ایک معاصر انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، جو ۱۲؍ اپریل کو نشر ہوئی، بتایا گیا ہے کہ ۲۵؍ نومبر کو مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) شری ایس چوکالنگم نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو خط لکھ کر ’’متنبہ‘‘ کیا تھا کہ مہاراشٹر کیلئے ایس آئی آر مکمل کرنے کا دورانیہ کافی تنگ ہے، اس میں توسیع ہونی چاہئے۔
ایس آئی آر مہاراشٹر۔ تصویر:آئی این این
ایک معاصر انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، جو ۱۲؍ اپریل کو نشر ہوئی، بتایا گیا ہے کہ ۲۵؍ نومبر کو مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) شری ایس چوکالنگم نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو خط لکھ کر ’’متنبہ‘‘ کیا تھا کہ مہاراشٹر کیلئے ایس آئی آر مکمل کرنے کا دورانیہ کافی تنگ ہے، اس میں توسیع ہونی چاہئے۔ اس پر ہمیں یاد آیا کہ جب ایس آئی آر کا اعلان ہوا تھا تب مہاراشٹر کو اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ چونکہ اس سے کچھ عرصہ پہلے ہی اس ریاست میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے اس لئے سمجھا یہ جارہا تھا کہ اگر مہاراشٹر کا نمبر آیا بھی تو جلدی نہیں آئے گا مگر فروری کے تیسرے ہفتے میں الیکشن کمیشن نے دیگر اکیس ریاستوں اور مرکزی علاقوں کے ساتھ مہاراشٹر کو بھی شامل کرلیا اور اعلان ہوگیا۔
اب تک اس سلسلے کے جتنے بھی اعلانات ہوئے ہیں اُن میں یکم اپریل سے ایس آئی آر کی سرگرمی شروع کرنے کی تو بات ہے مگر کوئی ٹائم لائن نہیں ہے کہ اس سرگرمی کے دوران کب کیا شروع ہوگا، کب ختم ہوگا اور عبوری فہرست کب جاری کی جائیگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں اتنی عجلت کی ضرورت نہیں تھی مگر ہم اور ملک کا ہر عام آدمی وہ نہیں سمجھتا جو الیکشن کمیشن سمجھتا ہے اس لئے کوئی فیصلہ، اعلان، نوٹیفکیشن وغیرہ کے تعلق سے اب بہت سوں نے کچھ سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر چونکالنگم کی اس بات کا معنی سمجھنا ہمارے لئے مشکل ہے، کہ مقرر کردہ ’’ دورانیہ کافی تنگ ہے‘‘۔ ہوسکتا ہے کہ مرکزی کمیشن نے کوئی دورانیہ مقرر کیا ہو جو ہمارے علم میں نہیں ہے مگر ایسی کوئی بات عوام کے درمیان نہیں ہے اسی لئے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ اگر میپنگ کروانا ضروری ہے تو یہ کام کب تک پورا ہوجانا چاہئے؟
الیکشن کمیشن آف انڈیا کا حالیہ برسوں میں اگر کوئی رجحان واضح طور پر سامنے آیا ہے تو وہ یہی ہے کہ جو کچھ کہہ دیا وہ سن لینا ہے اور اُسی پر عمل کرنا ہے۔ بہار میں ایس آئی آر کی سرگرمی نہایت خوش اسلوبی سے جاری رہ سکتی تھی مگر اسے عین الیکشن کے وقت جاری کیا گیا جس کی وجہ سے غیر معمولی بدنظمی پیدا ہوئی اور جتنے ناموں کی چھٹنی ہوئی کہا نہیں جاسکتا کہ وہ درست تھی یا نہیں تھی۔ مغربی بنگال اور تمل ناڈو سے بھی ایسی ہی خبریں تسلسل کے ساتھ آرہی ہیں۔ چند ہزار ناموں کا حذف ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، لاکھوں کا نام کٹ جانا بالکل سمجھ میں نہیں آتا۔ مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے اعلان کے بعد ہی سے عوام میں بے چینی ہے مگر عام آدمی کی مشکل یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنا روزگار دیکھے یا سرکاری کاموں میں اُلجھے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے علاقوں میں خاصی بیداری ہے مگر کئی علاقوں میں نہیں بھی ہے۔ اس اخبار نے دو روز قبل، مورخہ ۱۲؍ اپریل ۲۶ء کو تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے کہ کس طرح بہت سی جگہوں پر لوگوں کو یہی نہیں معلوم کہ ایس آئی آر میں کیا کرنا ہوگا، کیسے کرنا ہوگا اور ا س کیلئے کہاں جانا ہوگا؟ اس کار خیر میں سماجی تنظیمیں تو حصہ لے رہی ہیں مگر الیکشن کمیشن کی جانب سے عوام کو اعتماد میں لینے اور بیداری لانے کیلئے جو مہم چلنی چاہئے تھی، اس کی شاید ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ بلاشبہ مہاراشٹر میں بہار یا بنگال جیسی صورتحال نہیں ہے کیونکہ یہاں الیکشن نہیں ہے مگر جو سرگرمی شروع ہوئی اس میںتمام کی شرکت ہونی چاہئے جسے الیکشن کمیشن ہی یقینی بنا سکتا ہے ۔