چین کے صدر شی جن پنگ نے عالمی کشیدگی کے دوران اسپین کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور کثیرالجہتی نظام کے دفاع پر زور دیا۔ بیجنگ میں پیڈرو سانچیزسے ملاقات کے دوران انہوں نے طاقت کی سیاست کے بجائے قانون کی حکمرانی کی حمایت کی اپیل کی۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 6:09 PM IST | Beijing
چین کے صدر شی جن پنگ نے عالمی کشیدگی کے دوران اسپین کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور کثیرالجہتی نظام کے دفاع پر زور دیا۔ بیجنگ میں پیڈرو سانچیزسے ملاقات کے دوران انہوں نے طاقت کی سیاست کے بجائے قانون کی حکمرانی کی حمایت کی اپیل کی۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے منگل کو اسپین کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ دنیا کو دوبارہ’’جنگل راج ‘‘ کی طرف لوٹنے سے روکا جا سکے، یہ بات امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں کہی گئی۔ یہ بیان بیجنگ میں اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیزسے ملاقات کے دوران سامنے آیا، جس کی اطلاع سرکاری خبر رساں ادارے سنہوا نیوز ایجنسی نے دی۔ شی جن پنگ نے کہا:’’آج کی دنیا بے چینی کا شکار ہے اور قانون کی حکمرانی اور طاقت کی حکمرانی کے درمیان مقابلے کا سامنا کر رہی ہے‘‘ اور انہوں نے میڈرڈ اور بیجنگ پر زور دیا کہ وہ حقیقی کثیرالجہتی نظام کا مشترکہ طور پر دفاع کریں۔
ریاستی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ شی کے بیانات میں امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم، اسپین اور چین دونوں، جو اگلے ماہ امریکی صدر ٹرمپ کی میزبانی کرنے والے ہیں، امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ اور’’غیر قانونی‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ پیڈرو سانچی سنیچر کوپانچ روزہ دورے پر چین پہنچے، جو ان کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد چوتھا دورہ ہے۔ یہ دورہ تقریباً پانچ ماہ بعد ہو رہا ہے جب اسپین کے بادشاہ فیلپ ششم نے چین کا سرکاری دورہ کیا تھا، جو کسی ہسپانوی بادشاہ کا۱۸؍ سال بعد پہلا دورہ تھا۔ اسپین اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارت گزشتہ سال۵۵؍ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ چین یورپی یونین کے باہر اسپین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔