Inquilab Logo Happiest Places to Work

عبادت مسجد تک محدود نہیں؛ یہ گھر، بازار اور مسافر کی تھکن تک دراز ہے

Updated: April 03, 2026, 3:58 PM IST | Muhammad Jamil Akhtar Jalili | Mumbai

سجدہ بندگی کی علامت ہے؛ مگر بندگی کی ساری کہانی نہیں۔ سجدوں سے آگے بھی ایک جہاں آباد ہے، ایساجہاں، جس میں انسان کا کردار، اس کا طرزعمل اور اس کا سلوک اس کے ایمان کا پتہ دیتا ہے۔

Worship is not merely a private matter between the Creator and the creature. Photo: INN
عبادت محض خالق اور مخلوق کے درمیان کا نجی معاملہ نہیں۔ تصویر: آئی این این

سجدہ بندگی کی علامت ہے؛ مگر بندگی کی ساری کہانی نہیں۔ سجدوں سے آگے بھی ایک جہاں آباد ہے، ایساجہاں، جس میں انسان کا کردار، اس کا طرزعمل اور اس کا سلوک اس کے ایمان کا پتہ دیتا ہے۔ انسانی زندگی کا توازن دو ستونوں پر قائم ہے: ایک حقُ اللہ اور دوسرا حقوقُ العباد۔ ہم مصلّوں پر آنسو بہاتے ہیں، روزے کی سختی سہتے ہیں، تلاوتِ قرآن سے روح کو منور کرتے ہیں؛ لیکن کیا کبھی لمحہ بھر کو رک کر اپنے گریبان میں جھانکا ہے کہ کہیں ہماری جبینِ نیاز کا نور کسی مظلوم کی آہ سے دھندلا تو نہیں رہا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری عبادتوں کی روشنی کسی دل آزاری کے دھوئیں میں مدھم پڑ گئی ہو؟

عبادت محض خالق اور مخلوق کے درمیان کا نجی معاملہ نہیں؛ بلکہ سچی بندگی وہ ہے، جو اللہ کے بندوں کے لئے سراپا رحمت بن جائے، جو سجدے میں جھکے تو تکبر ٹوٹ جائے اور جب سر اٹھائے تو اس کے ہاتھ سے کسی کو اذیت نہ پہنچے اور اس کی زبان سے کسی کا دل مجروح نہ ہو۔ قرآنِ کریم نے جہاں اللہ کی عبادت کا حکم دیا ہے، وہیں اس کے ساتھ بندوں کے حقوق کو اس طرح جوڑا ہے کہ گویا بندگی کی تکمیل اسی سے ہوتی ہے، ارشاد باری ہے:

’’اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے) اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر (سے)، اور جن کے تم مالک ہو چکے ہو، (ان سے نیکی کیا کرو)، بیشک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبر کرنے والا (مغرور) فخر کرنے والا (خود بیں) ہو۔‘‘ (النساء:۳۶)

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عبادت کا دائرہ مسجد کی دیواروں تک محدود نہیں؛ بلکہ گھر کی دہلیز، بازار کی گہماگہمی، ہمسائے کے دروازے اور مسافر کی تھکن تک پھیلا ہوا ہے۔

رسولؐ اکرم نے حقوق العباد کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کیلئے وہی پسند نہ کرے، جو وہ اپنے لئے کرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری) ایک دوسری حدیث میں پڑوسی کے حق کی رعایت کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ’’خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، جس کا ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔‘‘(صحیح بخاری)

ان تعلیمات کی روشنی میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ایمان کی اصل کسوٹی انسان کا طرزِ عمل ہے۔ حقوق العباد محض سماجی آداب نہیں؛ بلکہ وہ الٰہی امانتیں ہیں، جن کا حساب روزِ محشر ہوگا۔ کسی کا دل نہ دکھانا، امانت و دیانت کا پاس رکھنا، کسی کا مالِ ناحق نہ دبانا، وعدے کی پاسداری کرنا، والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ہمسایوں کے حقوق ادا کرنا: یہ سب عبادت ہی کی صورتیں ہیں، مومن کا دل بیت اللہ سے کم حرمت نہیں رکھتا، اسے توڑنا گویا اپنی نیکیوں کی بنیاد میں دراڑ ڈالنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا نئی نسل روحانیت سے آگاہ ہے؟

ایک لرزہ خیز حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہئےکہ اللہ غفور و رحیم ہے، وہ اپنے حقوق میں کوتاہی کو اپنی رحمت سے معاف فرما سکتا ہے؛ لیکن بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہونگے، جب تک صاحبِ حق خود معاف نہ کر دے۔ قیامت کے دن’’مفلس‘‘ وہ نہیں ہوگا، جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں؛ بلکہ وہ ہوگا ،جو نیکیوں کے انبار لے کر آئے گا؛ مگر کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان باندھا ہوگا، کسی کا حق مارا ہوگا، پھر اس کی نیکیاں حق داروں میں بانٹ دی جائیں گی اور اگر نیکیاں ختم ہوگئیں تو اُن کے گناہ اِس کے کھاتے میں ڈال دئیے جائیں گے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم تسبیح کے دانے تو گھماتے ہیں؛ مگر معاملات میں انصاف نہیں کرتے، گھریلو ملازموں سے فرعونیت کا لہجہ اپناتے ہیں، کاروبار میں ناپ تول کی کمی اور ملاوٹ کو ہنر سمجھتے ہیں، میراث میں بہن بھائیوں کا حق ہڑپ کر جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر دوسروں کی عزت اچھال کر تفریح محسوس کرتے ہیں، ایسے میں ہماری عبادتیں محض رسم بن کر رہ جاتی ہیں اور روحانیت کا دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ظلم کی جڑیں فردِ واحد کے رویوں اور گھروں سے پنپتی ہیں

آئیے! آج اپنا محاسبہ کریں، اس سے پہلے کہ موت کا فرشتہ مہلت چھین لے، اگر کسی کا دل دکھایا ہے تو معافی مانگ لیں، اگر کسی کا مال دبایا ہے تو لوٹا دیں، اگر کسی سے ناانصافی کی ہے تو تلافی کر لیں، ٹوٹے ہوئے دل جوڑ دینا ہزار نفلوں سے بڑھ کر ہے؛ کیوں کہ اللہ کے نزدیک بندے کا دل بڑی حرمت رکھتا ہے۔ رب العالمین ہمیں اپنی بندگی کے ساتھ ساتھ اپنے بندوں کے حقوق پہچاننے، انہیں خلوصِ دل سے ادا کرنے اور کسی کا حق باقی نہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK