ایک مہلوک نوجوان کیخلاف مارچ میں بھی کیس درج کیا گیا تھا جس میں شکایت کنندہ نے کہاتھا کہ تُو اتنی اسپیڈ میں کار کیوں چلا رہا ہے؟ پولیس پرانے کیس کی بھی تفصیل حاصل کرے گی۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 4:45 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
ایک مہلوک نوجوان کیخلاف مارچ میں بھی کیس درج کیا گیا تھا جس میں شکایت کنندہ نے کہاتھا کہ تُو اتنی اسپیڈ میں کار کیوں چلا رہا ہے؟ پولیس پرانے کیس کی بھی تفصیل حاصل کرے گی۔
جو بی ایم ڈبلیو کار اتوار کو کوسٹل روڈ سے گر کر حادثے کا شکار ہوئی ہے، اسے چلانے والے نوجوان کے خلاف تیز رفتار اور لاپروائی سے گاڑی چلانے کی وجہ سے چند ماہ قبل ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔ اتوار کو پیش آنے والے حادثے کے بعد تاڑدیو پولیس نے شکایت میں اسے ہی حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ملزم بنایا ہے اور اس مرتبہ بھی انتہائی تیز رفتاری حادثہ کی وجہ بنی ہے۔ اس دوران حادثے میں شدید زخمی ہونے والے نوجوان کی حالت ہنوز نازک ہے۔
اس حادثے کے بعد کوسٹل روڈ پر ’اوور اسپیڈنگ(مقررہ رفتار سے زیادہ)‘ کی نگرانی کیلئے نصب کئے گئے کیمروں کو سپلائی کرنے والی کمپنی کے مطابق یہ کیمرے دن کی روشنی میں ۱۲۰؍ کلو میٹر فی گھنٹہ اور رات کو دستیاب روشنی کے حساب سے ۱۰۰؍ کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تیز جانے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹ نہیں پڑھ سکتے۔ مہنگی اسپورٹس کار رکھنے اور انتہائی تیز رفتاری سے کار چلانے کے بہت سے شوقین افراد کو اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے بہت سے افراد ان کیمروں کی زد میں آنے سے بچنے کیلئے بہت زیادہ تیز رفتاری سے گاڑیاں چلاتے ہیں جس سے ان کی اور دوسروں کی جانوں کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ واضح رہے کہ کوسٹل روڈ پر زیادہ سے زیادہ ۸۰؍ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کاریں چلانے کی اجازت ہے۔ مرین ڈرائیو پر پرنسس اسٹریٹ سے ورلی کے درمیان واقع ۱۱؍ کلومیٹر طویل کوسٹل روڈ پر نصب کئے گئے کیمرے جس’اسپرش‘ کمپنی نے فراہم کئے ہیں ، اس کے منیجنگ ڈائریکٹر سنجیو سیگھل نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کیمروں سے دن میں زیادہ سے زیادہ ۱۲۰؍ کلو میٹر فی گھنٹہ اور رات میں ۱۰۰؍ کلو میٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے دوڑنے والی گاڑیوں کی ہی نمبر پلیٹ پڑھی جاسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جرمنی: بائیں بازو کی لیڈر ایلف ایرالپ کا مطالبہ، فلسطینی موقف کو تسلیم کیا جائے
تاڑدیو پولیس نے جو ایف آئی آر درج کی ہے، اس میں کار چلانے والے سنئے گجّر (۲۱)کو ہی ملزم بنایاگیا ہے کہ اس کی لاپروائی کی وجہ سے حادثہ پیش آیا جس میں اس کے دوستوں کی موت ہوگئی اور ایک نوجوان آدتیہ اوسوال زندہ بچ گیا لیکن اس کی بھی حالت نازک ہے۔ایف آئی آر میں پولیس نے یہ بھی درج کیا ہے کہ اتوار کو حادثہ کے بعد سنئے کا آدھا جسم کار کے باہر اور پیر ایکسیلیٹر پر تھا۔ایک تفتیشی افسر کے مطابق اس وجہ سے ایسا اندازہ ہورہا ہےکہ سنئے کار زمین پر گرنے کے بعد کچھ دیر زندہ رہا ہوگا اور یا تو وہ باہر نکلنے کی کوشش کررہا تھا یا وہ اس کے دوستوں کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ پولیس ان تمام زاویوں کی جانچ کرے گی اور اس کیلئے جو فورینسک سائنس لیباریٹری کی ٹیم وہاں بھیجی گئی تھی، اس کی بھی مدد لی جائے گی۔
پرانا کیس
اس سے قبل تاڑدیو میں رہنے والے اومکار شرکے (۲۹) نے سنئے گجّر کے خلاف ۲۸؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ اس ایف آئی آر میں شکایت کنندہ کا جملہ درج ہے کہ ’’تُو اتنی اسپیڈ میں کار کیوں چلا رہا ہے؟‘‘ جس سے پتہ چلتا ہے کہ سنئے گجر ماضی میں بھی تیز رفتار اور لاپروائی سے گاڑی چلاتا رہا ہے۔ اگرچہ ایف آئی آر نامعلوم شخص کے خلاف درج ہے لیکن اس میں اسی کار کا نمبر درج ہے اور اومکار نے اُس وقت کا ویڈیو بنایا تھا جسے اس نے کوسٹل روڈ والے حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے اور وہ ویڈیو وائرل ہوگیا ہے۔ اس ویڈیو میں مہلوک سنئے گجر ڈرائیور کی سیٹ پر نظر آرہا ہے۔ اس وقت ایف آئی آر اس وجہ سے درج کرائی گئی تھی کہ اومکار اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنی موٹر سائیکل پرتفریح کرکے جب اپنے گھر لوٹ رہا تھا تب شب ۱۱؍ بج کر ۱۵؍ منٹ پر بریچ کینڈی اسپتال کے پاس متذکرہ بی ایم ڈبلیو کار سے انہیں انتہائی خطرناک انداز میں اوور ٹیک کیا گیا تھا اور پھر وہ کار آگے چلی گئی تھی۔ تاہم مہالکشمی مندر کے پاس اومکار کو وہ کار مل گئی جس پر ان کی اس کے ڈرائیور سے بحث ہوئی لیکن وہ نوجوان وہاں سے کار لے کر چلا گیا۔ تاہم اومکار نے اس کے خلاف گائوں دیوی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروادی تھی۔