Updated: February 19, 2026, 2:15 PM IST
| Washington
اخراجات میں یہ اضافہ، اپریل ۲۰۲۵ء میں کشمیر میں پہلگام دہشت گردانہ حملہ اور مئی میں ہندوستان کے ’آپریشن سیندور‘ کے تحت ہندوستان کا جوابی فوجی ردِعمل سے قبل دیکھا گیا۔ اس عرصے کے دوران واشنگٹن میں پاکستان کے لابنگ کے اخراجات ہندوستان سے بھی بڑھ گئے تھے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور شہباز شریف۔ تصویر: آئی این این
پاکستان نے امریکہ میں اپنی لابنگ پر خرچ کی جانے والی رقم میں بڑی کٹوتی کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اسلام آباد نے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی خاطر ریکارڈ سطح تک اخراجات بڑھانے کے محض چند ماہ بعد ہی پانچ بڑی فرموں کے ساتھ معاہدے ختم کر دیئے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف میں جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق، اسلام آباد نے ’جولین ایڈوائزرز‘ (Javelin Advisors)، ’سیڈن لاء‘ (Seiden Law)، ’آرکڈ ایڈوائزرز‘ (Orchid Advisers)، ’اسکوائر پیٹن بوگز‘ (Squire Patton Boggs) اور ’کونشینس پوائنٹ کنسلٹنگ‘ (Conscience Point Consulting) جیسی لابنگ فرموں کے ساتھ معاہدے، گزشتہ سال کے آخر میں ختم کر دیئے ہیں۔ ایک تخمینہ کے مطابق، یہ فرمیں مجموعی طور پر ماہانہ ۴ لاکھ ۵۰ ہزار ڈالر پاکستان سے وصول کررہی تھیں۔
اخراجات میں یہ اضافہ، اپریل ۲۰۲۵ء میں کشمیر میں پہلگام دہشت گردانہ حملہ اور مئی میں ہندوستان کے ’آپریشن سیندور‘ کے تحت ہندوستان کا جوابی فوجی ردِعمل سے قبل دیکھا گیا۔ اس عرصے کے دوران واشنگٹن میں پاکستان کے لابنگ کے اخراجات ہندوستان سے بھی بڑھ گئے تھے۔ اس دوران لابنگ پر پاکستان کے اخراجات ریکارڈ ماہانہ ۶ لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اختلافات کے خاتمے کے لیے امریکہ کو آئندہ ۱۴؍ روز میں ٹھوس فارمولہ پیش کرے گا
پاکستان کے اخراجات ہندوستان سے کم ہوگئے
حالیہ دستاویزات کے مطابق، پاکستان اب امریکہ میں لابنگ پر ماہانہ تقریباً ایک لاکھ ۷۵ ہزار ڈالر خرچ کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماہانہ تخمینہ دو لاکھ ڈالر سے کم ہے۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا کہ اخراجات میں پہلے ہونے والے اضافے کی وجہ جزوی طور پر اندرونی سیاسی محرکات اور اسلام آباد کی ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ قریبی روابط استوار کرنے کی خواہش تھی۔ رپورٹس کے مطابق، ”ایک بار جب انہوں نے وہ تعلق قائم کرلیا، تو انہیں احساس ہوا کہ افق پر ایسی کوئی قانون سازی زیرِ التوا نہیں ہے جس کے لئے انہیں کانگریس میں لابنگ کرنی پڑے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کو پہلے ہی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے لئے عوامی سطح پر تعریفی کلمات مل چکے ہیں، جس سے بھاری لابنگ کی فوری ضرورت کم ہو گئی ہے۔
سابق ہندوستانی سفارت کار سید اکبر الدین نے اس رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت واشنگٹن میں بیانیہ سازی کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ”حقائق اکیلے سفر نہیں کرتے۔ انہیں ایک سواری کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ سواری عام طور پر ایک لابنگ فرم ہوتی ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کو ایسی چوٹ پہچائیں گے کہ وہ دوبارہ اٹھ نہیں سکے گا: آیت اللہ خامہ ای
گزشتہ مہینوں میں امریکی لابنگ میں پاکستان کی مالی برتری کے باوجود، دونوں اطراف کے سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ طویل مدتی نقطہ نظر سے امریکی تزویراتی ترجیحات اب بھی ہندوستان کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ لابنگ قلیل مدتی تاثرات کو بدل سکتی ہے، لیکن اس سے جنوبی ایشیاء میں امریکی پالیسی کے وسیع تر رخ میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔