Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج ہم جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں، وہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے!

Updated: April 03, 2026, 4:19 PM IST | Maulana Yousuf Ludhyanvi | Mumbai

حق تعالیٰ شانہٗ نے انسان کی سعادت وشقاوت کو اس کے اعمال سے وابستہ فرمایا ہے۔ ہر عمل پر اس کے مناسب ردّ عمل کا ظہور ہوتا ہے۔ بندوں کے جس قسم کے اعمال آسمان پر جائیں گے، اُنہی کی مناسبت سے اُن کے حق میں آسمان سے فیصلے صادر ہوں گے۔

It should be noted that reducing the measure and weight is considered treason and leads to the cessation of sustenance. Photo: INN
خیال رہے کہ ناپ تول میں کمی کرنا خیانت ہے اور اس کی وجہ سے رزق بند کردیا جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

حق تعالیٰ شانہٗ نے انسان کی سعادت وشقاوت کو اس کے اعمال سے وابستہ فرمایا ہے۔ ہر عمل پر اس کے مناسب ردّ عمل کا ظہور ہوتا ہے۔ بندوں کے جس قسم کے اعمال آسمان پر جائیں گے، اُنہی کی مناسبت سے  اُن کے حق میں آسمان سے فیصلے صادر ہوں گے۔ اعمالِ خیر پر خیر کے فیصلے آئینگے اور اعمالِ شر پر دوسری نوعیت کے فیصلے ہوںگے۔ انفرادی اعمال پر افراد کے بارے میں شخصی فیصلے ہوںگے اور اجتماعی اعمال پر مجموعی طور پر قوم یا طبقہ کے بارے میں فیصلے ہوں گے۔
اعمال کے ثمرات ونتائج دنیا میں بھی رونما ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی ہوں گے۔ اچھے اعمال پر جس طرح اخروی سعادت مرتب ہوتی ہے، اسی طرح دنیا میں سعادت وکامرانی نصیب ہوتی ہے۔ اور برے اعمال پر آخرت کی شقاوت و خسران کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی عذاب کی شکلیں نمودار ہوتی ہیں۔ نیک وبد اعمال کے پورے نتائج کا ظہور تو آخرت میں ہوگا، کیونکہ کامل جزا وسزا کے لئے قیامت کا دن تجویز فرمایا گیا ہے، لیکن بطورِ نمونہ کچھ نتائج یا کم سے کم ان نتائج کی ہلکی سی جھلک، دنیا میں بھی رونما ہوتی ہے، تاکہ معاملہ یکسر اُدھار پر نہ رہے، بلکہ کچھ تھوڑا سانقد بھی دے دیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا نئی نسل روحانیت سے آگاہ ہے؟

ہمارے یہاں جزا وسزا کے تصور میں دو غلطیاں بہت عام ہوگئی ہیں۔ تقریباً سبھی  عوام وخواص، الا ماشاء اللہ! ان میں مبتلا نظر آتے ہیں: ایک یہ کہ اچھے بُرے اعمال کے نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے،  اُسی وقت جزا وسزا بھی ہوگی۔ ہماری اس دنیوی زندگی کو نیک وبد اعمال کی جزا وسزا سے کوئی تعلق نہیں۔ اس زندگی میں نیک وبد اعمال پر کوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا، نہ یہاں کسی کو اپنے کئے کی جزا یا سزا ملتی ہے۔ دوسرا یہ کہ آخرت کی جزا و سزا پر اگرچہ ایمان ہے، لیکن خواہشات کے غلبہ وتسلط، غفلت آمیز ماحول کی تاریکی اور دنیوی لذات کی حلاوت و شیرینی نے آخرت کی جزا وسزا کے تصور کو بہت ہی دھندلا اور مضمحل کردیا ہے۔ اس کا استحضار ہی نہیں رہتا کہ جو اعمال ہم اپنے نامۂ عمل میں درج کرا رہے ہیں، قیامت کے دن اُن کے ایک ایک ذرّہ کا حساب بھی دینا ہوگا حالانکہ قرآن مجید میں واضح طور پر فرما دیا گیا ہے:’’سو جو شخص (دنیا میں) ذرہ برابر نیکی کرے گا، وہ (وہاں) اس کو دیکھ لے گا اور جو شخص ذرہ برابر بدی کرے گا، وہ اس کو دیکھ لے گا۔‘‘(الزلزال:۷،۸)
اور جن گناہوںکا بوجھ ہم آج لاد رہے ہیں، کل اُسے خود اپنی ناتواں کمر پر اٹھانا ہوگا۔ قرآن فرماتا ہے: ’’پس ایسے لوگ نقصان میں رہے جنہوں نے اﷲ کی ملاقات کو جھٹلا دیا یہاں تک کہ جب ان کے پاس اچانک قیامت آپہنچے گی (تو) کہیں گے: ہائے افسوس! ہم پر جو ہم نے اس (قیامت پر ایمان لانے) کے بارے میں (تقصیر) کی، اور وہ اپنی پیٹھوں پر اپنے (گناہوں کے) بوجھ لادے ہوئے ہوں گے، سن لو! وہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں۔‘‘   (سورہ الانعام: ۳۱)۔ اتنی واضح تنبیہ کے باوجود ہمارے طرزِ زندگی سے ایسا لگتا ہے کہ آخرت کی جزا وسزا کا ہمارے دنیوی اعمال سے کوئی ربط و تعلق نہیں، آخرت کا معاملہ اس دُنیا سے یکسر بے تعلق ہے، ہم خواہ کیسے ہی عمل کرتے رہیں، ہم سے کوئی باز پُرس نہیں ہوگی، اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہیں، خود ہی معاف فرمادیںگے۔ ظاہر ہے کہ غفلت کی یہ کیفیت ہماری کھلی حماقت ہے۔  حدیث شریف میں ارشاد ہے:
’’ہوشیار اور عقلمند تو وہ ہے جس نے اپنے نفس کو رام کرلیا اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے عمل کیااور احمق ہے وہ شخص جس نے نفس کو اس کی خواہشات کے پیچھے لگا دیا اور اللہ تعالیٰ پر آرزوئیں دھرنے لگا۔‘‘(مشکوٰۃ،ص:۴۵۱)

یہ بھی پڑھئے: عبادت مسجد تک محدود نہیں؛ یہ گھر، بازار اور مسافر کی تھکن تک دراز ہے

الغرض ان دو غلطیوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ہم اصلاحِ اعمال کی فکر سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ نتیجہ ہے کہ ہمیں نہ اصلاحِ دنیا کیلئے اصلاحِ اعمال کی فکر ہے  نہ اصلاحِ آخرت کے لئے۔
قرآن کریم کی آیات بینات اور ارشادات نبویؐ  میں اعمال کے دنیوی نتائج بکثرت مذکور ہیں۔ ایک حدیث مبارکہ ہے:
’جس قوم میں خیانت عام ہوجاتی ہے، ا س کے دل میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جس قوم میں زنا عام ہوجاتا ہے، ان میں اموات کثرت سے ہونے لگتی ہیں۔ جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، اس کا رزق بند کردیا جاتا ہے۔ جو حق کے خلاف فیصلے کرتی ہے، اس میں خونریزی عام ہوجاتی ہے اور جو قوم عہد شکنی کرتی ہے، اس پر دشمن کا تسلط ہوجاتا ہے۔‘‘(مشکوٰۃ،ص:۴۵۱)
اس حدیث میں جن پانچ گناہوں کے پانچ ہولناک نتائج ذکر کئے گئے ہیں، آج کا معاشرہ پوری طرح اُن کی لپیٹ میں ہے۔اس پر ہمیں غور کرنا چاہئے، اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور اپنی اصلاح کی جانب قدم بڑھانا چاہئے۔ رب تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے، آمین۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK