افطار اور مغرب سے فارغ ہوئے تک عشاء کا وقت ہوجاتا ہے۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ تراویح کے بعد مَیں خود کو تروتازہ محسوس کرتا ہوں۔ جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی سکون ملتا ہے۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 2:29 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai
افطار اور مغرب سے فارغ ہوئے تک عشاء کا وقت ہوجاتا ہے۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ تراویح کے بعد مَیں خود کو تروتازہ محسوس کرتا ہوں۔ جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی سکون ملتا ہے۔
رمضان سے قبل کے سنیچر کی بات ہے۔ سحری و افطار کے لوازمات خریدنے کی غرض سے بھنڈی بازار کا رخ کیا۔ چشتی ہندوستانی مسجد (بائیکلہ) سے نکلتے ہوئے دیکھا کہ سڑک پر گاڑیوں کی قطاریں ہیں۔ اس صورت میں ٹیکسی سے جانا مشکل نظر آرہا تھا۔ اس لئے پیدل نکل پڑے۔ وائے بریج کے نیچے سے ہوتے ہوئے جے جے کی جانب سے بڑھتے چلے گئے۔ جوں جوں آگے بڑھ رہے تھے گاڑیوں کی قطاریں اور لوگوں کی بھیڑ جن میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی، بڑھتی جا رہی تھی۔ ہم نے سوچا کہ پیدل چلنے کا فیصلہ درست تھا۔ سڑکوں کے اطراف کی دکانوں میں ہجوم تھا، سبھی لوگ خریداری میں مصروف نظر آئے۔ ہم اپنی مطلوبہ دکان پر پہنچ گئے۔ وہاں بھی بھیڑ نظر آئی۔ ہم اپنی باری کا انتظار کرتے رہے۔ دکاندار کہہ رہا تھا کہ ’’رمضان شروع ہونے والا ہے نا اس لئے آج بازار میں بھیڑ بہت زیادہ ہے۔‘‘ ہماری باری آنے پر ہم نے اپنا سامان لیا اور واپسی کی راہ لی۔ ہم وہاں سے صابو صدیق کالج کی گلی سے ہوتے ہوئے بطخ گلی کی طرف بڑھ گئے جو مدنپورہ کی جانب نکلتی ہے۔ وہاں خوشگوار حیرت ہوئی کہ بھیڑ نہیں تھی اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جس سے ہم تازہ دم ہوگئے۔ ساتھ میں والدہ تھیں، وہ اپنے بھائیوں سے ملنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ اس غرض سے ساڑی بازار کی جانب بڑھے۔ اتفاق سے وہیں چھوٹا بھائی مل گیا جو وزنی سامان اٹھا کر بائیک پر رکھ رہا تھا۔ اس دوران ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ کہنے لگے، ’’محنت کی روزی کماتے ہیں، اسی لئے اس میں برکت ہے اور دل کو سکون بھی ملتا ہے۔‘‘ والدہ نے ساتھ میں اگلا جملہ جوڑ دیا، ’’اللہ رمضان میں بھی تمہیں ہمت دے، آمین۔‘‘ اگلے موڑ پر انہیں بڑے بھائی بھی مل گئے جو عشاء کی نماز کے لئے جارہے تھے۔ والدہ رمضان سے قبل بھائیوں سے ملنا چاہتی تھیں اور دونوں سے ملاقات ہوگئی پر وہ خوشی سے شرسار ہوگئیں۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۴): ’’ بیٹا رمضان میں شکایت کم اور دعا زیادہ کرنی چاہئے‘‘
پھر دیکھتے دیکھتے رمضان شروع ہوگیا۔ قمقموں سے سجی چشتی ہندوستانی مسجد کا منظر دیکھنے کے قابل ہے۔ مسجد کے اطراف میں بچے زیادہ نظر آتے ہیں۔ سفید صاف ستھرے کرتے میں بے حدپیارے لگتے ہیں۔ مَیں گلی سے ہوتے ہوئے گھر جا رہی تھی کہ ایک بچے کی آواز کان پر پڑی، ’’اذان ہوگئی، چلو نماز پڑھنے۔‘‘ وہ اپنے سے بڑی عمر کے بچے سے کہہ رہا تھا۔ ’’ہاں نا، رک کر چلتے ہیں۔‘‘ ’’نہیں ابھی چلو، روزہ رکھ کر نماز بھی پڑھنی چاہئے اور وہ بھی وقت پر۔‘‘ بچے کی اس بات پر مجھے بڑا پیار آیا۔ بچے نے بالکل درست کہا۔ پھر مَیں آگے بڑھ گئی۔ راستے میں شکیل انکل مل گئے۔ عمر دراز ہیں۔ گھنٹوں کی تکلیف سے پریشان رہتے ہیں۔ چلنے پھرنے میں شدید دقت ہوتی ہے لیکن نماز مسجد جا کر پڑھتے ہیں۔ روزہ کیسے گزر رہا ہے؟ پوچھنے پر کہنے لگے، ’’الحمدللہ، بہت اچھا گزر رہا ہے۔ دن بھر کیسے گزر جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ کام (وہ بیگ کی دکان میں کام کرتے ہیں) کے ساتھ ساتھ عبادات بھی جاری رہتی ہیں۔ افطار اور مغرب سے فارغ ہونے تک عشاء کا وقت ہوجاتا ہے اور مسجد میں جگہ ملے اس لئے جلدی کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دن بھر میں آرام کا وقت نہیں ملتا۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ تراویح کے بعد مَیں خود کو تروتازہ محسوس کرتا ہوں۔ جب عشاء کے لئے جاتا ہوں تو نڈھال اور آہستہ چلتا ہوں جبکہ تراویح کے بعد جیسے ساری توانائی بحال ہوجاتی ہے۔ یہ بھی اللہ کا کرم ہے۔ تراویح سننے کے بعد جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی سکون ملتا ہے۔‘‘ ان کی بات جاری ہی تھی کہ خدیجہ ممانی آگئیں۔ کہنے لگیں، ’’بھائی سچ کہہ رہے ہو (جو شکیل انکل کی تھوڑی بات سن چکی تھیں) رمضان میں عبادات میں بڑا سکون ملتا ہے۔ شام میں کلام پاک کی تلاوت کرتے کرتے کب افطار کا وقت ہوجاتا ہے احساس ہی نہیں ہوتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پڑھتے رہو۔‘‘ چونکہ شکیل انکل کو دیر ہورہی تھی اس لئے ہم سب نے اپنی اپنی راہ لی۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۳): ’’پڑھائی کرنا بھی ایک عبادت ہے‘‘
افطار کی تیاری جاری تھی۔ دسترخوان پر پھل فروٹ، سموسے، بھجیا، پیٹیس، رگڑا، شربت وغیرہ سجا تھا۔ بلاشبہ اس ماہ میں دسترخوان اللہ کی نعمتوں سے بھر جاتا ہے۔ اسی دوران اہل ِ فلسطین کی رمضان کی تیاریوں اور ان کے سحر و افطار کے منظر ذہن میں گردش کرنے لگے۔ یہاں ہمارے افطار کے دسترخوان میں اگر کوئی کمی رہ جائے تو ہم شکایتیں کرتے نہیں تھکتے۔ بڑے افسوس کی بات ہے۔ اہل ِ فلسطین کے جذبے اور صبر کو سلام۔ ہم نے ان کی آسانی کیلئے دعا کی اور مؤذن صاحب نے اذان دی، کھجور منہ میں رکھ لی اور ایک گھونٹ پانی پیا، کتنا سکون ملا بیان کرنا ناممکن ہے۔