھتے ہیں۔ یہ تبدیلی ایک ایسی دنیا کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں میٹرکس کی جگہ معنی خیز تعلقات کی قدر بڑھتی جائے گی — اور اسی کا اثر کل کے ڈجیٹل بزنس کلچرز، معاشی منڈیوں، اور برانڈ قدر پر پڑے گا۔ انسٹاگرام کا ’’فرینڈز‘‘  تجربہ ایک چھوٹا قدم ہے مگر اس کے اثرات بہت بڑے ہو سکتے ہیں — خاص طور پر ڈجیٹل معیشت، انفلوئنسرمارکیٹنگ، اور صارف برانڈ تعلقات کے شعبوں میں۔ اگر برانڈز اور کمپنیاں اس نئی سمت کو سمجھ کر حکمتِ عملی بنائیں تو وہ زیادہ مضبوط تعلقات، بہتر صارف تجربات، اور مستحکم اقتصادی فائدے حاصل کر سکتی ہیں۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ ڈجیٹل دنیا اب Quantity سے Quality کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کس قیمت پر؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK