گزشتہ دنوں دہلی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے متعلق منعقدہ ایک پروگرام میں آر ایس ایس سے وابستہ مقررین نے نہایت چالاکی سےمسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے حالیہ برسوں کے واقعات اور حادثات کو معمولی اور غیر اہم ثابت کرنے کی کوشش کی جن میں اقلیتوں کو جان و مال کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران فرقہ ورانہ منافرت جس ہیبت ناک روپ میں ظاہر ہوئی، اس کے پیش نظر وطن عزیز میں اتحاد و محبت کی سازگار فضا تشکیل دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندو اور مسلمان دانشوروں نے گزشتہ دنوں دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ایک پروگرام منعقد کیا تھا۔اس پروگرام میں آر ایس ایس سے وابستہ رام لعل، کرشن گوپال اور اندریش کمار جبکہ نجیب جنگ، ایس وائی قریشی اور ضمیر الدین شاہ نے مسلمانوں کی نمائندگی کی اور باہمی گفت و شنید کے ذریعہ ایسی فضا تعمیر کرنے کی پہل کی جس میں محبت، ہمدردی، رواداری اور اخلاص جیسے انسانی اوصاف کو پھلنے پھولنے کا موقع میسر آئے۔ اس پروگرام میں مسلمان مقررین وہی حقائق بیان کئے جو گزشتہ دس بارہ برسوں سے وطن عزیز کے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا مقدر بن گئے ہیں۔اس کے برعکس آر ایس ایس سے وابستہ مقررین نے بڑی چالاکی سے ان واقعات اور حادثات کو معمولی اور غیر اہم ثابت کرنے کی کوشش کی جن میں اقلیتوں کو جان و مال کا نقصان اٹھانا پڑا۔فرقہ ورانہ منافرت کو بڑھاوا دینے والے عناصر نے ملک گیر سطح پر اقلیتوں کے خلاف ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس کی وجہ سے ان کی سماجی، تعلیمی اور معاشی زندگی پر عدم تحفظ کا ایک مہیب سایہ ہمہ وقت گردش کرتا رہتا ہے لیکن آر ایس ایس حسب عادت اس صورتحال کو معمولی قرار دے کرقومی اتحاد کی ان کاوشوں کو غیر ضروری ثابت کرنا چاہتا ہے جن کے ذریعہ ملک میں امن و آشتی کی سازگار فضا تعمیر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شرپسندوں کے آگے جھکنے سے ملک کمزور ہو رہا ہے
اس پروگرام میں آرایس ایس کے رام لعل نے ایک عجیب سی منطق یہ پیش کی کہ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے اس وسیع ملک میں اگر دوچار جگہوں پر ایسے حادثات ہو بھی جائیں تو انھیں قومی اہمیت کا حامل نہیں قرار دینا چاہئے۔ یہ منطق ایک طرف تو سنگھ کے اس ایجنڈے کو منعکس کرتی ہے جو وطن عزیز میں غیر ہندوؤں کے وجود کو قطعی برداشت نہ کرنے کی حمایت کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ اس غیر منطقی جواز کے ذریعہ اقتدار کے اس رویے کا دفاع بھی مقصود ہے جو اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد کے معاملات پر سازشی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ایک طرف بھگوا عناصر کے یہ پینترے ہیں اور دوسری طرف وہ حقائق جو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر ملک میں فرقہ ورانہ منافرت اور تشدد کی یہ گرم بازاری یوں ہی جاری رہی تو سماجی امن و آشتی کا مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سنگدل حکمراں، بے فکر افسران اور بے حس عوام، نتیجہ دلدوز سانحہ
اس ضمن میں گزشتہ دنوں ایک معتبر عالمی ادارے کی سروے رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں نفرت انگیز تقاریر کے معاملات میں خاصا اضافہ ہوا ہے جو یقینا ملک کے سماجی ڈھانچہ کو کمزور بناتا ہے۔ ۲۰۲۵ء میںسیاسی ریلیوں، مذہبی جلوسوں، احتجاجی مظاہروں اور قومی ریلیوں میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے ۱۳۱۸؍ معاملات سامنے آئے۔ یہ تعداد ۲۰۲۴ء سے ۱۳؍فیصد جبکہ ۲۰۲۳ء سے ۹۷؍ فیصد زیادہ ہے۔ان تقاریر میں ایک ہزار سے زیادہ تقاریر میں مسلمانوں کو اور ڈیڑھ سو سے زیادہ تقاریر میں عیسائیوں کو ہدف بنایا گیا۔ اس سروے میں جن۲۳؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوںکو شامل کیا گیا تھا ان میں یوپی، مہاراشٹر، ایم پی، دہلی اور اتراکھنڈ جیسے بی جےپی حکومت والے علاقوں میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے سب سے زیادہ معاملات درج کئے گئے۔ ان ۱۳۱۸؍ تقاریر میں تین سو سے زیادہ تقریروں میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کا پیغام اور ۱۳۶؍ تقریروں میں ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی دعوت دی گئی ۔ اس طرز کی نفرت انگیز تقریر کے ذریعہ امن و آشتی کی فضا کو مخدوش بنانے کے عمل میں وہ تمام بھگوا عناصر شامل ہیں جو ہندوتوا کے نام پر اپنی سیاسی اور مذہبی دکان چلا رہے ہیں۔اس کے علاوہ ڈھائی سو سے زیادہ تقریروں میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو مسمار کردینے کی ترغیب دی گئی۔ ان تقاریر کو موثر بنانے کیلئے لوجہاد، لینڈ جہاد، تھوک جہاد، ایجوکیشن جہاد، پاپولیشن جہاد، ڈرگ جہاد اور ووٹ جہاد جیسے ان مفروضات کو باربار دہرایا گیا جن کی تشہیر گودی میڈیا اور اقتدار کی جی حضوری کرنے والے نام نہاد صحافی گزشتہ دس برسوں سے کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: خدا کرے کہ یہ نیا سال ہم سب کو راس آئے
وطن عزیز میں فرقہ ورانہ منافرت کے تناظر میں یہ حالیہ سروے یہ واضح کرتا ہے کہ اگراقتدار نفرت کی تحریک اور ترغیب دینے والے عناصرکو یوں ہی نظر انداز کرتا رہا تو حالات مزید بدتر ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ دس بارہ برسوں کے دوران اس نوعیت کے کئی سروے ہو چکے ہیں جن میں بارہا یہ کہا گیا کہ قومی اتحاد اور اخوت کے حوالے سے عالمی شناخت رکھنے والے اس ملک میں نفرت اور تشدد کا جو کاروبار جاری ہے وہ اس کی عالمی امیج اورسماجی سالمیت دونوں کیلئے خطرہ ہے۔ ایک طرف یہ حقائق ہیں اور دوسری طرف وہ نام نہاد بھگوا دانشور جو ایسے معاملات کو معمولی قرار دیتے ہیں۔ ان نام نہاد یرقانی دانشوروں کا یہ رویہ ان کی فطرت کے عین مطابق ہے جو ہندوستان پر صرف اپنی اجارہ داری سمجھتے ہیں۔بین المذہب گفت و شنید پر مبنی تقاریب میں سنگھی عناصر صرف اس لئے شرکت کرتے ہیں تاکہ یہ تاثر پیدا ہو کہ وہ بھی اتحاد و اخوت کے حامی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد کے معاملات کو معمولی قرار دے کر اسی سنگھی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جارہا ہے جو غیر ہندوؤں کی ذلت، خواری اور پسپائی کو سر فہرست رکھتا ہے۔