طلبہ اوردھولیہ و اطراف کے شہروں کے صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔تواب انصاری ، شکیل رشید، عاصم جلال، ڈاکٹر عبدالوہاب، مشتاق کریمی ،شیخ محمد اظہر نے خطاب کیا۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 1:27 PM IST | Ismail Shad | Dhule
طلبہ اوردھولیہ و اطراف کے شہروں کے صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔تواب انصاری ، شکیل رشید، عاصم جلال، ڈاکٹر عبدالوہاب، مشتاق کریمی ،شیخ محمد اظہر نے خطاب کیا۔
مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کے زیر اہتمام یک روزہ اردو صحافتی ورکشاپ کا انعقاد ۸؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو شہر کے باغبان جماعت خانہ اقصیٰ نگر میں عمل میں آیا۔دھولیہ میں پہلی مرتبہ اردو اکادمی کی جانب سے منعقدہ ورکشاپ میں بیرون شہر کے علاوہ مقامی صحافیوں کے ہمراہ شہر کے معززین، شعراء، ادبا، اساتذہ، جونیئر کالج کے طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔
پہلے تعارفی سیشن کی صدارت مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادمی کے کارگزار صدر سید حسین اختر نے کی۔ جبکہ دوسرے سیشن کے صدر ادارہ سوئیس کے سیکریٹری الحاج محمد عفان انصاری اور تیسرے سیشن کے صدر سردار شکشکن سنستھا کے چیئرمن ڈاکٹر عقیل پرویز تھے۔ اکادمی کے ایگزیکٹیو آفیسر شعیب ہاشمی نے پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کئے ۔ ابتدائی کلمات میں سید حسین اختر نے اکادمی کے توسط سے اردو کے فروغ کیلئے کئے جانے پروگراموں کی تفصیل فراہم کی اور مستقبل کے عزائم سامعین کے گوش گزار کئے۔
صحافتی ورکشاپ میں ہفت روزہ خاندیش جن سنگرام کے ایڈیٹر تواب انصاری نے جدید صحافت اور اردو کے روشن امکانات کے موضوع پر سیر حاصل خطاب کیا ۔ ایشیا ایکسپریس ٹی وی کے رپورٹر شیخ محمد اظہر نے صحافی کو ایک سے زائد زبانوں کے جاننے سیکھنے کی ضرورت پہ زور دیا۔نیز جدید دور میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت جیسے نکات پر روشنی ڈالی۔دانش ریاض نے اپنے خطاب میں نسل نو کوپیغام دیا کہ وہ صحافت کے جدید تقاضوں کو سمجھیں ۔ اردو صحافت میں معاشی خبروں کے مقام و اہمیت کو موثر انداز میں پیش کیا ۔ ڈاکٹر عبدالوہاب نے ’’اردو صحافت، جدید ٹیکنالوجی اور اس میں مواقع ‘‘اس عنوان پر طلبہ کی رہنمائی کی اور صحافتی ورکشاپ پر خبر لکھنے کو کہا اور ان طلباء میں سے پانچ ایسے طلبہ جنہوں نے بہترین انداز میں رپورٹنگ کی انہیں انعامات سے نوازا۔
یہ بھی پڑھئے:ناگپور: کانگریس کا آرایس ایس دفتر کے باہر جارحانہ مظاہرہ
روزنامہ ممبئی اردو نیوز کے مدیر شکیل رشید نےاپنے تجربات و مشاہدات بیان کرتے ہوئے طلبہ اور صحافت میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ صحافت کو پیشے کے طور پر نہ اپنائیں۔ پیغام دیاکہ صحافت سچی ہو،تاکہ وہ جھوٹ پر غالب آسکے۔ شکیل رشید نے دیگر زبانوں کے مقابلے میں اردو اخبارات کی ریڈرشپ میں کمی اسکی وجوہات اور سدباب پر بھی روشنی ڈالی۔عاصم جلال( ڈپٹی اسسٹنٹ ایڈیٹر، روزنامہ انقلاب ) نے طلبہ سے خطاب میں کہا کہ اردو کیلئے میدان کھلا ہے۔ اردو صحافت بھی دیگر زبانوں کے موازنہ میں بہت آگے ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو کی کسمپرسی کا رونا رونے سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے اخبار میں ڈیسک کی اہمیت کو واضح طور پر بیان کیا۔ خبر کی تکنیک کے حوالے سے رہنمائی کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ سے کہا خبر صرف ایک پہلو سے نہ ہو بلکہ نامہ نگار کو خبر میں دونوں پہلوؤں کا خیال رکھنا چاہیے۔نیز نشاندہی کی کہ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں بھی اعتبار پرنٹ میڈیا کو ہی حاصل ہے۔
سینئر صحافی مشتاق کریمی نے سوشل میڈیا پر اردو اخبارات کے پی ڈی ایف کی ترسیل کے حوالے سے کہا کہ اردو اخبارات کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ اخبارات خرید کر پڑھے جائیں۔ ڈاکٹر تنویر احمد نے ذرائع ابلاغ کا مقصد اخبار مثبت خبروں کے ذریعے قارئین کی ذہن سازی اخبار کے ذریعے سماج میں تبدیلی سوشل میڈیا کے مثبت منفی پہلوؤں کا احاطہ کیا ساتھ ہی نوجوانوں سے اور بچوں کو موبائل کے مضر اثرات سے بھی روشناس کیا۔اس صحافتی ورکشاپ میں جلگاؤں، مالیگاؤں اور آس پاس کے شہروں کے صحافیوں نے بھی شرکت کی۔ نظامت اسماعیل شاد نے انجام دی۔
شہر دھولیہ کے مرحوم صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا
اس صحافتی ورکشاپ کے موقع پر دھولیہ کے مرحوم صحافیوں کی خدمات کا بھی اعتراف کیا گیا اور ان کے اہل خانہ کا استقبال کیا کیا گیا۔ ساتھ ہی شہر کے اقلیتی سماج کے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرک میڈیا کے نمائندوں کو سند دے کر اعزاز کیا گیا۔اسی طرح ورک شاپ میں شریک طلبہ کو بھی کو سند دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔