’پیپر تمہارا تھا، خواب ہمارے تھے، پیپر لیٖک ہوا اعتماد ٹوٹا، ہمارے مستقبل سے مت کھیلو‘‘جیسے نعرے لگائے گئے۔ مبینہ پیپر لیک پر ایم پی ایس سی کے صدر اور سکریٹری کے استعفیٰ کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 1:21 PM IST | Ali Imran | Nagpur
’پیپر تمہارا تھا، خواب ہمارے تھے، پیپر لیٖک ہوا اعتماد ٹوٹا، ہمارے مستقبل سے مت کھیلو‘‘جیسے نعرے لگائے گئے۔ مبینہ پیپر لیک پر ایم پی ایس سی کے صدر اور سکریٹری کے استعفیٰ کا مطالبہ۔
ایم پی ایس سی بھرتی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تفتیش، قصوروار افراد کے خلاف سخت کارروائی اور امتحانی نظام کو تبدیل کرنے کیلئے بدھ کو وردبھ کے ہزاروں طلبہ نے ناگپور کے سنویدھان چوک پر احتجاج کیا۔ اس موقع پر ’’پیپر تمہارا تھا، لیکن خواب ہمارے تھے،ہماری محنت کا بازار مت سجاؤ، پیپر لیٖک ہوا اعتماد ٹوٹا، ہمارے مستقبل سے مت کھیلو‘‘جیسے نعروں سے علاقہ گونج اٹھا۔
یہ بھی پڑھئے: جرمن مسلح افواج میں جنسی زیادتی کے ۲۰۰۰؍ مقدمات: وزارت دفاع کی رپورٹ میں انکشاف
مظاہرین نے امتحان کے پرچے میں رازداری، امتحانی مرکز کی سیکوریٹی اور نتیجہ کے عمل میں شفافیت کے بارے میں سوال قائم کرتے ہوئے کہا کہ ایک امتحان میں مبینہ بے ضابطگی کا اثر صرف اسی امتحان تک محدود نہیں رہتا۔ اس امتحان کی تیاری کرنے والے ہزاروں امیدواروں کی مہینوں، برسوں کی محنت، مالی خرچ اور تیاری پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ ہم امتحان صرف سوالات کے جواب لکھنے کے لئے نہیں دیتے بلکہ اس کے ذریعے ہم اپنے خاندان کے حالات کو بدلنے، انتظامیہ کا حصہ بننے اور معاشرہ کے لئے کام کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اس لئے سوالیہ پرچہ کا لیک ہونا صرف ایک بددیانتی نہیں بلکہ ہمارے خوابوں کا قتل ہے۔ اس موقع پر طلبہ نے مطالبہ کیا کہ ایم پی ایس سی امتحانات سے متعلقہ مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی جائے، قصوروار افراد اور اداروں کو جوابدہ ٹہرایہ جائے، مستقبل میں سوالیہ پرچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ٹھوس طریقہ کار وضع کیا جائے اور امتحان دینے والوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھئے:ناگپور: کانگریس کا آرایس ایس دفتر کے باہر جارحانہ مظاہرہ
مظاہرین کے اہم مطالبات
مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن( ایم پی ایس سی) کی طرف سے ۲۰۲۲ ءسے اب تک کرائے گئے تمام بھرتی امتحانات کا تفصیلی اور جامع جائزہ لے کر منصفانہ تحقیقات کی جائے۔ طلبہ نے الزام لگایا ہے کہ پہلی بار پیپر لیک نہیں ہوا ہے بلکہ پچھلے تمام امتحانات میں بھی سوالیہ پرچہ لیک ہوا ہے۔ نیز طلبہ کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایم پی ایس سی کے چیئرمین وویک بھیمنوار اورسیکریٹری کو ان کے عہدوں سے فوری طور پر ہٹایا جائے تاکہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات غیر جانبداری سے کی جاسکے۔مظاہرے میں شریک طلبہ نے دعویٰ کیا کہ اگر متعلقہ افسران کے دفتر میں رہتے ہوئے بھی تحقیقات کی جاتی ہے تو اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ حکومت اور ایم پی ایس سی کو طلبہ کے مطالبات کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور شفاف تحقیقات کرنی چاہئے۔