Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے اداریوں میں سیاسی تضادات اور تکنیکی چیلنجوں پر خصوصی توجہ رہی

Updated: June 14, 2026, 6:04 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

غیر اردو اخبارات میں اس ہفتے مختلف موضوعات پر اداریئے لکھے گئے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے اندرونی اختلافات، خصوصا سیونی گھوش کی باغی دھڑے میں شمولیت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ فسطائیت کے خلاف انڈیا اتحاد کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا ہے۔

Seeing the role of Saayoni Ghosh in the Bengal election campaign, no one is convinced that she can become a part of the saffron camp. Photo: INN
بنگال کی انتخابی مہم میں سیونی گھوش کا کردار دیکھتے ہوئے کسی کو یقین نہیں ہورہاہے کہ وہ زعفرانی خیمے کا حصہ بن سکتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

غیر اردو اخبارات میں اس ہفتے مختلف موضوعات پر اداریئے لکھے گئے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے اندرونی اختلافات، خصوصا سیونی گھوش کی باغی دھڑے میں شمولیت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ فسطائیت کے خلاف انڈیا اتحاد کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن کے مبینہ غیر جانبدارانہ رویے اور کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کے کاغذات نامزدگی کی منسوخی پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات اور روزگار سے متعلق خدشات کے تناظر میں نوجوانوں کو نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو کر مستقبل کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ 
اب سیونی خود’چڈھا‘ بن چکی ہیں 
سامنا( مراٹھی، ۱۲؍جون)
’’سیونی گھوش جیسی ذہنیت کے لوگوں کا کیا کیا جائے؟ یہ سوال کئی لوگوں کے ذہن میں اُبھرا ہوگا۔ مغربی بنگال کی انتخابی مہم میں سیونی نے اپنی دھواں دھار تقریروں سےخوب دھوم مچائی تھی۔ ان کا ایک محب وطن اور مخلص لیڈر کا عکس ابھر کر سامنے آیا تھا۔ وہ ہر عوامی جلسے میں بی جے پی کے بخیے ادھیڑ رہی تھیں اور ممتا بنرجی کو اپنی ماں قرار دے رہی تھیں۔ اسی وجہ سے جب ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمان میں پھوٹ پڑ رہی تھی تو کئی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ اس فہرست میں کم از کم سیونی گھوش کا نام شامل نہیں ہوگا لیکن اب ممتا کے گھر کے حالات بدل چکے ہیں اور سیونی گھوش نے ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی کے خیمے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اگرچہ ترنمول کے بے ایمان اراکین پارلیمان نے اپنا ایک الگ گروپ بنا لیا ہے لیکن آج نہیں تو کل انہیں بی جے پی میں ہی شامل ہونا پڑے گا۔ سیونی بنگال کے انتخابات کا ایک مقبول اور سرخیوں میں رہنے والا چہرہ تھیں۔ انہوں نے جس انداز میں انتخابی مہم چلائی، اس میں ’دل میں کعبہ اور مدینہ‘ جیسے گیت شامل تھے۔ ان گیتوں پر بی جے پی نے اعتراض کیا تھا اور انتخابی مہم کے دوران تنقید کی تھی کہ سیونی مسلمانوں کو لبھانے کیلئے ایسے گانے گا رہی ہیں۔ بی جے پی نے مہم میں یہ بھی کہا تھا کہ ان کے ایسے گیتوں سے ہندوتوا خطرے میں پڑ گیا ہے لیکن اب وہی’دل میں کعبہ اور مدینہ‘ کی سوچ رکھنے والی سیونی ہندوتوا وادیوں کے خیمے میں چلی گئی ہیں۔ جب عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر راگھو چڈھا نے عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی تو راگھو کی اس بے وفائی پر سیونی شدید غصے میں آگئی تھیں۔ انہوں نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ سیاست میں اب کوئی اصول یا اخلاقیات باقی نہیں رہی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ بھی بی جے پی میں جائیں گی؟تو سیونی غصے سے بے قابو ہوگئیں اور طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں چڈھا نہیں ہوں، جو چڈی ہو جاؤں گی، لیکن اب وہی سیونی خود’چڈھا‘ بن چکی ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، سفارتی کمزوری اور بنگال صورتحال اس ہفتے اخبارات کے موضوع رہے

اپوزیشن کو اپنا وجود بچانا مشکل ہوتا جارہا ہے
نوشکتی( مراٹھی، ۱۱؍جون)
’’حزب اختلاف کی پارٹیوں کے اتحاد’انڈیا‘ کا حالیہ اجلاس دہلی میں اختتام پذیر تو ہو گیا لیکن اپنے پیچھے کئی تیکھےسوالات چھوڑ گیا ہے۔ کہنے کو تو اس بیٹھک میں ۲۳؍ سیاسی جماعتوں کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی جیسی۲؍ کلیدی پارٹیوں نے اس اہم ترین مشاورتی عمل سے دوری اختیار کرکے اتحاد کے باہمی تال میل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جو ممتا بنرجی اب تک حاشیے پر بیٹھ کر کانگریس کی سیاسی مشکلات کا تماشہ دیکھ رہی تھیں انہیں اچانک اس’انڈیا‘ اتحاد کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی ہے۔ ابھی حال ہی میں جب حلقہ بندیوں کے قانون کو روکنے کیلئے اپوزیشن کا یکجا ہونا ناگزیر تھا تب ٹی ایم سی نے کہا تھا کہ ہمارے ایم پی انتخابی مہم میں مصروف ہیں، اسلئے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتے...مگر اب ترنمول کی بنگال میں سیاسی زمین سرکنے لگی ہے، اراکین اسمبلی ٹوٹنے لگے ہیں۔ پارٹی کا وجودخطرے میں پڑ گیا ہے اور عین دہلی دورے کے بیچ ممتا کے اپنے ایم پیز نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہےتو ممتا کی سیاسی حالت انتہائی تشویش ناک ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ موجودہ دور میں بی جے پی جیسی منظم طاقت کے سامنے اپوزیشن کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھنا دن بہ دن کتنا محال ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس اجلاس سے کسی انقلابی یا معرکہ آرا فیصلہ کی توقع رکھنا ہی بے کار تھا۔ تاہم موجودہ سنگین بقا کی جنگ میں اگر یہ تمام پارٹیاں صرف اپنے وجود کو بچانے کی خاطر ہی سہی لیکن ایک پلیٹ فارم پر متحد رہنے کا عزم ظاہر کر رہی ہیں تو اسے ایک مثبت پیش رفت مانا جا سکتا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اخبارات نے کمال مولا مسجد فیصلے اور بعض نے خالد و شرجیل کی ضمانت کو موضوع بنایا

الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان
نوبھارت( ہندی، ۱۲؍جون)
’’کسی بھی جمہوری ملک میں الیکشن کمیشن کو وہ کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے جہاں اسے حزب اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں کو ترازو کے ایک ہی پلے میں تولنا ہوتا ہے لیکن حالیہ دنوں میں مدھیہ پردیش اور جھار کھنڈ کے راجیہ سبھا انتخابات میں سامنے آنے والے واقعات محض اتفاقیہ انتظامی چوک نہیں بلکہ انتخابی مشینری کی نیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ایم پی سے کانگریس کی امیدوار میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم اس بنیاد پر مسترد کیا گیا کہ انہوں نے حلف نامے میں ایک عدالت میں دائر نجی شکایت کی معلومات چھپائی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مذکورہ شکایت کسی فوجداری جرم کے زمرے میں نہیں آتی، نہ ہی ان کے خلاف کوئی باضابطہ ایف آئی آر درج ہے تو محض ایک نجی تنازع کو بنیاد بنا کر کسی امیدوار کو انتخابی عمل سے بے دخل کر دینا کہاں کا انصاف ہے؟ اس یکطرفہ فیصلے کی قیمت کانگریس کو راجیہ سبھا کی ایک یقینی نشست گنوا کر چکانی پڑی ہے۔ اس کے برعکس جھارکھنڈ میں بی جے پی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار پریمل ناتھوانی کی نامزدگی میں بھی سنگین نوعیت کی غلطیاں تھیں جن پر کانگریس نے اعتراض بھی دائرکیا تھا لیکن وہاں انتخابی افسر نے قانون کی سختی دکھانے کے بجائے کمال مہربانی کا مظاہرہ کیا اور ناتھوانی کو غلطیاں درست کرنے کیلئے اگلے دن تک کی مہلت فراہم کر دی۔ ایک ہی قانون، ایک ہی نوعیت کے انتخابات لیکن دو ریاستوں میں دو الگ الگ معیار؟ اپوزیشن کیلئے فوری برطرفی اور اقتدار کی حامی قوتوں کیلئے رعایت کا یہ برتاؤ الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ‘‘
اے آئی کے غلبے کے باوجودانسان کا مستقبل محفوظ ہے
دی ٹائمز آف انڈیا( انگریزی، ۱۱؍جون )
’’موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے قدموں نے دنیا بھر میں کروڑوں ملازمتوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ عالمی سروے بتاتے ہیں کہ نصف سے زائد امریکی بے روزگاری کے خوف کا شکار ہیں جبکہ لندن میں ۴۶؍ فیصد کام خودکار نظام پر منتقل ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ آئی ٹی کے عالمی مرکز ہندوستان میں اب روایتی کیمپس پلیسمنٹ کا دور ختم ہو رہا ہے اور کام کا مستقبل انسانی ذہانت اور اے آئی کے باہمی اشتراک سے مشروط ہو چکا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں عوامی اضطراب فطری ہے لیکن وسیع تناظر میں یہ روزگار کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک عظیم تکنیکی تبدیلی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پرانی ملازمتیں ختم ہوتی ہیں تو ان سے کہیں زیادہ نئی آسامیاں جنم لیتی ہیں۔ موجودہ دور کی۶۰؍ فیصد نوکریاں ۱۹۴۰ء کی دہائی کے انسان کیلئے بالکل نئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سب سے بڑا موقع عملی دنیاکیلئے خود اے آئی ماڈل کو تربیت دینے میں چھپا ہے۔ اے آئی سسٹم جیسے چیٹ جی پی ٹی یا جیمنی یکساں اور عمومی نوعیت کے ہیں۔ سپلائی چین جیسے وسیع شعبوں میں ان سے کام لینے کیلئے ان کی مخصوص تربیت لازمی ہے جو انسانوں کے بغیر ممکن نہیں۔ مارکیٹ میں سی پی یو کی بڑھتی ہوئی طلب اس نئی تبدیلی کا واضح ثبوت ہے۔ طویل مدتی بنیادوں پر انسان کا مستقبل محفوظ ہےتاہم قلیل مدتی اثرات سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہے کہ افرادی قوت نئی مہارتیں سیکھے اور خود کو وقت کے مطابق ڈھالے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK