دنیا میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے جہاں اپنے قریبی دوست کو فون کرنا اور اس سے دل کی باتیں کرنے کو، ’سیلف کیئر‘ یعنی خود کی دیکھ بھال کی ایک شکل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 6:05 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
دنیا میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے جہاں اپنے قریبی دوست کو فون کرنا اور اس سے دل کی باتیں کرنے کو، ’سیلف کیئر‘ یعنی خود کی دیکھ بھال کی ایک شکل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب مشکل دن کے اختتام پر دوست کو فون کرنا زندگی کا عام حصہ سمجھا جاتا تھا۔ کوئی اسے علاج نہیں کہتا تھا، کوئی اسے ذہنی صحت کا نسخہ نہیں سمجھتا تھا، اور نہ ہی کسی ماہر کو اس کی افادیت ثابت کرنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ دوستی انسانی زندگی کا ایک فطری حصہ تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تھے، باتیں کرتے تھے، اپنے دکھ سکھ بانٹتے تھے اور یوں ان کی زندگی آگے بڑھتی تھی۔ لیکن آج صورتحال بدل چکی ہے۔
اب دنیا بھر میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے جہاں اپنے قریبی دوست کو فون کرنا یا اس سے دل کی بات کرنا کو، ’سیلف کیئر‘‘ یعنی خود کی دیکھ بھال کی ایک شکل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی نظر میں یہ ایک سادہ اور خوش آئند تبدیلی معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر اسے معاشی اور سماجی زاویے سے دیکھا جائے تو اس کے پیچھے ایک گہری کہانی پوشیدہ ہے۔ درحقیقت یہ رجحان واضح کرتا ہے کہ جدید معاشرے میں انسانی تعلقات کس قدر کمزور ہو چکے ہیں اور تنہائی کس طرح ایک مکمل معاشی شعبے میں تبدیل ہو رہی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا نے دولت، ٹیکنالوجی اور سہولتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا ہے۔ لوگ پہلے سے زیادہ جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ موبائل فون، ویڈیو کالز، سماجی رابطوں کے ذرائع اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات نے رابطے کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود مختلف بین الاقوامی مطالعات مسلسل یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ لوگ پہلے سے زیادہ تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ یہ ایک عجیب تضاد ہے۔ رابطے کے ذرائع بڑھتے جا رہے ہیں مگر تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ذائقوں کا بدلتا رجحان؛ ریستوراں میں نان ویج ڈیزرٹس کی واپسی
ہندوستان کے بڑے شہروں میں نوجوان روزگار کیلئے اپنے آبائی شہروں اور خاندانوں سے دور منتقل ہو رہے ہیں۔ مشترکہ خاندانوں کی جگہ چھوٹے خاندانوں نے لے لی ہے۔ دفتر کا کام گھر تک آ چکا ہے، اور سماجی میل جول کی جگہ اسکرینوں نے لے لی ہے۔ بظاہر زندگی پہلے سے زیادہ آرام دہ ہے، مگر اسی زندگی میں جذباتی تنہائی کا احساس بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس نے ایک نئی معیشت کو جنم دیا ہے۔ آج ذہنی سکون اور جذباتی توازن ایک بڑی صنعت بن چکے ہیں۔ مراقبے کے ایپس، ذہنی صحت کے پلیٹ فارم، آن لائن مشاورت، فلاحی مراکز، خود اعتمادی کے کورسیز اور جذباتی معاونت فراہم کرنے والی خدمات اربوں ڈالر کی عالمی صنعت میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ دنیا بھر کی کمپنیاں انسان کی بے چینی، تھکن اور تنہائی کے حل فروخت کر رہی ہیں۔
ایسے میں ایک دلچسپ حقیقت سامنے آ رہی ہے۔ بیشتر ماہرین نفسیات اور سماجی محققین کا کہنا ہے کہ ذہنی سکون کیلئے مؤثر ترین چیز وہی ہے جو صدیوں سے انسان کے پاس موجود تھی: ایک قابلِ اعتماد دوست۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ مضبوط سماجی تعلقات رکھنے والے افراد میں ذہنی دباؤ نسبتاً کم ہوتا ہے، اطمینان زیادہ ہوتا ہے اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دوستی کو محض سماجی تعلق نہیں بلکہ صحت کے ایک اہم عنصر کے طور پر’پیش‘ کیا جارہاہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایک سادہ سی گفتگو، ایک فون کال یا قریبی دوست کے ساتھ چند منٹ گزارنا ذہنی سکون فراہم کر سکتا ہے تو پھر اربوں ڈالر کی ویل نیس انڈسٹری کیا فروخت کر رہی ہے؟
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: سیلف انجیکٹ ایبل پین: خوبصورتی اور صحت ایک سرنج میں، کیا یہ محفوظ ہے؟
اس سوال کا جواب جدید زندگی کی ساخت میں پوشیدہ ہے۔ ماضی میں دوستی، خاندان اور برادری انسان کی فطری سماجی ڈھال تھے۔ لوگ اپنے مسائل انہی رشتوں کے ذریعے حل کر لیتے تھے۔ مگر جیسے جیسے شہری زندگی تیز، مصروف اور انفرادی ہوتی گئی، یہ غیر رسمی نظام کمزور پڑنے لگے۔ نتیجتاً انسان نے ان خلا کو پُر کرنے کیلئے خدمات خریدنا شروع کر دیں۔ غور کریں تو احساس ہوگا کہ ماڈرن ویل نیس انڈسٹری دراصل ان تعلقات کا متبادل فراہم کر رہی ہے جو کبھی قدرتی طور پر موجود تھے۔ جو کام کبھی ایک دوست، پڑوسی یا خاندان کا فرد انجام دیتا تھا، آج اس کیلئے ایپ، کوچ، مشیر یا سبسکرپشن درکار ہے۔ یہ رجحان کاروباری دنیا کیلئے بھی اہم اشارے رکھتا ہے۔ بڑی کمپنیاں اب ملازمین کی فلاح و بہبود کو صرف طبی بیمے تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ سماجی روابط کو بھی اہمیت دینے لگی ہیں۔ کئی ادارے مشترکہ سرگرمیوں، سماجی تقریبات اور گروپ پروگراموں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہو چکا ہے کہ تنہا ملازم کم خوش اور کم مفید ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ:سلیبریٹی آئی وی تھیراپی بڑھا رہی ہے ’’ڈِرِپ کلچر‘‘ کی چمک
ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ آج جب دوست کو فون کرنا ’’سیلف کیئر‘‘ کے نام سے مقبول ہو رہا ہے تو دراصل یہ جدید معیشت پر ایک خاموش تنقید بھی ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شاید ہم نے زندگی کو زیادہ مؤثر تو بنا لیا ہے لیکن زیادہ مربوط نہیں بنا سکے۔ ہم نے سہولتیں پیدا کیں، تعلقات نہیں۔ ہم نے رابطے کے ذرائع بنائے، مگر قربت پیدا نہیں کر سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا عمل جو کبھی روزمرہ زندگی کا معمول تھا، آج ایک رجحان بن کر لوٹ رہا ہے۔ دوست کو فون کرنا اچانک مقبول نہیں ہوا، بلکہ انسان کو یہ احساس دوبارہ ہونے لگا ہے کہ جذباتی آسودگی کی کچھ بنیادی ضرورتیں ایسی ہیں جنہیں کوئی ایپ، کوئی مشین اور کوئی مصنوعی ذہانت مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتی۔
یہ کہانی دوستی کی نہیں جدید معاشرے کی ہے۔ یہ اس دور کی کہانی ہے جہاں تنہائی ایک معاشی حقیقت بن چکی ہے، جہاں جذباتی سکون ایک صنعت میں تبدیل ہو چکا ہے، اور جہاں انسان آہستہ آہستہ دوبارہ دریافت کر رہا ہے کہ بعض اوقات سب سے مؤثر علاج کسی مہنگی خدمت میں نہیں بلکہ ایک دوست کی آواز میں چھپا ہوتا ہے۔