• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آدھار کے معمار نندن نیلیکنی اور نکھل کامتھ کو ایس آئی آر نوٹس

Updated: September 10, 2026, 2:05 PM IST | Bengaluru

کرناٹک میں خصوصی نظرثانی کے دوران نیلیکنی اور ان کے اہل خانہ کے نام ’پچھلی ایس آئی آر سے میپ نہیں‘ کے زمرے میں، Zerodha کے نکھل اور نتن کامتھ کے ریکارڈ میں والد کے نام کی عدم مطابقت؛ الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ یہ انتظامی جانچ ہے، کسی غلط کاری کا ثبوت نہیں۔

Aadhaar Architect Nandan Nilekani And Nikhil Kamath. Picture: INN
آدھار کے معمار نندن نیلیکنی اور نکھل کامتھ۔ تصویر: آئی این این

کرناٹک میں ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران انفوسس کے شریک بانی اور آدھار نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے نندن نیلیکنی، ان کے اہل خانہ اور Zerodha کے شریک بانی نکھل اور نتن کامتھ کے نام انتخابی ریکارڈ کی جانچ کے دوران سامنے آئے ہیں۔ نیلیکنی خاندان کے ریکارڈ کو ’’پچھلی ایس آئی آر سے میپ نہیں‘‘ جبکہ کامتھ برادران کے ریکارڈ کو ’’والد کے نام میں عدم مطابقت‘‘ کے زمرے میں نشان زد کیا گیا ہے۔

الیکشن حکام کے مطابق نیلیکنی کے موجودہ انتخابی اندراج کو ۲۰۰۲ء کی سابقہ انتخابی فہرست کے ریکارڈ سے براہِ راست ملانے میں دشواری سامنے آئی۔ اسی بنیاد پر ایس آئی آر  کے تحت نوٹس تیار کیا گیا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ’’نو میپنگ‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ ووٹر کا نام غیر قانونی طور پر درج ہے یا متعلقہ شخص نے کوئی غلط کاری کی ہے، بلکہ موجودہ ریکارڈ اور پرانے انتخابی ڈیٹا کے درمیان مطابقت کی جانچ درکار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایم پی ایس سی امتحان میں مبینہ بدنظمی اور پیپر لیک کیخلاف ودربھ کے طلبہ کا سنویدھان چوک پر احتجاج

نکھل کامتھ اور ان کے بھائی نتن کامتھ کے معاملے میں مسئلہ مختلف ہے۔ دستیاب ریکارڈ میں ان کے نام کے ساتھ درج والد کے نام اور پرانی انتخابی فہرست کے اندراج میں مطابقت نہ ہونے کو وجہ بتایا گیا ہے۔ انتخابی حکام اس عمل کے ذریعے موجودہ ووٹر ریکارڈ کو پرانی فہرست سے جوڑنے اور کسی ممکنہ غلط اندراج یا ڈیٹا کی خامی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس کارروائی میں کرناٹک کی متعدد معروف شخصیات کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ اداکار شیوراج کمار کا ریکارڈ بھی سابقہ فہرست سے مطابقت کے مسئلے کے باعث جانچ کے دائرے میں آیا، جبکہ معروف سائنس دان پروفیسر سی این آر راؤ کے معاملے میں الیکشن حکام نے الگ وضاحت جاری کی کہ ان کے خلاف باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ ان کے ریکارڈ میں نام کے فرق کی نشاندہی کے بعد بوتھ لیول افسر نے تصدیق کی اور اضافی انتخابی رجسٹریشن افسر نے ۸؍ ستمبر کو انہیں حتمی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔

نیلیکنی کی انتخابی ریکارڈ سے متعلق یہ پیش رفت اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کہ وہ ۲۰۰۹ءسے ۲۰۱۴ء تک Unique Identification Authority of India (UIDAI) کے بانی چیئرمین رہے، جس ادارے نے آدھار نظام نافذ کیا۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں انہیں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے مرکزی حکومت کی قائم کردہ اعلیٰ اختیاراتی ٹاسک فورس کی سربراہی بھی سونپی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:دھولیہ: مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے یک روزہ صحافتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد

کرناٹک میں ایس آئی آر  کے دوران بڑے پیمانے پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ۴؍ ستمبر تک ریاست میں ۸۱ء۴۳؍ لاکھ نوٹس تیار کیے جاچکے تھے، جن میں سے ۳۲ء۷؍ لاکھ متعلقہ افراد تک پہنچائے گئے جبکہ ۴۹ء۳۶؍ لاکھ کی ترسیل باقی تھی۔ سماعتوں کا عمل ۳؍ ستمبر سے شروع ہوچکا ہے اور ۱۲؍ اکتوبر تک جاری رہے گا۔ دعووں اور اعتراضات کی مدت ۲۳؍ ستمبر تک ہے، جبکہ نظرثانی شدہ حتمی ووٹر فہرست ۲۷؍ اکتوبر کو شائع ہونے کی مقررہ تاریخ ہے۔

بنگلورو شہری ضلع میں ہی لاکھوں ریکارڈ اس جانچ کے دائرے میں آئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق بنگلورو اربن میں ۴۶ء۹؍ لاکھ، بی بی ایم پی نارتھ میں ۱۳ء۶؍ لاکھ، بی بی ایم پی سینٹرل میں ۲۹ء۴؍ لاکھ اور بی بی ایم پی ساؤتھ میں ۱۸ء۴؍ لاکھ نوٹس تیار کیے گئے۔ الیکشن حکام کے مطابق اس مشق کا بنیادی مقصد موجودہ ووٹر فہرست کو پرانے انتخابی ریکارڈ سے ملانا اور قابلِ تصدیق ووٹر اندراجات کو حتمی فہرست میں برقرار رکھنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK