• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۷): ’’آج کل ماحول خراب ہے، چوکی تو نہیں لے چلو گے بھائی!‘‘

Updated: February 25, 2026, 2:41 PM IST | Hamza Fazal Islahi | Mumbai

فٹ پاتھ کی دکانیں  غائب ہوگئی ہیں۔ پہلے اس علاقے میں  دن رات رونق رہتی تھی۔ اب وہاں سنا ٹا چھا یارہتا ہے۔ وہاں کےبہت سے  دکاندار گاؤں چلے گئے ہیں ، وہ بے چارے عید کیسے منائیں گے؟

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ کرلا پائپ روڈ پر واقع مرکز مسجد میں تراویح کی دوسری جماعت ہو رہی تھی۔ مسجد کے گراؤنڈ فلور اور فرسٹ  فلور پر بھیڑ تھی۔ صفوں کے درمیان اکا دکا بچے بھی نظر آرہے تھے۔  دوسرےفلور پر بھی کچھ لوگ تھے، حالانکہ اس منز لےپرجا بجا لوگ آرام کررہے تھے۔ قریب ہی میں لیٹے کچھ بچے موبائل پر گیم کھیل رہے تھے، ریل (Reel)بھی دیکھ رہے تھے۔ اس منزلے کی زیادہ تر لائٹس بند تھیں، اکثر حصے میں  اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ عشاء کی جماعت ۱۱؍ بج کر ۱۰؍ منٹ پر مکمل ہوگئی۔ نمازی سنت پڑھنے میں مصروف ہوگئے۔

مرکز مسجد میں  تراویح کی دو جماعتیں  ہوتی ہیں۔ خاص بات یہ ہےکہ دوسری جماعت  میں بھی تراویح اطمینان   سے پڑھی جاتی ہے۔ ایک ایک لفظ واضح ہوتا ہے۔   ڈائری نگار مسجد سے باہر نکلا تو سامنے کی کتاب کی دکانیں کھلی ہوئی تھیں، حالانکہ ان پر خریدار نہیں  تھے۔ وہاںٹوپی لگائے چار پانچ افراد کھڑے تھے جو دنیا جہان کی باتوں میں مشغول  تھے۔ ڈائری نگار ’’دُنیا جہان‘‘ کی باتیں سننے کے موڈ میں نہیں تھا اسلئے رمضان کی رونقیں تلاش کرتے  ہوئے آگے بڑھ گیا۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۵): ’’نہیں ابھی چلو، روزہ رکھ کر نماز بھی پڑھنی چاہئے....‘‘

  اے ایس بی ٹریڈرس میں  سجے کاجو ،بادام ، چھوہارے اور کھجور وغیرہ نظر آرہے ہیں، وہاں اکا دکا گاہک بھی تھے۔ اس  کے سامنے ایک نوجوان ٹوپی کے باکڑے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا، گاہک کی راہ دیکھ رہا تھا ۔ کلیم ڈیری فارم ، چاند بریانی  اور سویرا چائینز ہا ؤس میں چہل پہل تھی ۔ گاہک آجا رہے تھے۔  وہیں قریب میں فٹ پاتھ پر ایک چپل کی دکان سجی ہوئی تھی، وہاں لوگ مول بھا ؤ کر رہے تھے۔ اُس طرف حلوے پراٹھے کی دکان بھی تھی، یہ دکان ہر سال لگتی ہے۔ نیو سلیمان مٹھائی والے کا بورڈ بھی مختلف رنگوںمیں جگمگا رہا تھا۔ مدینہ ڈیری کے باہر بھینس اور گائے کا دودھ لینے والے قطار میں کھڑے تھے۔ گولڈن ڈیری فارم پر تھال میں جلیبیاں اور میٹھے سموسے  وغیرہ سجے ہوئے تھے ۔ قریب ہی واحد ریسٹورنٹ ہے۔ یہاں  باہر تک بھیڑ تھی۔ تراویح کے بعد چائے پینے والے بھی اچھے خاصے تھے۔ پارسل لینے والے بھی قطار میں کھڑے تھے ۔ ہوٹل کے اندر   مدارس کے سفراء بھی ٹوپی لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ کھا نا کھارہے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مشرکین کے غیرمعقول عقائد، تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی پر مبنی آیات سنئے

زمزم ریسٹورنٹ پر سیخ پراٹھا تیار ہورہا تھا۔ چکن تندوری بھی تیار کیا   جارہا تھا۔ اندر کچھ لو گ بیٹھے آر ڈر کا انتظار کررہے تھے۔پر فیکٹ ٹیلر س اور پر فیکٹ فیبرک اینڈ ڈیزائنر پر بھی بھیڑ تھی۔ پرفیکٹ ٹیلرس کو لو گ ناپ دے رہے تھے۔ ان دونوں  دکانوں کو د یکھ کر لگا کہ لوگ ابھی سے عید کی تیاری کررہے ہیں ۔ آزاد ریسٹورنٹ،  نورگاندھی ، مدینہ ڈرائے فروٹس، ناگو ری  ڈیری  اور  ہمدم ڈیٹس اینڈ ڈرائے فروٹس وغیرہ  پر محفل سجی ہوئی تھی۔ شیتل مٹھائی والا اینڈ بیکرس کی لائٹ بند ہوچکی تھی لیکن یہاں دکانوں کے باہر کرلا ڈیری سے تھوڑا آگے تک رمضان کی مناسبت سے خصوصی سجاوٹ کی گئی تھی۔ اس ڈائری نگار  نے فٹ پاتھ کی ایک دکان پر رک کر ایک نوجوان سے جاننا چاہا کہ یہ سجاوٹ کس نے کی  ہے تو اس پر نوجوان چپ رہا۔ تھوڑا توقف کے بعدگویاہوا : ’’ آج کل ماحول خراب ہے، چوکی تو نہیں لے چلو گے بھائی۔ بڑی مشکل سے دکان لگا یا ہے ۔‘‘ اس نے اپنا نام بھی نہیں بتایا۔ باتوں ہی باتوں میں کہنے لگا: ’’بھائی روڈ پر دھندہ لگانا مشکل ہوگیا ہے۔ ہماری تو بولتی بند ہے، دیکھئے اس بار کیا ہوتا ہے؟ کمائی ابھی نہیں ہورہی ہے۔ بس پولیس والے آرہے ہیں، ڈرا تے دھمکاتے ہیں۔ ہم تو چار سال سے یہیں دھندہ لگا تے ہیں۔ یہیں ممبئی میں پیدا ہوئے  ہیں ، کہیں باہر سے نہیں آئے ہیں۔ ‘‘  

یہ بھی پڑھئے: رمضان المبارک احساس کی آبیاری کا مہینہ ہے

یہ دکھڑا سن کر ڈائری نگا ر کو افسوس ہوا۔ ابھی وہ لوٹ ہی رہا تھاکہ  راستے میں  مد رسۃ الاصلاح سرائے میر کے استاد مولانا انیس الرحمٰن اصلاحی سے ملاقات ہوگئی ۔ وہ فی الحال مدرسے کے سفیر کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔ مولانا سرسوں کے تیل کی تلاش میں  نکلے   تھے، حالانکہ پائپ روڈ کی دکانیں بند ہوچکی تھیں۔ بدھ کالونی میں  انہیں  تیل ملا۔  وہ فٹ پاتھ پر دھندہ  لگانے والوں کے بارے میںکہنے لگے:’’میرا حلقہ جوگیشوری ہے۔ گزشتہ دنوں  ویشالی نگر گیا تھا، بی ایم سی نے پورا علاقہ خالی کروا دیا ہے۔ فٹ پاتھ کی کپڑے کی دکانیں  غائب ہوگئی ہیں۔ پہلے اس علاقے میں  دن رات  رونق ہوتی تھی، جو اب کافی کم ہوگئی ہے کیونکہ  بہت سے  دکاندار گاؤں چلے گئے ہیں، وہ بے چارے عید کیسے منائیں گے؟ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK