عزت و شہرت خدائی تحفے ہیں، جو انسانی خواہش سے نہیں بلکہ خدائی حکمت سے ملتے ہیں۔ ہاں، اللہ رب العزت نے ایسے راستے ضرور بتائے ہیں جن پر چلنے سے انسان کو عزت و مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔
EPAPER
Updated: October 17, 2026, 4:20 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
عزت و شہرت خدائی تحفے ہیں، جو انسانی خواہش سے نہیں بلکہ خدائی حکمت سے ملتے ہیں۔ ہاں، اللہ رب العزت نے ایسے راستے ضرور بتائے ہیں جن پر چلنے سے انسان کو عزت و مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔
عزت و شہرت خدائی تحفے ہیں، جو انسانی خواہش سے نہیں بلکہ خدائی حکمت سے ملتے ہیں۔ ہاں، اللہ رب العزت نے ایسے راستے ضرور بتائے ہیں جن پر چلنے سے انسان کو عزت و مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جن لوگوں نے اخلاص، تقویٰ، علم، عمل، خدمت ِ خلق اور ایثار و قربانی کو اپنی زندگی کا شعار بنایا، انہیں زمانے نے عزت کی نگاہ سے دیکھا اور ان کے نام دلوں میں محفوظ ہوگئے۔ اس کے برعکس، بہت سے لوگ شہرت کے حصول کے لئے اپنی زندگیاں کھپا دیتے ہیں، مگر وقت کی گرد اِن کے نام و نشان کو مٹا دیتی ہے۔ قرآن مجید کا اعلان ہے: ’’اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔‘‘ (آل عمران: ۲۶) لہٰذا عقل مندی کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان شہرت کے پیچھے اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کردے، بلکہ یہ ہے کہ اپنے کردار کو اس معیار پر استوار کرے کہ اس کا رب اس سے راضی ہوجائے۔
رسول اکرم ﷺنے حقیقی مقبولیت کا ایک ایسا راز بیان فرمایا ہے جسے سمجھ لیا جائے تو شہرت کے پیچھے بھاگنے کی خواہش خود بخود دم توڑ دے۔ حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ حضورپاکؐ نے فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبریل ؑکو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل ؑ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو؛ چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لئے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔‘‘ (صحیح البخاری)
یہ بھی پڑھئے: علم کو سمجھئے کہ کیا ہے!
اس حدیث مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی مقبولیت کا تعلق محض ظاہری نمود و نمائش، تشہیری مہمات اور عوامی پزیرائی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت سے ہے۔ افسوس کہ ہم نے مقبولیت کا پیمانہ بدل دیا ہے؛ اب ہمیں یہ فکر کم ہوتی ہے کہ آسمانوں میں ہمارا کیا مقام ہے، اور یہ فکر زیادہ ستاتی ہے کہ دنیا میں ہماری کتنی تشہیر ہورہی ہے۔ حالاں کہ مومن کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ لوگوں کی نگاہوں میں بڑا بننے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول بننے کی فکر کرے۔
مذکورہ حقیقت کے باوجود آج کے دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ صرف دنیاوی کاموں کے ذریعے ہی نہیں، بلکہ دینی کاموں کے ذریعے بھی وائرل ہونا چاہتے ہیں یعنی شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی خدمت ِ خلق کرتا ہے تو اس کی پہلی فکر یہ ہوتی ہے کہ اس کی ویڈیو کتنے لوگوں تک پہنچے گی؛ کوئی غریب کی مدد کرتا ہے تو اس کی نگاہ امداد کے مستحق کی ضرورت سے زیادہ کیمرے کی سمت ہوتی ہے؛ کوئی دینی مجلس منعقد کرتا ہے تو اسے اپنی تقریر کے اثر سے زیادہ اس کی ریکارڈنگ کے پھیلاؤ کی فکر لاحق رہتی ہے۔ کہیں تلاوت، کہیں وعظ و نصیحت، کہیں دینی درس، کہیں فلاحی سرگرمی اور کہیں یتیموں کی کفالت بھی تشہیر کے رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ بلاشبہ دینی تعلیمات کی اشاعت، نیکی کی ترغیب اور فلاحی کاموں کی تشہیر بعض حالات میں مفید اور مطلوب ہوسکتی ہے، لیکن جب ان کاموں کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے بجائے اپنی ذات کو نمایاں کرنا بن جائے تو معاملہ خطرناک ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کی نگرانی ہوتی ہے
آج سوشل میڈیا نے شہرت بٹورنے اور وائرل ہونے کی چاہت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والا ہر شخص اس حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ چند لمحوں میں کوئی تصویر، ویڈیو یا جملہ ہزاروں اور لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ سہولت اپنی جگہ ایک بڑی نعمت ہے، لیکن جب یہی سہولت انسانی نفس کی خواہشات کے ہاتھ میں کھلونا بن جائے تو اس کے نتائج نہایت افسوس ناک ہوسکتے ہیں۔ اب بعض لوگوں کے لئے کسی کام کی اہمیت کا معیار اس کی افادیت نہیں، بلکہ اس پر ملنے والے لائکس، کمنٹس، شیئرز اور ویوز کی تعداد بن گئی ہے۔ کوئی غیر سنجیدہ حرکت کرتا ہے، کوئی دوسروں کا مذاق اڑاتا ہے، کوئی متنازع گفتگو کے ذریعے لوگوں کو مشتعل کرتا ہے اور کوئی اپنی نجی زندگی کے پردے چاک کرکے محض چند لمحوں کی مقبولیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی عزت، وقار اور خاندانی اقدار کو بھی اس عارضی شہرت کی بھینٹ چڑھانے سے دریغ نہیں کرتے۔ ان کے لئے یہ سوال اہم نہیں رہتا کہ لوگ انہیں کس نگاہ سے دیکھیں گے، بلکہ اصل فکر یہ ہوتی ہے کہ ان کی ویڈیو وائرل ہوگی یا نہیں۔
شہرت پانے کی خواہش، بالفاظِ دیگر وائرل ہونے کی تمنا میں انسان اپنے کام کی روح کو کس حد تک مجروح کردیتا ہے، اگر اسے اس کا صحیح اندازہ ہوجائے تو شاید وہ اپنی نیت کی اصلاح کے لئے فوراً متوجہ ہوجائے۔ کسی بھی عمل میں نیت کا بنیادی کردار ہے؛ اسی حقیقت کو اللہ کے رسولؐ نے ایک جامع اور فیصلہ کن اصول کے ذریعے واضح فرمایا: ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔‘‘ (صحیح البخاری) اس حدیث کے پس منظر میں ہجرت کے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا جاتا ہے جس میں ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کی غرض سے ہجرت کی تھی۔ اس حدیث کا اصول بالکل واضح ہے کہ عمل کی قدر و قیمت میں نیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسی اصول کی روشنی میں ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے۔ یہ بات بھی سمجھنی ضروری ہے کہ کسی مفید کام کو زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی نیت بذاتِ خود مذموم نہیں؛ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب شہرت اصل مقصد بن جائے ۔ لہٰذا ہمیں صرف اپنے اعمال کی اصلاح ہی نہیں کرنی، بلکہ ان کے پیچھے چھپی ہوئی نیتوں کی نگرانی بھی کرنی ہے۔
یاد رکھئے! جب وائرل ہونے کی خواہش انسان کو ریاکاری، تکبر، اخلاقی حدود سے تجاوز یا دوسروں کی تحقیر کی طرف لے جائے تو اس سے حقیقی فائدے کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی کسی حرکت، تقریر، تصویر یا ویڈیو کی وجہ سے راتوں رات مشہور ہوجائے؛ ممکن ہے کہ اس کے فون پر مبارک باد کے پیغامات کی بھرمار ہوجائے اور اس کے نام کے گرد تعریفوں کا ہجوم جمع ہوجائے، لیکن کیا اس سے اس کے دل کو لازماً سکون بھی مل جائے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ شہرت کی لذت اکثر نئی خواہشات کو جنم دیتی ہے۔ آج ایک ہزار ویوز ملے تو کل دس ہزار کی طلب پیدا ہوتی ہے؛ آج چند سو لوگوں نے تعریف کی تو کل لاکھوں لوگوں کی توجہ درکار ہوتی ہے۔ یوں انسان دوسروں کی توجہ کا اسیر بنتا چلا جاتا ہے اور اپنی خوشی کا اختیار اپنے ہاتھوں سے نکال کر لوگوں کے ردِعمل کے حوالے کردیتا ہے۔ کبھی کسی کی تنقید اس کا سکون چھین لیتی ہے، کبھی ویوز کی کمی اسے بے چین کردیتی ہے اور کبھی کسی دوسرے کی مقبولیت اس کے دل میں حسد کی آگ بھڑکا دیتی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اخلاص کے ساتھ کام کرتا ہے، وہ اپنی کوشش کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرکے آگے بڑھتا ہے۔ اسے یہ اطمینان رہتا ہے کہ اس کی محنت رائیگاں نہیں، خواہ دنیا اسے دیکھے یا نہ دیکھے۔
وائرل ہونے کی خواہش کا اخروی نقصان بھی نہایت سنگین ہوسکتا ہے، خصوصاً جب اس کے پیچھے ریاکاری اور لوگوں سے تعریف حاصل کرنے کی نیت کارفرما ہو۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایسے نمازیوں کے لئے سخت وعید بیان فرمائی ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں اور دکھاوا کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ان نمازیوں کے لئے تباہی ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں اور دکھاوا کرتے ہیں۔‘‘ (الماعون: ۱۔۲)
یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، مستقل مزاجی کا فقدان بھی ایک غیر شرعی عمل ہے
آئیے خود سے یہ سوالات کریں!
آئیے! ہم اپنی زندگی کے اس رخ پر سنجیدگی سے غور کریں اور خود سے چند سوالات کریں: کیا ہم واقعی لوگوں کی اصلاح چاہتے ہیں یا صرف اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم علم اس لئے پھیلاتے ہیں کہ جہالت کا اندھیرا دور ہو، یا اس لئے کہ ہماری شخصیت اور نام نہاد علم دوستی کا چرچا ہو؟ کیا ہم ضرورت مندوں کی مدد ان کی پریشانیاں کم کرنے کے لئے کرتے ہیں یا اپنی نیکیوں کی نمائش کے لئے؟ کیا ہماری خوشی اس بات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوجائے، یا اس میں کہ لوگ ہمیں پسند کریں، ہمارے نام کا ذکر کریں اور ہماری تعریفوں کے پل باندھیں؟ یقیناً، ان سوالات کے سنجیدہ جوابات ہماری زندگی کو مثبت راستے پر ڈال سکتے ہیں!