رمضان میں چھوٹی بچیاں رات میں گھومنے کیلئے اپنے والدین کو بہت پریشان کرتی ہیں۔ رمضان کی سجاوٹ ، بازار اورچہار جانب پھیلی ہوئی رونق دیکھ کر اُن کی طبیعت میں بشاشت آجاتی ہے۔
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 6:28 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
رمضان میں چھوٹی بچیاں رات میں گھومنے کیلئے اپنے والدین کو بہت پریشان کرتی ہیں۔ رمضان کی سجاوٹ ، بازار اورچہار جانب پھیلی ہوئی رونق دیکھ کر اُن کی طبیعت میں بشاشت آجاتی ہے۔
پہلے روزہ کی شب تھی ۔ مدثرآئس کریم کی گاڑی کے پاس آئس کریم لینے کھڑا تھا۔ پرانا ساتھی ہے جس کے بارے میں گزشتہ دنوںسننے میں آیا تھا کہ اس کے دونوں گردے سکڑچکے ہیں اور وہ ڈائیلاسس پر ہے۔ ڈاکٹر نے ٹرانس پلانٹ تجویز کیا ہے۔ یہ معلوم ہونے کے بعد رمضان سے قبل گزشتہ کچھ دنوں میری اس کے والدسے ملاقات ہوتی رہی اور انہی سے مدثر کی خیر خیریت دریافت کرتا رہا۔ بہرحال اُس روز، کافی عرصہ بعد، مدثر سے بالمشافہ ملاقات ہوئی ۔ اتنے سخت حالات میںبھی وہ روایتی مسکراہٹ اور گرمجوشی کے ساتھ ملا۔ ہاتھ میںسلائن لگا ہوا تھا۔ دورانِ گفتگو اُس نے بتایاکہ گردوں کی سائز چھوٹی ہوچکی ہے اس لئے ٹرانس پلانٹ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ زخم وغیرہ کا معاملہ ہوتا توکوئی صورت نکل سکتی تھی لیکن اب ٹرانس پلانٹ ہی واحد حل ہے۔یہ کہتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر بے فکر مسکراہٹ تھی۔ اس نے بتایا کہ اتنے دنوں بعد وہ آج نارمل محسوس کررہا ہے کیونکہ اسے کئی انجکشن لگے ہیں۔ روزہ کے تعلق سے استفسار کیا توبتایاکہ ڈاکٹر نے سختی سے منع کیاہےبلکہ کہا ہے کہ روزہ رکھنے کے بارے میںسوچنا بھی مت ورنہ معاملہ بگڑ سکتا ہے، حالانکہ گردے یا ذیابیطس کے مریض ڈاکٹروں کے مشورے سے روزہ رکھتے ہیں لیکن یہاں معاملہ چونکہ سنگین اور تازہ تھا اسلئے ڈاکٹر نے اسے روزہ نہ رکھنے کا سختی سے مشورہ دیا ۔ یہ کہہ کر اس نے جانے کی اجازت لی کیونکہ اسے آرام کی ضرورت تھی۔ بھاری انجکشن کے سبب اس کی طبیعت بوجھل ہوئی جارہی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱): رمضان کے پہلے والا آخری سنڈے
دوسرے روزہ یعنی جمعہ کے دن افطار سے کچھ دیر قبل اصغر مل گئے جو کئی ٹی وی سیریلوں بالخصوص ’تارک مہتاکا الٹا چشمہ‘ میں نظرآچکے ہیں۔ کچھ نئےپروجیکٹوںکے بار ے میں پوچھنے پر بتایا کہ فی الحال رمضان میںوہ شوٹنگ پر نہیں جا رہے ہیں، البتہ کچھ ویب سیریز میں کام کر رہے ہیں۔ بات بات میںمحلے کے امدادی ادارہ ’آسرا ٹرسٹ ‘ کا ذکر چھیڑ دیا اوربتانے لگے کہ غریبوں بالخصوص بیواؤں کی مدد کرنے میں یہ ادارہ پیش پیش رہتا ہےاور بیواؤں کی معلومات لے کرخود ان تک امداد پہنچاتا ہے۔ اس نے یہ بات پورے وثوق سے کہی کیونکہ وہ خود بھی ٹرسٹ کے ا راکین میں شامل ہے۔ اصغر نے بتایا کہ ایسے اداروں اور افراد کے تعلق سے اخبار میں شائع ہوتے رہنا چاہئے تاکہ ریکارڈ کی شکل میں ان کی تفصیل محفوظ رہے اورنئی نسل کو ان کے تعلق سے بتایا جاسکے ۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲): اللہ نے اگر اسی طرح رزق دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہی سہی
جمعہ کو ہی تراویح بعدمدبر اور شاہ نواز سے ملاقات ہوئی۔ دونوں لمبے تڑنگے ہیں اور رمضان میںان کی جوڑی خوب جمتی ہے، اکثر ملتے ہیں، اسٹار (ہوٹل)کی چائےپیتے ہیں، ہنسی مذاق اور یہاں وہاں کی باتیں کرتے ہیں۔ اس مرتبہ لیکن بات صرف مدبرسے ہوئی ۔ نئی دکان بن رہی تھی جس میں اسے کچھ بورڈ وغیرہ لگانے کا کام ملا تھا۔ شاہ نواز صاحب اس لئے بات نہیں کررہے تھے کیونکہ انہیںفون آگیا تھا۔ پانچ سات منٹ جب تک ہم کھڑے رہے، انہیں فون سے ہی فارغ ہونے کا موقع نہیںملا، وگرنہ بڑے دلدار شخص ہیں، چائے پلائے بغیر نہیںچھوڑتے۔ یہ موبائل چیز ہی ایسی ہے،کسی نہ کسی بہانے سے دوستوں کی محفل میںخلل ڈال ہی دیتا ہے۔اس ملاقات میںشاہنواز ڈائری نگار کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا تھا بلکہ صرف نظروں سے بتا رہا تھا کہ اسے میری موجودگی کا علم ہے ۔ سال بھر میںچند بار دوستوں سے ہونے والی ملاقات میںاتنا بھی کافی ہوتا ہے ۔ اسی دن تھوڑے تھوڑے وقفے سے عامر اور مزمل بھی مل گئے۔ اتفاق سے دونوں اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ تھے۔ عامر سے رمضان میں آئندہ دنوں دوستوںکی دعوت کے اہتمام پرہلکی پھلکی گفتگو ہوئی۔ بائیک پر آگے چھوٹی بیٹی بیٹھی تھی جس کے نام سے مَیں واقف نہیںتھا ۔ پوچھنے پراسلحان فاطمہ نام بتایا۔ پیچھے آئرہ بیٹھی تھی جو اکثر سڑک پرکھیلتے ہوئے ملتی ہے۔ مزمل بھی اپنی بچیوں کے ساتھ تھے۔ پوچھنے پربتایا کہ دونوں گھر میں بور ہو رہی تھیں اس لئے سوچا ذرا گھما کر لے آؤں ۔ رمضان میں چھوٹی بچیاں رات میں گھومنے کیلئے اپنے والدین کو بہت پریشان کرتی ہیں۔ رمضان کی سجاوٹ ، بازار اورچہار جانب پھیلی ہوئی رونق دیکھ کر خوش ہوجاتی ہیں اور انہیںخوش دیکھ کر والدین بالخصوص ایک باپ کو جو خوشی ملتی ہے،اس کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں ۔