Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کیلئے تیار: رپورٹ

Updated: August 10, 2026, 3:08 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کو باضابطہ جوہری معاہدے کے بغیر ختم کرنے کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی توجہ اب ایران کے جوہری پروگرام کے بجائے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں توانائی کی ترسیل بحال کرنے پر مرکوز ہے۔ اطلاعات کے مطابق اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیتا ہے تو واشنگٹن موجودہ جنگ بندی کو طویل مدت تک برقرار رکھنے اور ایران کے خلاف فوجی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کرسکتا ہے۔

US President Donald Trump. Photo: INN
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نجی طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کو جوہری معاہدے کے بغیر بھی ختم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے یہ اطلاع امریکی حکام کے حوالے سے دی ہے۔ اخبار کے مطابق ٹرمپ کئی ہفتوں سے اس بات کی راہ ہموار کر رہے ہیں کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیتا ہے تو ایران کے ساتھ جنگ میں فتح کا اعلان کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے سامنے نجی طور پر یہ بھی کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے بغیر بھی کسی سمجھوتے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مکہ معاہدہ کسی ملک کیخلاف نہیں، اس میں مصر کی بھی شمولیت متوقع ہے‘‘

امریکی ایوان کے ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ایران کے حوالے سے امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ کی اب توجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے پر ہے۔ اگر ایران بحری جہازوں پر حملے جاری رکھتا ہے تو صدر کے پاس فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار برقرار رہے گا۔ امریکی حکام نے مزید بتایا کہ صدر نے اپنے اعلیٰ مشیروں سے نجی گفتگو میں کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایران کے دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کرنے کا امکان کم ہے، کیونکہ امریکہ ۲۰۲۵ء تک ایران کی ۳؍ اہم جوہری تنصیبات کو تباہ کر چکا تھا۔ حالیہ ملاقاتوں میں ٹرمپ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران پر امریکی حملوں کا خطرہ ایک قابلِ اعتماد بازدار قوت کے طور پر کام کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران نے ۶؍ شرائط پیش کیں

حکام کے مطابق اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹرمپ موجودہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے پر زیادہ آمادہ ہوں گے۔ توقع ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیتا ہے تو امریکی صدر ایرانی بندرگاہوں پر عائد فوجی ناکہ بندی بھی ختم کر دیں گے۔ امریکی صدر نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملے اس لیے روک دیے ہیں کیونکہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس معاہدے کی ابتدائی شرائط میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سمجھوتے شامل ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کیلئے مقررہ بحری راستے کی جغرافیائی تفصیلات پر اتفاق کر لیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK