انہی حرکتوں کی وجہ سے ہم بدنام ہیں۔ گاڑی ہے تو سڑک پر کھڑی کریں گے، دکان ہے تو فٹ پاتھ پر لگائے بغیر ہمیں چین نہیں آتا۔ ہر چیز کو ہم اپنی ملکیت سمجھ لیتے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 12:01 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
انہی حرکتوں کی وجہ سے ہم بدنام ہیں۔ گاڑی ہے تو سڑک پر کھڑی کریں گے، دکان ہے تو فٹ پاتھ پر لگائے بغیر ہمیں چین نہیں آتا۔ ہر چیز کو ہم اپنی ملکیت سمجھ لیتے ہیں۔
رمضان کامہینہ اپنے ساتھ خدا کی نعمتیں اور برکتیںلے کر آتا ہے۔ یہ نعمتیں صرف روحانی نہیں حقیقی ہوتی ہیں یعنی ان کو دل کی آنکھوں ہی سے نہیںچہرے کی آنکھوں سے بھی دیکھا اور محسوس کیا جاسکتاہے۔چہرے کی آنکھوں سےجو رونق نظر آتی ہےوہ بازاروں اور گلی محلوں میںدیکھی جاتی ہے۔ جو چیزیں اکثر لوگوں کو سال کے دیگر مہینوں میں میسر نہیں ہوتیں، اس مہینے میں تقریباً ہر شخص کو کسی نہ کسی طرح مل ہی جاتی ہیں۔لیکن ان نعمتوں سے زیادہ اہم وہ روحانی نعمتیں ہیں جو رمضان کے مہینے میں واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہیں۔ مسجدوں کے قریب اس رونق کو خاص طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن افسوس کہ لوگ اسے تلاش کرنے بازاروں کا ہی رخ کرتےہیںجہاںعیدکے نام پر اشیاء کی خریداری ہوتی ہے اور رمضان کے نام پر کھانے پینے کے سامان کی خریداری ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۶):الحمد للہ، روزہ تو ہم رکھتے ہیں لیکن کیا.....
دفتر سے نکل کر اسٹیشن پہنچا تو باندرہ اسٹیشن کے پلیٹ فارم سے ایک ٹرین جاچکی تھی اور دوسری کے آنے میں کافی وقت تھا۔ سوچا اسٹیشن کے مغربی جانب باہر جھانک لیا جائے۔ ابھی ایسٹ سے ویسٹ میںپہنچا ہی تھا کہ محسوس ہوا جیسے مغربی باندرہ میں نہیں کسی مغربی ملک میں پہنچ گیا ہوں جسے تجدید کاری کے ذریعہ اسے پرانی وضع دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک شاندار منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں اکثر نوجوان فوٹوگرافی کرتے نظر آتے ہیں جیسے وہ کسی تفریحی مقام پر آئے ہوں یا کسی تاریخی مقام کاجائزہ لینے پہنچے ہوں۔ لیکن اصل رونق یہاں موجود شاندار مسجد کی وجہ سے ہے۔ مسجد کے قریب دکانیں بھی ایک الگ دلکشی رکھتی ہیں جن میں اشیائے خوردنی کی دکانیں زیادہ ہیں۔
یہاں کے کاروباری اور روحانی منظر کو اپنی آنکھوں میں جذب کرکے میں پلٹا اورلوکل ٹرین میں سوار ہوگیا۔ ملاڈ اتر کر تھوڑی دور چلا تھا کہ دیکھا جوس کی دکان کے باہر کھڑے ملازم یا سیلزمین مختلف فلمی گانوں کو اپنی دکان کےحق میں تبدیل کرکےشاندار انداز میں گارہےہیں۔ صرف ایک شخص نہیں بلکہ کئی افراد ہیں اور ہر کوئی باری باری یا جب اس کی مرضی ہو ایک نیا گانا شروع کردیتا ہے۔ میں نے ان میں سے ایک سےپوچھا کہ آپ بہت اچھا گاتے ہو، کسی ٹیلنٹ شو میں قسمت کیوں نہیں آزماتے۔ کہنے لگا ہمارا ٹیلنٹ گانا نہیںبلکہ جوس بیچنا ہےجسے ٹی وی پر نہیںاس علاقےمیں ہی آزمایا جاسکتا ہے۔ میں نے پھر پوچھا کہ یہ الفاظ کہاں سے لاتے ہو؟ کیا کسی شاعر سے لکھوائے ہیں؟ کہنے لگا آج کل کے شاعر بھی ایسی ہی تک بندی کرتے ہیں وہی ہم بھی کرلیتے ہیں۔ میںانہیں داد دیتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۵): اباکہتے ہیں روزہ نہیں رکھوں گا تو اللہ میاں ناراض ہو جائینگے
میمن کالونی میںتراویح جاری تھی جو دیر رات تک چلتی ہے۔ میں بھی اس میں شامل ہوگیا۔ تراویح پڑھ کر نکلا تو دیکھا کہ نوجوان اپنی اپنی بائیک اور اسکوٹر پر سوار ہوکر اپنےگھروں کی جانب روانہ ہورہے ہیں اس سے محسوس ہوا کہ یہاں بڑی تعداد میں نوجوان باہرسے آکر تراویح میں شریک ہوتے ہیں۔
گھر جانے کیلئے بس میں سوار ہوا تو دیکھا کہ اپنے ہی محلے میں رہنے والے راشد بھائی بھی بس میں موجود ہیں۔ سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا کہ اتنی رات کو کہاںسے آرہے ہیں؟ کہنے لگے دوستوں کے ساتھ محمدعلی روڈ گیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ تو پھر آپ نے خوب مزے کئے ہوں گے۔کہنے لگے کیا خاک مزے کرتے، وہاں فٹ پاتھ پر تو ٹھیلے اور باکڑے لگانے کی اجازت ہی نہیں دی جارہی ہے۔ کھلے آسمان کے نیچے سڑک پر بیٹھ کر کھانے پینے کا مزہ ہی الگ ہے۔
ان کی یہ بات سن کرپیچھے والی سیٹ پربیٹھے ایک صاحب برہمی کے انداز میں کہنے لگےکہ انہی حرکتوں کی وجہ سے ہم بدنام ہیں۔ گاڑی ہے تو سڑک پر کھڑی کریں گے، دکان ہے تو فٹ پاتھ پر لگائیں گے۔ ہر چیز کو ہم اپنی ملکیت سمجھ لیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم بدنام کیوں ہیں، ہمارے محلوں میں اس قدر مسائل کیوں ہیں؟ ہمارے محلوں کی خراب حالت کیلئے ہم بھی تو ذمہ دار ہیں۔ ذمہ داری ادا کرنے کیلئے تیار نہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام حقوق ہمیں ملتے رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۴): کاش سب ایسا سوچیں کہ ’’وہ لوگ پرارتھنا ہی تو کررہے ہیں‘‘
وہ صاحب جو کچھ کہہ رہے تھے ہمارے دل کی آواز تھی۔ یاد آیا مولانا ظفر علی خاں کا شعر جو علامہ اقبال کے نام سے مشہور ہوگیا کہ؎
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
سچ ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہماری حالت کو بدل دے تو پہلے خود اس سمت میں کوشش کرنا ہوگی اور یہ کوشش اسی وقت ہوسکتی ہے جب ہم اپنی سوچ بدلیں گے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ سوچ بدلو حالت خود بدلنے لگے گی۔