• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سورۂ یوسف سے ملنے والی نصیحتیں

Updated: October 07, 2026, 4:17 PM IST | Muhammad Akhtar Tabish Azhari | Mumbai

قرآن کریم کی جملہ سورتوں کے اندر بہت سے اسباق اور عبرتیں ہیں جن کو علما نے کتابوں میں سپرد قلم کیا ہے ۔ زیرنظر مضمون میں سورہ یوسف کے حوالے سے چند ایسے اسباق پیش کئے جارہے ہیں جن کا ہمیں روزمرہ زندگی میں واسطہ پڑتا ہے ۔امید ہے یہ دروس ہم سب کے لئے نافع اور باعث خیر ہوں گے۔

To gain insight into the events and stories of the Quran, it is essential to reflect on the text and read the translation alongside its recitation. Image: INN
قرآنی واقعات اور قصص سے آگاہی کے لئے ضروری ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ اس میں غور و فکر کیا جائے اور ترجمہ بھی پڑھا جائے۔ تصویر: آئی این این

قرآن مجید کی سورۂ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ کئی  باتوں کی تعلیم دیتا  ہے جن میں سے چند پیش ہیں:

 کچھ لوگ ہم سے ہماری خوبیوں کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں نہ کہ ہماری کمیوں اور خامیوں کی وجہ سے۔ وہ اس لئے نفرت کرتےہیں کہ ہم خوبصورت،پاکیزہ اور ان جیسے نہیں ہیں ،اور لوگوں کو یہ پسند نہیں ہے کہ کوئی ان کو ان کی کمی  یاد دلائے۔ لوگوں کو اپنی خامیاں دیکھنا پسند نہیں ہوتا ہے۔  یوسف علیہ السلام کے بھائی کو ان سے کسی خامی کی وجہ سے عداوت نہیں تھی  بلکہ ان کی خوبصورتی اور والد کی ان سے والہانہ وارفتگی پر عداوت تھی۔ ان کے بھائیوں نے کہا تھا: ’’(وہ وقت یاد کیجئے) جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا کہ واقعی یوسف (علیہ السلام) اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم (دس افراد پر مشتمل) زیادہ قوی جماعت ہیں۔ بیشک ہمارے والد (ان کی محبت کی) کھلی وارفتگی میں گم ہیں۔‘‘ (سورہ یوسف:۸)

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وار اور حملہ ایسی جگہ سے ہوتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا۔ جیسے کہ یوسف علیہ السلام بھیڑیے سے تو بچ گئے مگر اپنے ہی  بھائیوں سے نہیں بچ پائے۔ ہر ایک کو اپنی ہر نعمت نہیں بتانا چاہئے کیوں کہ کچھ لوگوں کی نظریں تنگ اور دل اس سے بھی زیادہ تنگ ہوتے ہیں وہ دوسروں کے پاس موجود چیزوں کو زیادہ دیکھتے ہیں بجائے اس کے کہ اپنے پاس موجود چیزوں پر نظر ڈالیں۔ اسی بات کا خوف یعقوب علیہ السلام کو تھا جب یوسفؑ نے خواب دیکھا اور اپنے والد کو بتایا تو انہوں نے کہا: ’’انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی پُر فریب چال چلیں گے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘ (سورہ یوسف:۵)

یہ بھی پڑھئے:مجوزہ یکساں سول کوڈ اور بہار کی سیاست

مجرم کبھی کبھی خیر خواہی کا لباس پہن لیتا ہے جیسے کہ ابلیس نے آدم علیہ السلام سے کہا تھا: ’کیا میں تمہیں ہمیشہ رہنے والے درخت کا راستہ نہ بتاؤں؟ ‘‘(سورہ طٰہٰ:۱۲۰) اور یوسف ؑ کے بھائیوں نے حضرت یعقوبؑ سے کہا:’’اے ہمارے باپ! آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ یوسفؑ  کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم یقینی طور پر اس کے خیر خواہ ہیں، آپ اسے کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے وہ خوب کھائے اور کھیلے اور بیشک ہم اس کے محافظ ہیں۔‘‘  (سورہ یوسف : ۱۱۔۱۲)

بعض برائیاں بعض دوسری بُرائیوں سے ہلکی ہوتی ہیں  اور لوگ جیسے نیکی میں مختلف ہوتے ہیں ویسے ہی برائی میں بھی ہوتے ہیں ،جیسے کہ یوسف علیہ السلام کے کم برے بھائیوں نے کہا :’’یوسف کو قتل نہ کرو ۔‘‘ (سورہ یوسف:۱۰) 

اپنے خوف ہر ایک کو نہ بتاؤ ورنہ لوگ انہی سے تمہارے خلاف لڑیں گے کیوں کہ یوسف ؑکے  والد نے کہا : ’’بیشک مجھے یہ خیال مغموم کرتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں (اس خیال سے بھی) خوف زدہ ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے اور تم اس (کی حفاظت) سے غافل رہو۔‘‘ (سورہ یوسف: ۱۳) تو ان کے بھائیوں نے آکر کہا : ’’اے ہمارے باپ! ہم لوگ دوڑ میں مقابلہ کرنے چلے گئے اور ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے بھیڑئیے نے کھا لیا۔‘‘ (سورہ یوسف:۱۷)

کوئی جرم مکمل نہیں ہوتا، مجرم سے چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہو ہی جاتی ہیں ، یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کی قمیص پھاڑنا بھول گئے، بھلا کون سا بھیڑیا ہے جو کسی انسان  کو کھا جائے اور قمیص سلامت چھوڑ دے ؟ 

اچھائی اور برائی چیزوں میں نہیں بلکہ ان کے استعمال میں ہوتی ہے ۔ جیسے کہ قمیص کا ذکر اس سورہ میں تین جگہ ہوا ہے واقعات کو یاد کرکے غور کیجئے کہ کبھی یہی قمیص جھوٹ کا ذریعہ بنی،کبھی بے گناہی کی دلیل اور کبھی شفا کا سبب بنی۔

دنیا کوئی خاص بھلائی والی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ کیسی بری ہے  اس کا اندازہ لگ گیا کہ یوسف علیہ السلام کو چند سکوں کے عوض مصر کے بازار میں بیچ دیاگیا: ’’اور بھائیوں نے یوسف کو قافلہ سے لے کر چند درہموں کے عوض ان ہی کے ہاتھ بیچ دیا اور وہ یوسف میں رغبت کرنے والے نہ تھے۔‘‘  (سورہ یوسف:۲۰)

مدارس، جامعات اور کتابیں صرف ذرائع ہیں اصل سکھانے والا اللہ ہے: ’’تاکہ ہم اسے خوابوں کی تعبیر سکھائیں۔‘‘  (سورہ یوسف : ۲۱)

’’اور جب وہ پختگی کی  عمر کو پہنچے تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا کیا۔ اور ہم اسی طرح نیکو کا روںکو جزا دیتے ہیں ۔‘‘ (سورہ یوسف:۲۲)

یہ بھی پڑھئے:’صدقہ (دینے) کا ثواب دس گنا ہے اور قرض (دینے) کا اٹھارہ گنا‘

شریف انسان دھوکہ نہیں دیتا، آزاد انسان احسان کا بدلہ برائی سے نہیں دیتا اور نیک انسان اس کنویں میں تھوکتا نہیں جس سے خود پانی پیا ہو ،کتنی خوبصورت بات ہے جسے یوسف علیہ السلام نے کہا  : ’’ میں اللہ کی پناہ مانگتاہوں ،وہ میرا رب ہے جس نے مجھے اچھا ٹھکانہ دیا ۔ ‘‘ (سورہ یوسف:۲۳)

محفوظ وہی ہے جسے اللہ بچائے اور آزمائش میں وہ پڑتا ہے جسےاللہ اس کی خواہشات کے حوالے کردے۔ جو شخص آسانی میں اللہ کے ساتھ ہو  اللہ مشکل میں اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ یوسف ؑکو اللہ نے محفوظ رکھا اور وہ آسانی  میں اللہ کے ساتھ تھے اللہ مشکل میں ان کے ساتھ رہا۔ 

دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس کام پر مجبور نہیں کر سکتی جو میں نہیں کرنا چاہتا اور جس پر میں بہانے بنانا چھوڑ دوں۔  زلیخا حضرت یوسف علیہ السلام کی مالک تھی اس نے دروازے بند کیے، انہیں بہکایا،حسن،طاقت اور خواہش سب کچھ جمع تھیں مگر حضرت یوسف علیہ السلام نے مزاحمت کی کیوں کہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے ۔ 

جب اللہ کسی بات کو ظاہر کرنا چاہتا ہے تو کوئی اسے چھپا نہیں سکتا۔ یوسف علیہ السلام کے بھائی یوسف کو چھپانا چاہتے تھے لیکن اللہ نے ظاہر کر دیا ، اسی طرح زلیخا معاملے کو چھپانا چاہتی تھی اللہ نے ظاہر کردیا۔ 

دین کی دعوت کا موقع ہر جگہ ہوتا ہے، بس انسان کے اندر دین کی دعوت کا  جذبہ ہوناچاہئے۔ یوسفؑ جیل میں ڈالے گئے وہاں بھی اللہ کی طرف بلاتے رہے اور محل میں بھی رہے تو اللہ کی طرف بلاتے رہے  یعنی دعوت دیتے رہے اور  بادشاہ بنے یا تخت پر بیٹھے تب بھی تبلیغی تسلسل جاری رکھا۔

یہ بھی پڑھئے:سورہ الشرح پڑھی آپ نے؟

حسدہر برائی کی جڑ ہے یہی پہلا گناہ تھا جو آسمان میں ہوا ۔ ابلیس نے آدم علیہ السلام سے حسد کیا۔ زمین پر بھی پہلا گناہ قتل کی صورت میں حسد ہی کی وجہ سے ہوا، ہابیل نے قابیل کا قتل کیا ۔اور یوسف علیہ السلام کو بھی ان کے بھائیوں نے حسد کی وجہ سے کنویں میں ڈالا۔ 

منصوبہ بندی اور تدبیر ضروری ہے۔ لوگ اپنی ضرورتوں تک صرف منصوبہ بندی سے پہنچتے ہیں۔ قحط کے لئے بھی یوسف نے منصوبہ بنایا اور اپنے بھائی کو روکنے کے لئے بھی۔ اللہ کبھی ایسے طریقے سے مدد کرتا ہے جو کسی کے خیال میں بھی نہیں آتا۔ وہ چاہتا تو فرشتے بھیج دیتا مگر اس نے بادشاہ کو خواب دکھایا۔ عہدے عزت نہیں ہوتے، ذمہ داری ہوتے ہیں یوسف ؑنے خزانے اس لئے نہیں مانگے کہ وہ  مالک بن جائیں  بلکہ اس لئے کہ وہ  انہیں صحیح طور پر تقسیم کریں۔

محبت کی ایک خوشبو ہوتی ہے جسے صرف محبت کرنے والے ہی محسوس کرتے ہیں اسی لئے یوسف کے والد نے یوسف کی خوشبو قمیص پہنچنے سے پہلے ہی محسوس کر لی: ’’اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا ان کے والد (یعقوب علیہ السلام) نے (کنعان میں بیٹھے ہی بیٹھے) فرما دیا: بیشک میں یوسف کی خوشبو پا رہا ہوں اگر تم مجھے بڑھاپے کے باعث بہکا ہوا خیال نہ کرو۔‘‘ (سورہ یوسف:۹۴)

(استاد جامعہ عارفیہ سید سراوان کوشامبی )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK