قومی راجدھانی میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں بااثر عالمی شخصیات نے شرکت کی اورہندوستان کی زمین کواے آئی کیلئےزرخیز قراردیا لیکن کیا غریبوںاور بے روزگاروںکی اکثریت والے ملک میںاےآئی کا فروغ اتناآسان ہے؟
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 11:00 AM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
قومی راجدھانی میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں بااثر عالمی شخصیات نے شرکت کی اورہندوستان کی زمین کواے آئی کیلئےزرخیز قراردیا لیکن کیا غریبوںاور بے روزگاروںکی اکثریت والے ملک میںاےآئی کا فروغ اتناآسان ہے؟
جدید ہندوستان کی تاریخ میں ایسا ہفتہ کبھی نہیںآیا ہوگا جب بل گیٹس، انتونیو غوطریس ،سیم آلٹ مین ،ایمانوئل میکروں،سندر پچائی،ڈیریو اموڈی جیسی دنیا کی مشہور و معروف سیاسی ، سماجی اور ٹیکنالوجی کی دنیا کی بااثرشخصیات بہ یک وقت یہاں موجود ہوں۔ نئی دہلی کے بھارت منڈپم میںمنعقدہ ۵؍ روزہ (۱۶؍ تا۲۰؍فروری) اے آئی امپیکٹ سمٹ میںان شخصیات نے شرکت کی اورملک میں مصنوعی ذہانت کی موجودہ صورتحال، مستقبل ،امکانات، مواقع اور مفادات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ یہ ملک میں منعقدہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا اب تک کاپہلا، سب سے بڑا اور تاریخی اجلاس رہا۔ یہ شخصیات چونکہ ہندوستان کی مہمان تھیں اور ملک میںایسے پہلے اجلاس میں شریک تھیں، اسلئےانہوں نے یہاںاے آئی کےبھرپورمثبت امکانات پر ہی روشنی ڈالی اوریہ ثابت کرنے کی کوشش کی مصنوعی ذہانت کیلئے ہندوستان کی زمین بڑی زرخیز ہے اور یہاں وہ سارے وسائل موجود ہیںجو اے آئی کے فروغ میں معاون ثابت ہوسکتے ہیںاوراسے ہرفرد تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس سمٹ میں اعتراف کیاگیاکہ ہندوستان میںوہ صلاحیتیں موجود ہیں جن کے ذریعے ہندوستان اے آئی کا ہب بن سکتا ہے۔ اسی مقصدکےتحت ملک میں آئندہ ۲؍ سال کے دوران اے آئی میں۲۰۰؍ملین ڈالرکی سرمایہ کاری کا ہدف بھی مقرر کیاگیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دیپک کمار کیلئے کھڑے ہونا اب ہم سب کی ذمہ داری ہے
یہ حقیقت ہےکہ مصنو عی ذہانت ٹیکنالوجی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہےجس کا دنیا پرغلبہ ہوتا جارہا ہےاوریہ جدید زمانے کی ضرورت بھی بنتی جارہی ہے۔ وزیر اعظم مودی اور ان کی حکومت نے ان برسوں میں ہندوستان کو دنیا کے نقشے پر کم وبیش ہر انسانی شعبے کے قائد کے طورپر پیش کیا ہے اوریہ اے آئی سمٹ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ ہندوستا ن معیشت میں۵؍ ٹریلین ڈالرتک پہنچنا چاہتا ہے، یوگاکوعالمی سطح پر متعارف کیا گیا ہے ، بیرون ملک مقیم ہندوستانیوںکو ہندوستا ن کاسفیرقراردیا گیا ہےا ور ایسی بہت سی باتیں ہیںجن کے ذریعے مختصر اًیہ ظاہرکیاجارہا ہےکہ ہندوستان ’وشوگرو‘ ہے، دنیا کا لیڈر ہے،قائد ہےاور اب ا ے آئی کا بھی مرکز بننے کی راہ پر ہے۔ گویا ہندوستان میں سب کچھ ہےنیز انسانیت اوردنیا کی خیر وبھلائی کے جو کچھ بھی اسباب ہیں،ہندوستان ان میں رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ اہداف مقرر کرنے میںکوئی قباحت نہیںہے۔ اہداف مقرر کرنے سےہی کام کی سمت طے ہوتی ہےاوراس کے مثبت نتائج جلد یا بدیر سامنے آتے ہیںلیکن کبھی بھی دوسرا پہلو نظر انداز نہیںکیاجاسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: جس کی لاٹھی اس کی بھینس !کیا آج ہی کیلئے یہ کہاوت بنائی گئی تھی؟
یعنی یہ نظر انداز نہیںکیا جاسکتا کہ ہندوستان میںآج بھی اکثریت غریب عوام کی ہے۔ اعدادوشمارکا کھیل بہت مختلف ہوتا ہے۔ اشاریے تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور گراف اوپرنیچے ہوتا رہتا ہےلیکن بنیادی حقیقت نہیں بدلتی۔ غربت ہندوستان کی حقیقت ہےاور ایسی حقیقت ہےکہ عوام کی بڑی تعداد کو مفت کی سرکاری اسکیموں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ حکومت یہ بتاتے ہوئے شرمندہ نہیںہوتی ہےکہ کسی سرکاری اسکیم سے کروڑوں غریبوںکو مفت اناج فراہم کیاجارہا ہے۔ یہاںہدف کروڑوں غریبوںکو غربت سے اوپر اٹھانا نہیںہوتابلکہ مفت میںاناج دے کرانہیں اپنا ووٹر بنانا ہوتا ہے۔ ایسے میںگلوبل ساؤتھ کی پہلی اورسب سے بڑی اے آئی سمٹ تو کیا ،شہر شہر اے آئی کا بازار لگا دیاجائے تب بھی حالات نہیںبدلیں گے۔ غربت میںسب سے بنیادی ضرورت اناج ہوگی ،اے آئی نہیں۔ بے روزگاروں کیلئے سب سے بنیادی ضرورت نوکری ہوگی ، اے آئی سےملازمت پر کیا اور کیسا فرق پڑے گا ، یہ بعد کی بات ہے۔ یہ بھی یاد رہےکہ جب ہم گلوبل ساؤتھ کی بات کرتے ہیں توایسے ممالک کاگروپ ہمارے سامنے ہوتا ہےجو افریقہ ، لاطینی امریکہ ، ایشیا اور اوشیانیاخطے کے ترقی پزیر، غیر ترقی یافتہ اورکم آمدنی والے ممالک پر مشتمل ہے۔ اس سے مراد یہ ہےکہ اگر گلوبل ساؤتھ میں ہندوستان کی قیادت کی بات کی جارہی ہے،چاہے وہ اے آئی کے جدید شعبے میں ہی کیوں نہ ہو،تویہ قیادت پسماندہ ممالک پرایک نسبتاًترقی پزیر ملک کی قیادت ہوگی۔ اس میں مثبت پہلو ضرورہےلیکن اتنا بھی نہیںکہ اس قائد کو اے آئی جیسی ٹیکنالوجی کا مرکز بناکر پیش کیاجائے۔
یہ بھی پڑھئے: کارپوریشن انتخابات: اتنا غیر واضح اور گنجلک منظر نامہ کبھی رہا؟
ہندوستان وہ ملک ہے جہاں کی حکومت سیاسی دباؤ یا اکثریتی مزاج دیکھتے ہوئےگئوموترکے ا جزاء اوراس کی طبی افادیت پرتحقیق کیلئےبھی فنڈ قائم کرسکتی ہے، ایسے میںاے آئی ابھی بہت دور کی بات ہے۔ اےآئی میں ریسرچ کیلئے ایک محدود طبقےکا ہی نہیںبلکہ حکومت اور ارباب اقتدار کا سائنسی ذہن اورمزاج کا حامل ہونا ضروری ہے۔
یہ انتہائی حوصلہ ا فزا ہےکہ نئی دہلی میںمنعقدہ تاریخی اے آئی سمٹ میں۸؍ سالہ رنویر سچدیوکو کلیدی خطاب کرنے کا موقع دیاگیا۔ اس تعلق سے اس نے بتایا کہ قدیم ہندوستانی فلسفے کو وہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی سےمربوط کر رہا ہے اوراس کا یہ کام کس طرح ہندوستان کی شرح نمو (جی ڈی پی) میںمعاون ثابت ہورہا ہے۔ اس کےعلاوہ اسی سمٹ کےحاشیہ پرکیرالاسے تعلق رکھنے والے۱۶؍ سالہ رال جان اجو سے اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل انتونیو غوطریس نے ملاقات کی۔ اس بچے نے بھی سمٹ سےخطاب کیا جسے’ اے آئی کڈ آف انڈیا‘ کے طورپر جانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایوان میں وندے ماترم پر۱۰؍ گھنٹے بحث،دیانتدارانہ جائزہ لیا جائے کہ حاصل کیا ہوا؟
یہ نسل نوہےجومصنوعی ذہانت کےساتھ پروان چڑھ رہی ہے۔ یہ نسل مصنوعی ذہانت کا نہ صرف استعمال کرسکتی ہے بلکہ یہ اس سے پوری طرح آشنا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی آج ملک کا ہر وہ بچہ جانتا ہےجوپرائمری یا سیکنڈری سطح پر زیرتعلیم ہے۔ یہاںمسئلہ ملک کی اس نسل کے لوگوں کا ہے جو اب تک روزگار سے محروم ہے۔ ایک نسل ہے جو بر سر روزگار تو ہے لیکن اے آئی سے خوفزدہ ہےکہ اس کی ترقی اس کے روزگار کو متاثر کرسکتی ہے۔ کوروناکے دور میںملک میں میڈیکل کے شعبے میںکچھ۲۰؍ لاکھ کروڑ کے فنڈ کا اعلان کیاگیاتھا۔ اب ۵-۶؍ سال بعد اس کا فنڈ کا کیا ہوا ،کچھ پتہ نہیں،اس پر کچھ بات بھی نہیںہوتی،کوئی یاد دہانی بھی نہیں کی جاتی۔ اسی طرح اے آئی کیلئے مختلف سطحوں پر سرمایہ کاری کے منصوبے ہیںلیکن حقیقت یہی ہےکہ بس ان کا اعلان کردیاگیا ہے،ملک کی زمینی حقیقت اس کیلئے سازگار ہے یا نہیں،اس کی کوئی پروانہیں ہے۔ ملک میں کئی گاؤں دیہات ایسے ہیںجہاںموبائل کا نیٹ ورک نہیںہے، بجلی نہیںہے،ایسے میںہر فرد تک اے آئی کوپہنچانے کا کام کتنا مشکل ہے ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کئی گاؤں میں سڑکیںنہیںہیں،بچےدریا پارکر کے اسکول جاتے ہیں، انہیں آخر اےآئی سے متعارف کربھی دیاگیا تو فائدہ کیا ؟