بھرتی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی جانچ اور اصلاحات کی مانگ، دیویندر ناتھ مہتو نے بھوک ہڑتال کے چوتھے دن سونم وانگ چک کی اپیل پر پانی پیا۔
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 12:39 PM IST | Ranchi
بھرتی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی جانچ اور اصلاحات کی مانگ، دیویندر ناتھ مہتو نے بھوک ہڑتال کے چوتھے دن سونم وانگ چک کی اپیل پر پانی پیا۔
جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتی امتحان میں مبینہ پرچہ لیک، او ایم آر شیٹس میں چھیڑ چھاڑ اور منظم بدعنوانی کے خلاف احتجاجبڑے سیاسی اور سماجی تحریک میں تبدیل ہورہا ہے۔ احتجاج کی قیادت ۳۳؍سالہ طالب علم دیویندر ناتھ مہتو کر رہے ہیں جو ۲؍ اگست ۲۶ء سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کی اس اپیل کےبعد کہ کم از کم پانی تو پینا شروع کریں، بدھ کو بھوک ہڑتال کےچوتھے دن انہوں نے پانی پیا جبکہ اس دوران مزید ۶؍ طلبہ بھوک ہڑتال میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس بیچ وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا ہے کہ حکومت معاملے کو پوری سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور شکایات کے ازالے سے متعلق فیصلوں کا اعلان’’مناسب وقت‘‘پر کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں دنیا کی سب سے بڑی جین زی آبادی، جبکہ سیاسی نمائندگی سب سے کم
رانچی میں طلبہ احتجاج کیوں کررہے ہیں؟
ملازمت کے امیدوار اور طلبہ تنظیمیں ۱۴؍ویں جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی)کمبائنڈ سول سروسیز امتحان کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مرکزی مقام رانچی کا جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم ہے۔ ۱۴؍ ویں جے پی ایس سی کمبائنڈ سول سروسیز کا ابتدائی امتحان۱۹؍ اپریل ۲۶ء کو منعقد ہوا تھا، جس میں۳۶؍ ہزار سے زیادہ طلبہ نے شرکت کی۔نتائج۲؍ جولائی کو جاری کئے گئے مگر نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی امیدواروں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ انہوں نے او ایم آر شیٹس میں چھیڑ چھاڑ، کٹ آف نمبروں کی غیر مساوی تقسیم اور سوالیہ پرچے لیک ہونے جیسی منظم بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کئے۔ اس کے خلاف احتجاجی تحریک شروع ہوگئی جس کا نوٹس لیتے ہوئے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی قیادت والی ریاستی حکومت نےسی آئی ڈی جانچ کا حکم دے دیا۔ رانچی، ہزاری باغ اور دھنباد میں چھاپے مارے گئے اور۱۴؍افراد کو گرفتار کیا گیا مگر مظاہرین ریاستی ایجنسی جانچ سے مطمئن نہیں۔ وہ سی بی آئی یا ریاست سے باہر کے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججوں پر مشتمل ایک آزاد پینل سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بی جےپی فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
ریاستی اسمبلی کے مانسون اجلاس سے قبل اس احتجا ج نے ریاست میں اپوزیشن کو موقع فراہم کردیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے کہا ہے کہ مظاہرین کے مطالبات جائز ہیں۔ انہوں نے کہاکہ’’حکومت کو امتحان منسوخ کرکے تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنی چاہیے۔‘‘ اہم بات یہ ہے کہ سی بی آئی مرکزی حکومت میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے ماتحت آتی ہے اس لئے جے ایم ایم سی بی آئی جانچ نہیں چاہے گی۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی اسمبلی کا مانسون اجلاس قبل از وقت ختم
رانچی میں احتجاج کب شروع ہوا
۲۵؍ جولائی کو شروع ہونے والا احتجاج اب دن رات جاری رہنے والی ستیہ گرہ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ دیویندر ناتھ مہتو ۲؍ اگست سے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔ ۵؍مزید امیدوار، جن میں ۲؍خواتین امیدوار سبیتا کماری اور حبیبہ شامل ہیں، منگل کی رات۴؍اگست کو بھوک ہڑتال میں شامل ہوگئیں۔
سونم وانگ چک اورجےپی سی کی حمایت
بدھ کو معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک نے بھوک ہڑتال پربیٹھے ہوئے دیویندر ناتھ مہتوسے فون پر گفتگو کی اور احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔اس کے ساتھ ہی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھی رانچی کے طلبہ اور نوجوانوں کے مطالبوں کی تائید کی ہے۔ انہوں نے احتجاج میں شرکت کیلئے رانچی جانے کا بھی اعلان کیا ہے۔