Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا کے بیشتر لوگ ناکامی سے نہیں بلکہ ناکامی کے تصور سے ہار جاتے ہیں

Updated: June 14, 2026, 5:44 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai

عالمی شہرت یافتہ مصنف اور ماہر نفسیات ڈاکٹر اسپینسر جانسن کی مختصر کتاب’ ہو مووڈ مائی چیز‘ کا سرسری جائزہ، جس میں ایک آفاقی سچائی کو سادہ اور دلچسپ تمثیلی کہانی کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔

Book cover. Photo: INN
کتاب کا سرورق۔ تصویر: آئی این این

زندگی ایک رواں دریا ہے۔ اس کے پانی میں ٹھہراؤ نہیں، اس کی موجوں کوسکون نہیں۔ وقت اپنے قدموں کے نیچے سلطنتیں روندتا ہوا آگے بڑھتا رہتا ہے۔ انسان کی پوری تاریخ تبدیلی کے موسموں کی داستان ہے۔ دنیا میں صرف ایک ہی چیز مستقل ہے اور وہ ہے تبدیلی، تغیر۔ انسان چاہے جتنا بھی سکون، استحکام اور یکسانیت کو پسند کرے، وقت اسے نت نئےحالات کے مقابل لاکھڑا کردیتا ہے۔ جو لوگ وقت کی رفتار کے ساتھ چلتے ہیں، تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر لیتے ہیں، وہ نئی منزلوں کے چراغ روشن کرتے ہیں، اور جو ماضی کی دیواروں سے لپٹے رہتے ہیں، وہ اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اسپینسر جانسن نے اپنی کتاب’ہو مووڈ مائی چیز؟‘ میں اسی آفاقی سچائی کو ایک سادہ اور دلچسپ تمثیلی کہانی کے ذریعے بیان کیا ہے۔ یہ کتاب محض ایک کہانی نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر شخص اپنے رویے کو صاف دیکھ سکتا ہے۔ 
کہانی میں ایک بھول بھلیاں ہےاور اس میں بھٹکنے والے چار خیالی کردار؛ دو چوہے ہیں اور دو ننھے انسان جو قد میں چوہوں جتنے ہیں لیکن سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بالغ انسانوں جیسی رکھتے ہیں۔ ’اسنف‘ ایک چوہے کا نام ہے جس کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہے۔ ’اسکری‘ دوسرا چوہا ہے جو عملی اقدام پر یقین رکھتا ہے۔ ’ہیم‘ ایک ننھا انسان ہے جو تبدیلی کا سخت مخالف ہے۔ اس کا دوست ’ہا‘ دوسرا ننھا انسان ہے جو حالات کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دانتے واڑہ کے جنگلوں میں اروندھتی کے ساتھ انجم بھی تھی

پنیر کی تلاش: انسان کی ازلی بھوک
کہانی میں دو اہم استعارے استعمال کیے گئے ہیں۔ چیز یعنی ’پنیر‘ جو روزی روزگار ہی نہیں، زندگی کی ان خوشیوں اور آسائشوں کی علامت ہے جنہیں ہم پانا چاہتے ہیں۔ یہ، ایک اچھی نوکری، کاروبار، دولت، صحت، ذہنی سکون یا کوئی رشتہ تعلق بھی ہو سکتا ہے، جسے پاکر ہم خوش ہوتے ہیں اور جس کے کھو جانے کا خیال ہی ہمیں خوفزدہ کردیتا ہے۔ ’بھول بھلیاں ‘ اس دنیا، معاشرے، دفتر، دکان، مکان، کارخانہ، کھیت یا اس ماحول کی علامت ہے جہاں ہم اپنے مطلوبہ’پنیر‘ یعنی رزق، کامیابی اور سکون کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ 
یہ چاروں کردار روزانہ بھول بھلیاں میں گھوم پھر کر پنیر تلاش کرتے ہیں۔ چوہے اپنی حسیات اور جبلت کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ننھے انسان اپنی ذہانت اور جذباتی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہیں۔ بالآخر، ایک دن ان سب کو بھول بھلیاں کے اندر کہیں پنیر کا ایک بہت بڑا ذخیرہ نظر آتا ہے جس کا نام ہے، پنیر اسٹیشن سی۔ چاروں بہت خوش ہوتے ہیں۔ چوہے روزانہ صبح جلدی اٹھ کر وہاں پہنچتے اور پنیر کا معائنہ کیا کرتے۔ پھراپنے پسندیدہ پنیر کے مزے لوٹتے اور گھر لوٹ جاتے۔ البتہ دونوں ننھے انسان (ہیم اور ہا) آرام طلب ہو گئے۔ انھوں نے پنیراسٹیشن کے قریب ہی اپنا گھر بنا لیا۔ وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اب پنیر کبھی ختم نہیں ہوگا اور ان کی زندگی ہمیشہ کیلئے سنور گئی ہے۔ وہ غفلت اور کاہلی کا شکار ہو گئے۔ 
ایک صبح جب چوہے (اسنف اور اسکری) اسٹیشن سی پرپہنچے، تو دیکھا کہ وہاں پنیر کا ایک ٹکڑا بھی باقی نہ رہا تھا۔ وہ حیران یا پریشان نہیں ہوئےکیونکہ وہ روزانہ پنیر کے کم ہوتے اسٹاک کا جائزہ لیتے رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ دن آنے والا ہے۔ وقت ضائع کئے بغیروہ دونوں، بھول بھلیاں میں نئے پنیر کی تلاش میں نکل پڑے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کے اعتماد کا مقابلہ کس طرح کیاجائے؟

کچھ دیر بعد ہیم اور ہا اسٹیشن سی پر پہنچے۔ پنیر کو غائب دیکھ کر ان کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔ ہیم سیخ پا ہوکر چیخا ’ہو مووڈ مائی چیز؟‘ یعنی یہاں سے ’میرا پنیر کس نے ہٹایا؟‘ ننھے آدمیوں نےصورتحال کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ وہیں بیٹھ کر رونے، بسورنے لگے، سراپا احتجاج ہوئے۔ پھر دماغ ٹھنڈا ہوا توسوچنے لگے کہ پنیر رکھنے والے شاید کل پھر پنیر رکھ جائیں۔ وہ اپنی ناکامی کی ذمہ داری حالات اور دوسروں پر ڈال رہے تھے، لیکن خود کو بدلنے پر تیار نہیں تھے۔ کئی دن بھوکے پیاسے اسی اسٹیشن سی پر گزارنے کے بعد وہ کمزور بھی ہو گئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد ہا کو احساس ہوا کہ وہاں بیٹھ کر صرف شکوہ شکایت کرنے سے پنیر واپس نہیں آئے گا۔ اس نے ہیم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ انہیں بھول بھلیاں میں از سر نو مہم پر نکلنا چاہیے، لیکن ہیم ڈرا ہوا تھا۔ وہ اپنی ضد پر قائم رہا۔ 
کامیابی انعام ہے حرکت کا
ہانے اکیلے ہی سفر پر نکلنے کا فیصلہ کرلیا۔ شروع میں اسے کافی خوف محسوس ہوا کیونکہ بھول بھلیاں انجان، تاریک اور پرخطر جگہ تھی۔ لیکن جیسے جیسے وہ قدم آگے بڑھاتا گیا، اس کا خوف کم ہونے لگا۔ ہا، خود پر ہنستا کہ وہ اتنے دن ایک ایسی جگہ کیوں بیٹھا رہا جہاں کچھ بھی نہ تھا۔ سفر کے دوران، ہا کو جب بھی پنیر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ملتے، وہ خوش ہوتا۔ وہ دیواروں پر اپنے تجربات اور سبق آموز جملے لکھتا جاتا تاکہ اگر ہیم کبھی وہاں سے گزرے، تو اسے رہنمائی مل سکے۔ بار بار بھول بھلیاں میں راستہ بھٹکنے اور تھکانے دینے والی مسلسل کوششوں کے بعد بالآخر ہا، ایک نئے’پنیر اسٹیشن این‘ تک پہنچ گیا۔ وہاں کا نظارہ دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہاں مختلف اقسام کا پنیر، وافر مقدار میں موجود تھا۔ اتنا بڑا ذخیرہ، ہا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ 
چوہے اسنف اور اسکری وہاں پہلے سے موجود تھے۔ دونوں کافی عرصے سے اس نئے پنیر سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور اب موٹے تازے ہو چکے تھے۔ ہا نے چین کا سانس لیا اور پیٹ بھر کر پنیر کھایا۔ اسے افسوس تھا کہ اس نے باہر نکلنے میں اتنی دیر کیوں کی، لیکن وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے خوف پر فتح پا لی تھی۔ وہ اسی وقت سے اگلی تبدیلی کیلئے تیار ہوگیا۔ 
دیواروں پر لکھی ہوئی حکمت
ہا نے بھول بھلیاں کی دیواروں پر جو جملے لکھے، وہ انسان کے لیے کامیابی کے سنہری اصول ہیں :
پرانے پنیر کی بو سونگھتے رہیں تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ یہ کب خراب ہونا شروع ہوا ہے۔ 
خالی پنیر اسٹیشن پر پڑے رہنے کے مقابلے، بھول بھلیاں کے خطرات میں زیادہ تحفظ اور فائدہ ہے۔ 
تبدیلی ناگزیر ہے، یہ ہمیشہ ہوتی رہے گی، پنیر منتقل ہوتا رہے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بنگال میں اسمبلی الیکشن کا نتیجہ کچھ بھی آئے جمہوریت بری طرح شرمسار ہورہی ہے

تبدیلی کے سامنے مختلف رویے
مصنف نے ان کرداروں کے ذریعے معاشرے کے چار بڑے طبقات کی عکاسی کی ہے:
۱۔ اسنف (دور اندیش لوگ): کاروباری دنیا یا عام زندگی میں یہ مارکیٹ کے رجحانات کو پہلے ہی بھانپ لیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کب کوئی ٹیکنالوجی یا طریقہ کار پرانا ہونے والا ہے۔ 
۲۔ اسکری (فوری عمل کرنے والے): جیسے ہی کوئی نیا حکم یا تبدیلی آتی ہے، یہ فوراً عمل درآمد شروع کر دیتے ہیں۔ 
۳۔ ہیم (تبدیلی کے دشمن): یہ لوگ آرام پسند ہوتے ہیں، نئی چیزیں سیکھنے سے انکار کرتے ہیں اوربالآخر سسٹم سے باہر ہوجاتے ہیں۔ 
۴۔ ہا (سیکھنے والے اور لچکدار لوگ): یہ شروع میں جھجکتے ہیں، لیکن جب بقا کا مسئلہ آتا ہے، تو وہ اپنی غلطیوں سے سیکھ کر خود کو حالات کے سانچے میں ڈھال لیتے ہیں۔ 
خوف : ایک پوشیدہ زنجیر
خوف انسانی زندگی کی سب سے بڑی نفسیاتی گرہ ہے۔ دنیا کے بیشتر لوگ ناکامی سے نہیں بلکہ ناکامی کے تصور سے ہار جاتے ہیں۔ وہ نئے راستوں پر قدم رکھنے سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی محفوظ دنیا ٹوٹ نہ جائے۔ جب جب غیریقیی حالات خوفزدہ کردیں۔ کچھ سمجھ نہ آئے، ڈر پیروں کو زنجیر سے جکڑ دے تو یہ سوچنا چاہئے کہ اگر اسوقت میں ڈرا ہوا نہ ہوتا تو کیا تدبیر کرتا؟ ڈر پگھل کر پانی کی طرح بہنا شروع ہوجائے گا۔ کتاب میں بیان کردہ منظر ہماری روزمرہ زندگی کی تصویر ہے۔ ایک شخص برسوں ایک ملازمت میں مطمئن رہتا ہے، پھر اچانک کمپنی بند ہو جاتی ہے۔ ایک تاجر اپنے کاروبار کو دائمی منافع بخش سمجھتا ہے، پھر مارکیٹ کا رخ بدل جاتا ہے۔ ایک انسان تعلقات کے سہارے جیتا ہے، پھر اچانک تنہائی اس کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ اگر آپ تبدیلی کو نظر انداز کریں گے تو وقت آپ کو روندتا ہوا آگے نکل جائے گا۔ کتاب صرف انفرادی رویوں پر گفتگو کرتی ہے لیکن ان اصولوں کا اطلاق اقوام اور گروہوں پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ کئی قومیں ماضی کے فخر میں اس قدر ڈوب جاتی ہیں کہ مستقبل کی تعمیر بھول جاتی ہیں۔ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیشہ دوسروں کو ٹھہراتی ہیں۔ 
یہ کتاب نہیں کتابچہ ہے جسے راقم الحروف نے پہلی دفعہ ۹۰ءکی دہائی کے اواخر میں پڑھا تھا۔ اتنی آسان انگریزی کا یہ کتابچہ اگر آپ نہیں پڑھتے تو کافی خسارے میں رہیں گے۔ پڑھیں تو دل میں امید کے چراغ روشن ہونے لگیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK