• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

محمود ایوبی : وہ مردِ سخن جس نے پریم چند کو مجسم کر دیا

Updated: February 09, 2026, 4:32 PM IST | Mujeeb Khan | Mumbai

ریکارڈ بُک میں درج ڈرامے ’’آداب میں پریم چند ہوں‘‘ میںمرکزی کردار ادا کرنے والے صحافی اور افسانہ نگار محمود ایوبی کومجیب خان کا خراج عقیدت۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

محمود ایوبی صاحب ایک نہایت شریف، نفیس اور باوقار شخصیت کے حامل تھے۔ میں نے انہیں کبھی ملول نہیں دیکھا۔ ہر ملاقات میں ان کے چہرے پر ایک لطیف اور پُرسکون مسکراہٹ ضرور ہو تی۔ ایسی مسکراہٹ جو دلوں کو روشنی دیتی تھی۔ ہماری گفتگو کبھی دنیا کے حالات پر ہوتی کبھی اُردو بولنے والوں کی حیثیت پر، کبھی اُردو زبان و ادب کے نشیب و فراز پرمگر ڈرامہ ہمیشہ ہماری نشستوں کا مرکزی موضوع رہا۔
ایوبی صاحب جب بلٹز اخبار سے منسلک تھے، ملاقاتیں کبھی کبھار ہی ہوتیں۔ لیکن جب وہ ملت نگر منتقل ہوئےجہاں میں بھی مقیم ہوںتو پھر ہمارے درمیان میل جول کو گویا ایک نئی روح مل گئی۔ اب ہم تقریباً ہر روز ملتے اور ڈرامہ، ادب اور زندگی کے موضوعات پر طویل گفتگو کرتے۔ وہ میری ڈرامائی سرگرمیوں کو نہایت محبت اور شفقت سے سراہتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: حکمراں علم دوست بھی ہوتے ہیں!

سن ۲۰۰۲ء میں میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ منشی پریم چند کی کہانیوں کو اسٹیج کا قالب دیا جائے۔ میں نے اس سلسلے کا نام رکھا: ’’آداب، میں پریم چند ہوں‘‘، جب میں نے یہ تصور ایوبی صاحب کے سامنے رکھا تو وہ بے ساختہ بول اٹھے: ’’زندہ باد، مجیب خان، زندہ باد!‘‘اور جب میں نے کہا کہ اس سلسلے میں منشی پریم چند کا کردار آپ ادا کریں گے، تو وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔ پھر دھیرے سے کہا’’آپ بہت بڑا رسک لے رہے ہیں…‘‘میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’اگر تعریف ہوئی تو عزت آپ کی اور اگر تنقید ہوئی تو ذمہ داری میری ہوگی۔‘‘
 ۷؍ اگست۲۰۰۳ء کو پہلا شو پیش کیا گیا۔ پریم چند جیسی مونچھیں لگا کر انہیں اسٹیج پر لایا گیا اور یوں وہ واقعی پریم چند کا جیتا جاگتا پیکر معلوم ہوتے تھے۔ شو سے قبل سوال و جواب کا سلسلہ تھا۔ وہ پریم چند بن کر بیٹھتے اور میں سوتردھار کی حیثیت سے ان سے سوال پوچھتا۔ ان کے جوابات میں وہی وقار، وہی فکری گہرائی اور وہی سادگی تھی جو پریم چند کے اسلوب کی پہچان ہے۔ناظرین اُن کے سحر میں گرفتار ہو گئے۔
اس روز اسٹیج سے اترتے ہی انہوں نے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو حیرت میں ڈالنے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد ہماری دوستی اور بھی گہری ہو گئی۔ ہم اکثر پریم چند کی کہانیوں پر بات کرتے۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ان کا علم کتابوں کے صفحوں سے نہیں، زندگی کے تجربات سے نکھرا ہوا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ادیب زندگی اور موجودات کے دجلے کا ایک قطرہ ہے

سلسلہ ’’آداب، میں پریم چند ہوں‘‘ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا کردار نہایت اہم تھا۔اسی زمانے میں ایک اُردو رسالے نے محمود ایوبی صاحب کی پذیرائی اور ان کی خدمات کے اعتراف میں اُن کے نام سے ایک خصوصی نمبر بھی شائع کیا تھا۔ اس رسالے کی دلجوئی کے لیے ایوبی صاحب نے اپنے طور پر ’’آداب، میں پریم چند ہوں‘‘کا دو ہزار روپے کا اشتہار دینے کا فیصلہ کیا۔ ایک روز انہوں نے نہایت سادگی مگر بھرپور اعتماد سے مجھ سے کہا ’’ میں نے آپ سے پوچھے بغیر رسالے کے ایڈیٹر سے وعدہ کر لیا ہے کہ اشتہار آپ کی طرف سے ہوگا۔ آپ یہ رقم ادا کر دیجیے گا۔‘‘ چونکہ یہ میرے ہی ڈرامے کا اشتہار تھا، اس لئے اس کی ادائیگی حقیقتاً میری ذمہ داری تھی۔ مگر زندگی کی مصروفیات کے ہجوم میں یہ فریضہ ادھورا رہ گیا۔ پھر ۲۶؍جنوری ۲۰۱۰ء کی صبح ان سے بات ہوئی۔ ان کی آواز میں ایک غیر معمولی تھکن تھی۔ بس اتنا کہا ’’طبیعت کچھ ٹھیک نہیں… ‘‘ اور اگلی صبح ۲۷؍جنوری کو تقریباً دو بجے وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ریاض صاحب (ہمارے مشترکہ دوست) کا فون آیا ’’ایوبی صاحب نہیں رہے…‘‘
یہ خبر میرے لیے قیامت سے کم نہ تھی۔ دل جیسے اچانک خالی ہو گیا۔ اسی لمحے مجھے وہی دو ہزار روپے یاد آگئے ۔رقم نہیں، ایک امانت ایک ایسا وعدہ جو انہوں نے اپنے بھروسے پر میرے نام کیا تھا۔ میں نے خود سے کہا ’’ان کی تدفین سے پہلے یہ وعدہ ضرور پورا ہونا چاہیے‘‘ اللہ نے کرم کیا اور میں وہ رقم ان کی تدفین سے قبل ادا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور جب میں نے یہ ذمہ داری پوری کی تو یوں لگا جیسے میں نے ہمارے درمیان محبت اور اعتماد کی اُس لطیف مگر مضبوط ڈور کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ہو۔ 

یہ بھی پڑھئے: سیمابؔ اکبرآبادی نے شاعری کو محض فن سمجھ کر اختیار نہیں کیا

آج ڈرامہ سیریز ’’آداب، میں پریم چند ہوں‘‘ نہ صرف جاری ہے بلکہ ہندوستان کے ڈراموں کی سب سے طویل مسلسل پیش کی جانے والی ڈرامہ سیریز بن چکی ہے۔ اس سلسلے کا نام دومعتبر عالمی ریکارڈز میں درج ہے، ایک لمکا بُک آف ریکارڈز اور دوسری ورلڈ وائڈ بُک آف ریکارڈز۔یہی وہ چراغ ہے جو ایوبی صاحب کی محبت اور یاد سے آج بھی روشن ہے۔ اللہ تعالیٰ محمود ایوبی صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین۔
(نوٹ: گزشتہ دنوں آئیڈیا کی جانب سے محمود ایوبی کی ۱۵؍ ویں برسی کے موقع پر ایک نشست کا بھی اہتمام کیا گیا تھا)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK