اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے نیٹ پیپرلیک کے خلاف مختلف ریاستوں میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں سے ملاقات کی۔
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 9:47 AM IST | New Delhi
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے نیٹ پیپرلیک کے خلاف مختلف ریاستوں میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں سے ملاقات کی۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے نیٹ پیپرلیک کے خلاف مختلف ریاستوں میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں سے ملاقات کی۔ ان نوجوانوں سے ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈرنے کہا کہ وہ تعلیمی نظام اور آئین کے تحفظ کے لئے لڑنے والے ان نوجوانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ان نوجوانوں نے کسی کے خلاف تشدد کا استعمال نہیں کیا، پھر بھی انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیںاور ہراساں کیا جارہا ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ظلم کسی کے بھی ساتھ ہو، لیکن ہمیں بطور شہری اس شخص کی حفاظت کرنی چا ہئے۔ راہل گاندھی نے ان نوجوانوں پر فخر کا اظہارکیا جوناانصافی کے خلاف خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور انہیں کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ۔ راہل گاندھی نے ایکس پر بھی لکھا ’’ہندوستان کے مستقبل کو دیکھیں ۔ نوجوان، نڈر، بے باک اور محب وطن ہیں اور وزیر اعظم اور وزیر داخلہ؟ نہ ان میں پارلیمنٹ میں آنے کی ہمت ہے اور نہ ہی جواب دینے کی۔‘‘راہل گاندھی نے مزیدکہا کہ ان نوجوانوںکیلئے یہاں آنا آسان نہیں ہے۔ یہ ہمت کا کام ہے۔ ان نوجوانوں کو ہراسانی اور تشدد کا سامنا ہے۔انہیں اس بات پر بہت فخر ہے کہ وہ جو کچھ محسوس کر رہے ہیں اور جو انہوں نے تجربہ کیا اس کے بارے میں بات کرنے کی ان میں ہمت ہے۔اس ملک کو ایسی ہی نوجوان نسل کی ضرورت ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے خلاف تشدد کےذمہ دار ہندوستان کے وزیر داخلہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پونے میں ایس آئی آر کے بعد ۱۱؍ لاکھ ووٹروں کے نام کٹ جائیں گے
وزیر داخلہ میں نہ پارلیمنٹ میں آنے اور نہ ہی جو کچھ ہوا ہے اس پر تبصرہ کرنے کی ہمت ہے۔ اس کے دوامکانات ہیں۔ امیت شاہ کو معلوم نہیں تھا کہ تشدد کیا جا رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ نااہل ہیں۔ اگر انہوں نے طلبہ کے خلاف تشدد کا حکم دیا تو اس کا مطلب ہےکہ وہ قصوروار ہیں۔ دونوں صورت میں وہ ذمہ دار ہیں۔ راہل گاندھی کے ساتھ پریس کانفرنس میں موجود ایک طالبہ ریا آہیر نے کہا کہ’’ میں وہی لڑکی ہوں جس نے ممبئی میں پولیس وین کو روکا تھا اور اب میرے بارے میں بہت سی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ میں نے ۲۰؍ بچوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے سے روکا۔ اب مجھے ہراساں کیا جا رہا ہے ۔میں نے ۲۷؍جولائی کو پولیس میں شکایت درج کروائی، لیکن آج ۵؍ اگست ہے اور ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ تاہم مجھے خوشی ہے کہ میں جن نوجوانوں کے لئے کھڑئی ہوئی تھی وہ آج میرے ساتھ کھڑےہیں۔‘‘ ایک دیگر طالبہ نوتن ٹوپو نے کہا’’ میں نے ذاتی طور پر پیلٹ گن کو ہماری طرف دیکھا۔ جیسے ہی میں مڑی، انہوںنے گولی چلائی جس سے میں زخمی ہوگئی۔ اس کے باوجود جب بھی مجھے ناانصافی کے خلاف لڑنے کا موقع ملا، میں لڑوں گی۔‘‘ ایک طالب علم بھرت بنایت نے کہا’’جب ہم نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا تو ہمارے ساتھ اتنا وحشیانہ سلوک کیا گیا،اگر ہم امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے تو شاید ہمیں گولی مار دی جاتی۔‘‘ ایک طالبہ فرح ناز نے کہا’’ہم ۲۰؍جولائی کو جنتر منتر پر پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ اس وقت پولیس نے ہم پر لاٹھی چارج کیا۔ اس کے بعد پولیس نے ہمیں حراست میں لے لیا اور غدار کہا، لیکن کوئی کچھ بھی سوچے ہم ملک اور اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘‘