Inquilab Logo Happiest Places to Work

رکن پارلیمنٹ پپو یادونے تیجسوی یادوکی قائدانہ صلاحیت پر سوال اٹھایا

Updated: August 06, 2026, 10:27 AM IST | Patna

پورنیہ کےرکن پارلیمنٹ نے کہا: آرجے ڈی کے بڑے لیڈر عوام سے کٹ چکے ہیں، پارٹی کا پیغام عام لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہا ہے۔

Member of Parliament Pappu Yadav. Photo: INN
رکن پارلیمنٹ پپو یادو۔ تصویر: آئی این این

بانکی پورضمنی انتخاب کے نتائج نے بہار کی سیاست میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ اس انتخاب میں جہاں ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا، وہیں دوسری طرف راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) بھی توقع کے برخلاف بہت پیچھے رہ گئی۔ نتائج کے بعد تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی خامیوں کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ اسی دوران پورنیہ سے رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے آر جے ڈی کی موجودہ قیادت پر سخت تنقید کی ہے۔انہوں نے تیجسوی یادو کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آر جے ڈی کی موجودہ قیادت عوام اور سیاست دونوں پر اپنی گرفت کھو چکی ہے۔ پارٹی کے بڑے لیڈر عوام کے مسائل اور ان کی سوچ سے پوری طرح کٹ چکے ہیں جس کے سبب پارٹی کا پیغام عام لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایوت محل میں صرف ۶؍ ماہ میں ۱۵۲؍ کسانوں کی خود کشی، کئی کسان معاوضوں سے محروم

بی جے پی کی شکست کی وجہ نوجوانوں کی ناراضگی

رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے بی جے پی کی شکست کی بنیادی وجہ نوجوانوں کے غصے کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بانکی پور کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام نے اپنی ناراضگی کا اظہار ووٹ کے ذریعے کیا اور نوجوانوں نے ایک نئے متبادل کا انتخاب کیا۔چڑھاوا چوری سے متعلق تنازع، نوجوانوں پر پولیس کی لاٹھی چارج اور خواتین کے خلاف پولیس کارروائی جیسے معاملات نے انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈالا۔ ان واقعات کے باعث عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی تھی، جس کا واضح اثر ووٹنگ کے نتائج میں نظر آیا۔

متبادل نہ ہونے سے پرشانت کشور کو فائدہ ملا

پپو یادو نے کہا کہ بانکی پور میں بی جےپی کو شکست دینے کے لئے متبادل موجود نہیں تھا۔ آرجے ڈی کی موجودہ قیادت سیاسی اور سماجی اعتبار سے ختم ہوچکی ہے۔ان کی سوچ اب دور دور تک عام آدمی والی نہیں رہی۔ اسی وجہ سے نوجوانوں نے پرشانت کشور کو ایک نئے سیاسی متبادل کے طور پر دیکھا اور انہیں موقع دیا جس کا فائدہ انہیں بانکی پور ضمنی انتخاب میں ملا۔

یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کا قلعہ کہلانے والے بانکی پور میں پارٹی کو شکست کیسے ہوئی؟

آر جے ڈی کے اندر بھی سوالات اٹھنے لگے

ادھر بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب میں آر جے ڈی کی امیدوار ریکھا گپتا کے تیسرے مقام پر رہنے کے بعد پارٹی کے اندر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ آر جے ڈی کے رکن اسمبلی بھائی وریندر نے تیجسوی یادو کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد ایسے افراد کو جگہ نہ دیں جن کی وجہ سے عوام میں پارٹی کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK