Inquilab Logo

معاشیانہ: آن لائن خرید و فروخت کے بڑھتے رجحان کی وجوہات

Updated: June 16, 2024, 12:14 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

کورونا وائرس کی وباء کے سبب انسانی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن میں سے ایک’’رقم کی ادائیگی کا طریقہ‘‘ بھی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران چونکہ دکانیں بند تھیں اس لئے شاپنگ کا آن لائن طریقہ عوام میں مقبول ہوگیا۔

Be it a small vendor selling vegetables, milk, bread and pao or a supermarket, the situation is that everyone nowadays has a QR code available and happily accepts online payments.
سبزی، دودھ، بریڈاور پاؤ فروخت کرنے والے چھوٹے موٹے وینڈرز ہوں یا پھر سپر مارکیٹ، صورتحال یہ ہے کہ سبھی کے پاس آج کل کیو آر کوڈ دستیاب ہوتا ہے اور وہ آن لائن ادائیگی خوشی خوشی قبول کرتے ہیں۔ تصویر : آئی این این

کورونا وائرس کی وباء کے سبب انسانی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن میں سے ایک’’رقم کی ادائیگی کا طریقہ‘‘ بھی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران چونکہ دکانیں بند تھیں اس لئے شاپنگ کا آن لائن طریقہ عوام میں مقبول ہوگیا۔ جو دکانیں مقررہ وقت کیلئے کھلتی تھیں، ان کے مالکان کرنسی نوٹوں کو قبول کرنے کے بجائے ’’کیو آر کوڈ‘‘ آگے کردیتے تھے تاکہ نوٹوں اور سکوں کے ذریعے کووڈ ۱۹؍ نہ پھیلے۔ اس طرح ڈجیٹل لین دین بڑھتا گیا۔ وبائی حالات کے ختم ہوجانے کے باوجود نہ آن لائن طریقۂ شاپنگ میں تبدیلی آئی اور نہ ہی ڈجیٹل لین دین میں کمی ہوئی۔ 
 فیم پے کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے ۲۵۰؍ ملین سے زائد نوجوان ڈجیٹل طریقے سے لین دین کرتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی تعداد کم ہے جو نقدی لے کر نکلتے ہیں اور اسی کے ذریعے خریداری کرتے ہیں۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۳۵؍ فیصد نوجوان ایسے ہیں جو کبھی بینک گئے ہی نہیں۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر نہ صرف اپنا بینک اکاؤنٹ کھول لیا بلکہ پیسوں کا سارا لین دین ڈجیٹل طریقے ہی سے کرتے ہیں۔ یہی نہیں ، وہ گھر کے بڑوں کو بھی ڈجیٹل ادائیگی پر اکساتے ہیں۔ سروے میں شامل ۳۴؍ فیصد نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی’’رقوم‘‘ کاانتظام سنبھالنے اور سرمایہ کاری کیلئے ویب سائٹس، آن لائن مضامین، سوشل میڈیا، ریلز، شاٹس، وغیرہ کا سہارا لیتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: کیا ایئرانڈیا ملک کی سب سے بڑی ایئر لائن کمپنی بننے کیلئے تیار ہے؟

نوجوانوں کی کیش میں لین دین نہ کرتے ہوئے ڈجیٹل موڈ پر منتقل ہوجانے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں مقررہ قیمت ہی ادا کرنا (یعنی ۳۴؍ روپے کے سامان کیلئے ۳۴؍ روپے)، کھلے پیسے کے جھنجھٹ سے بچنا، آسانی سے ٹرانزیکشن ہوجانا، مختلف یو پی آئی ایپس پر اسکریچ کارڈز، کیش بیک، واؤچرز، بونس وغیرہ جیسی سہولیات کا حاصل ہونا وغیرہ، قابل ذکر ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چھوٹے شہروں میں بھی نوجوان آن لائن ٹرانزیکشن کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سبزی، دودھ، بریڈ، پاؤ فروخت کرنے والے چھوٹے موٹے وینڈرز ہوں یا سپر مارکیٹ، رکشا، ٹیکسی، ای رکشا، حتیٰ کہ تفریح کی غرض سے گھوڑا گاڑی چلانے والے افراد، سبھی کے پاس اب کیو آر کوڈ دستیاب ہوتا ہے اور وہ آن لائن ادائیگی خوشی خوشی قبول کرتے ہیں۔ 
 یونیسیف کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ۷۱؍ فیصد نوجوان ڈجیٹل ادائیگی پر یقین رکھتے ہیں۔ دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تمام صارفین میں ہر تیسرے صارف کی عمر ۱۸؍ سال سے کم ہے۔ فن ٹیک نامی اسٹارٹ اپ نے گزشتہ ماہ ایک سروے کیلئے ایک لاکھ افراد کا انتخاب بے ترتیب طریقے سے (رینڈملی) کیا۔ حیرت انگیز طور پر ان کی عمریں ۱۱؍ سے ۱۹؍ سال کے درمیان تھیں۔ فن ٹیک نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ نوجوانوں، خاص طور پر کم عمروں میں آن لائن شاپنگ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی ایک اہم وجہ آن لائن پے منٹ ہے۔ آن لائن خدمات فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’اینڈ آف سیزن سیل‘‘ میں ان کی فروخت میں ۱۵۰؍ فیصد تک اضافہ ہوجاتا ہے، اور ۸۴؍ فیصد صارفین آن لائن پے منٹ کرتے ہیں۔ 
 دلچسپ بات یہ ہے کہ آن لائن ٹرانزیکشن کے بڑھتے رجحان میں بھی ہندوستانی معیشت میں نقدی کا بہاؤ کم نہیں ہوا ہے۔ ۱۰؍ مئی ۲۰۲۴ء کی آر بی آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی معیشت میں ۳۵ء۹۰؍ لاکھ کروڑ روپے گردش میں ہیں۔ مارچ ۲۰۱۷ء میں گردش کرنے والے نوٹوں کی مالیت صرف ۱۳ء۳۵؍ لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اسی طرح ۲۹؍ اپریل ۲۰۲۴ء کو حکومت نے بتایا کہ ۲۰۲۴ء کے مالی سال میں یو پی آئی کے ذریعے۱۳۱؍ بلین ٹرانزیکشن (۲۰۰؍ کھرب روپے کا لین دین) ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۰ء کے بعد سے ہندوستانیوں میں خرچ کی عادتیں بڑھی ہیں جن میں سیر و سیاحت، ویک اینڈ آؤٹنگ، ہوٹلنگ، شاپنگ وغیرہ سر فہرست ہیں۔ 
 ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ ۱۰؍ برسوں میں شہریوں کی قوت خرید میں کمی آئی ہے اور بینکوں میں پیسہ جمع کرنے کا رجحان بھی کم ہوا ہے۔ بی ایف ایس آئی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج سے ۲۰؍ سال پہلے اگر ایک عام شخص کا بینک بیلنس اگر ۲؍ لاکھ روپے سالانہ ہوتا تھا تو وہ اب ایک لاکھ روپے سالانہ ہوگیا ہے۔ بیشتر افراد کو اب مستقبل کا زیادہ خوف نہیں ہے، یا، وہ پیسے جمع کرنے میں کم یقین رکھتے ہیں۔ انہیں حال کو مد نظر رکھتے ہوئے، مستقبل کیلئے صرف اتنی بچت کرنی ہے کہ کسی ناگہانی کی صورت میں جمع شدہ رقم ان کے کام آسکے۔ نقدی کے ذریعے خرید و فروخت ہو یا آن لائن ٹرانزیکشن، دونوں ہی صورتوں میں فائدہ ملک کی معیشت کو پہنچ رہا ہے مگر اس کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ لوگوں کی بچت کی عادت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK