فرانسیسی سربراہ میکرون کا ہندوستان دورہ اور بین الاقوامی سیاست کے تئیں ٹیپو سلطان کی دور اَندیشی.
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 11:17 AM IST | M Abubakr | Mumbai
فرانسیسی سربراہ میکرون کا ہندوستان دورہ اور بین الاقوامی سیاست کے تئیں ٹیپو سلطان کی دور اَندیشی.
ہندوستان کا دورہ کرنے والے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کا سفر محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک وسیع عالمی سیاسی تناظر کا حصہ ہے۔ آج کی دنیا میں طاقت صرف اسلحے یا فوج سے نہیںبلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، دفاعی تعاون، توانائی، تعلیم اور ثقافتی تعلقات سے متعین ہوتی ہے۔ ہندوستان اور فرانس کے تعلقات اسی نئے عالمی تصور کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ممالک صرف مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مشترکہ اقدار، اسٹریٹجک شراکت اور عالمی استحکام کے نظریے کے تحت ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ میکرون کا ہندوستان آنا اس بات کی علامت ہے کہ فرانس، ایشیا میں ہندوستان کو ایک مرکزی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے، اور ہندوستان فرانس کو یورپ میں ایک مضبوط، خودمختار اور فیصلہ کن اتحادی سمجھتا ہے۔ یہ تعلقات دفاعی معاہدوں، جدید ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، جوہری توانائی، ماحولیاتی تعاون اور عالمی سیاست میں مشترکہ موقف تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ وہ تعلق ہے جو محض معاہدوں کی فائلوں تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک سوچ کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایک دن کے وقفہ سے ۲؍ فیصلے اور ۲؍ الگ الگ موقف!
اگر ہم تاریخ کے صفحات پلٹیں تو یہی فرانس ایک اور ہندوستانی حکمران کیلئے امید، سہارا اور حکمتِ عملی کا مرکز تھا، اور وہ تھے ٹیپو سلطان۔ اٹھارویں صدی کا ہندوستان طاقت کے ایک ایسے کھیل کا میدان تھا جہاں مقامی ریاستیں اور یورپی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا تھیں۔ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سامراجی قوت برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی تھی، جو صرف تجارت نہیں بلکہ سیاسی اقتدار، فوجی غلبے اور پورے برصغیر پر کنٹرول کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ٹیپو سلطان نے بہت جلد یہ سمجھ لیا تھا کہ انگریزوں کا خطرہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور سیاسی غلبے کی شکل اختیار کرنے والا ہے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ان کی دور اندیشی نمایاں ہوتی ہے۔
ٹیپو سلطان نے صرف تلوار اور قلعوں پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی سیاست کو سمجھا۔ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اگر برطانوی طاقت کو روکا جا سکتا ہے تو وہ کسی ایک ریاست کے ذریعے نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن کے ذریعے ممکن ہے۔ فرانس اُس وقت برطانیہ کا سب سے بڑا یورپی حریف تھا۔ یورپ میں دونوں طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا تھیں، اور نوآبادیاتی دنیا میں بھی یہی کشمکش جاری تھی۔ ٹیپو سلطان نے اسی عالمی کشمکش کو اپنی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔ انہوں نے فرانس سے تعلقات استوار کیے، سفارتی روابط قائم کیے، فوجی تعاون حاصل کیا، اور جدیدعسکری تربیت و ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا۔ یہ سب محض جنگی ضرورت نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی وژن کا نتیجہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم پر اپوزیشن کی سرد مہری
یہی وہ مقام ہے جہاں ٹیپو سلطان کی دور اندیشی واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ ایک علاقائی حکمراں نہیں بلکہ عالمی سیاست کو سمجھنے والے بادشاہ تھے۔ انہوں نے یہ جان لیا تھا کہ طاقت کا توازن ہی آزادی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ فرانس سے تعلقات دراصل ایک نظریاتی قدم بھی تھا کیونکہ فرانس برطانوی سامراج کا مخالف تھا اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ٹیپو سلطان کیلئے فرانس صرف ایک فوجی اتحادی نہیں بلکہ ایک سیاسی علامت تھا، جو اس بات کی نمائندگی کرتا تھا کہ دنیا صرف ایک طاقت کے گرد نہیں گھومتی بلکہ مختلف طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل توازن قائم کر سکتی ہیں۔نظام اور مراٹھوں کے ذریعے انگریزوں کی حمایت کے بعد فرانس سے مدد یہ ٹیپو سلطان کی دور بین نگاہ کا غماز ہے۔
آج جب ہم فرانسیسی سربراہ ایمانوئل میکرون کے ہندوستان دورے کو دیکھتے ہیں تو تاریخ ایک نئے انداز میں خود کو دہراتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ آج ہندوستان ایک نوآبادی نہیں بلکہ ایک خودمختار طاقت ہے، اور فرانس ایک سامراجی قوت نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک شراکت دار۔ مگر سوچ کا مرکز وہی ہے، عالمی سیاست میں تنہا نہیں بلکہ شراکت کے ذریعے طاقت حاصل کرنا۔ جس طرح ٹیپو سلطان نے اپنے وقت میں عالمی طاقتوں کے توازن کو سمجھ کر فرانس کا انتخاب کیا، اسی طرح آج ہندوستان عالمی سیاست میں مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات قائم کر کے اپنے مفادات اور خودمختاری کو مضبوط کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی ابھی دور کی بات ہے، اس کیلئے ارباب اقتدار کا مزاج سائنسی ہونا ضروری ہے
یہ فرق ضرور ہے کہ ٹیپو سلطان کا دور ایک مزاحمتی دور تھا اور آج کا بھارت ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے، مگر دونوں میں ایک قدر مشترک ہے: سیاسی شعور اور دور اندیشی۔ ٹیپو سلطان نے آنے والے خطرات کو وقت سے پہلے پہچان لیا تھا، اور میکرون کا بھارت آنا اس بات کی علامت ہے کہ آج کی عالمی سیاست بھی مستقبل کے خطرات اور امکانات کو سامنے رکھ کر فیصلے کر رہی ہے۔ یہ مضمون دراصل ماضی اور حال کے درمیان ایک فکری پل ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ قوموں کی زندگی میں اصل اہمیت طاقت سے زیادہ سوچ، حکمتِ عملی اور وژن کی ہوتی ہے۔ٹیپو سلطان کی فرانس سے مدد کی دور اندیشی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تاریخ صرف جنگوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ذہنی فیصلوں اور فکری سمتوں کا سفر بھی ہے۔ اور ایمانوئل میکرون کا بھارت دورہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ آج کی دنیا میں بھی وہی قومیں مضبوط ہوتی ہیں جو عالمی سیاست کو صرف طاقت کے نہیں بلکہ حکمت اور شراکت کے زاویے سے دیکھتی ہیں۔ یوں ماضی کا ٹیپو سلطان اور حال کا عالمی سفارتی منظرنامہ ایک ہی فکری دھارے میں جڑ جاتے ہیں جو ہے دور اندیشی، عالمی شعور، اور مستقبل کو سمجھنے کی صلاحیت۔