Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: یورپ کی تنقیدی نظر میں

Updated: April 12, 2026, 8:28 PM IST | Muhammad Haroon Sajjad Madani | Mumbai

اگرچہ یورپی جمہوریت کسانوں اور جاگیرداری نظام کے درمیان کشمکش اور اشرافیہ و بورژوائیت کی باہمی ٹکراؤ کے زیرِ اثر پروان چڑھی، اس کے برعکس امریکی جمہوریت سماجی انصاف سے ایک حد تک دور رہی۔

America is not only a threat to the Middle East, but now Europe is also starting to see it as a rival. Photo: INN
امریکہ سے صرف مشرق وسطیٰ کوخطرہ نہیں ہے بلکہ اب یورپ بھی اسے ایک حریف کی طرح دیکھنے لگا ہے۔ تصویر: آئی این این

یورپی سیاسی و ثقافتی حلقوں کے ایک بڑے طبقے کے نزدیک اور یورپ کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ان امریکی دانشوروں کے ہاں بھی، امریکہ کے معاملات اکثر ناقابلِ فہم، ناقابلِ قبول اور بڑی حد تک غیر معقول دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں امریکی سیاسی رویوں کے اندر ایک ایسی شدت اور تصادم آمیز کیفیت پوشیدہ ہے جس کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا تھا کہ جدید دنیا میں وہ ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔ اس تنقیدی تاثر کی جڑیں محض موجودہ سیاسی اختلافات میں نہیں بلکہ امریکہ کی اس تاریخی تشکیل میں پیوست ہیں جس نے اس کے سیاسی مزاج اور فکری سمت کو ایک خاص انداز میں ڈھالا۔ دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ان سب کے پسِ پشت یورپ کے معیار کے مقابلے میں ایک ’غیر معمولی‘ تاریخی پس منظر کارفرما ہے، ایک ایسا پس منظر جو بنیادی اور تاسیسی درجے کی حیثیت رکھتا ہے، اگرچہ بعد میں اس میں بہت سے ایسے مراحل شامل ہوئے جنہوں نے اسے کبھی بہتر اور کبھی بدتر سمت میں رخ دیا۔ چناں چہ امریکہ میں سفید فام آبادکاروں نے ریاست کے وجود میں آنے سے پہلے ہی ہتھیار اٹھائے اور مقامی باشندوں کے خلاف بے شمار خوں ریز جنگیں لڑیں۔ اس طرح اسلحہ برداری ریاست سے پہلے وجود میں آئی اور یہ اُس وقت کی بات ہے جب ۱۹؍ صدی کے اواخر میں خانہ جنگی کے ابتدائی مراحل کے دوران ملیشیاؤں کا کردار ابھی نمایاں نہیں ہوا تھا۔ 
یوں ریاست کے اصول، نظم و ضبط اور تنظیم کے بارے میں ایک طرح کا عدمِ اعتماد پیدا ہوا اور آزادی، نوآبادیاتی پھیلاؤ اور فردی اقدام کی لا محدودیت کے درمیان ایک وسیع تعلق قائم ہو گیا۔ اپنے کردار میں بانیانِ ریاست نے انگریز فلسفی جان لاک کی فکر کے بارے میں ایک انتخابی طرزِ عمل اختیار کیا، حالاں کہ وہ پہلے ہی سے اس سے متاثر تھے۔ لاک نے اس انداز میں اسلحہ رکھنے کے کسی آئینی حق کی بات نہیں کی تھی جس طرح امریکی دستور کی دوسری آئینی ترمیم میں اس کی توثیق کی گئی۔ ان کے نزدیک انسان حالتِ فطرت میں پیدا ہوتے ہیں اور انہیں زندگی، آزادی اور ملکیت کے فطری حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ چناں چہ جب کوئی مشترکہ مقتدر اتھارٹی موجود نہ ہو تو ضرورت کے وقت اپنے دفاع میں، ظلم اور تشدد کے خلاف ہتھیار استعمال کرنا جائز ہو جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: طاقت کے زعم میں مبتلا حکمرانوں کو عوامی مسائل کی پروا نہیں

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب حکومت فطری حقوق پامال کرے اور عوام کے خلاف جنگ چھیڑ دے تو اسلحہ اٹھانا اور مزاحمت کرنا جائز قرار پاتا ہے مگر ان کے نزدیک اسلحہ اٹھانا فرد کا نہیں بلکہ اجتماعی فیصلہ تھا، جو صرف جبر و استبداد کے خلاف مزاحمت تک محدود رہتا ہے۔ جیسے ہی کوئی سیاسی معاشرہ قائم ہو جائے، فرد کے اسلحہ رکھنے، جنگ چھیڑنے اور سزا دینے کے ذاتی حق سے دستبردار ہونا لازم ہو جاتا ہے لیکن امریکی آئین کی دوسری ترمیم نے لاک کی ان احتیاطی توضیحات کو بڑی حد تک نظر انداز کر دیا۔ اس کے پیچھے ملیشیائی روایت، مرکزی حکومت اور اس کی مداخلت پر کمزور اعتماد اور سرحدی زندگی (فرنٹیئر لائف) کا اثر کارفرما تھا، جہاں ’تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف؟‘ بنیادی سوال بن جاتا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اُس جاگیردارانہ نظام کا تجربہ نہیں کیا جو یورپ میں صدیوں تک موجود رہا اور جس نے وہاں کی سماجی و سیاسی تشکیل کو گہرائی سے متاثر کیا۔ اس عدمِ موجودگی نے امریکی تاریخ کو ایک مختلف سمت دی۔ یوں وہاں ایک ابتدائی سیاسی مساوات وجود میں آئی جو صرف سفید فاموں تک محدود تھی کیونکہ موروثی مراعات رکھنے والی کوئی اشرافیہ موجود نہیں تھی۔ اسی امر نے جمہوری خیال کے فروغ اور کم از کم آبادکاروں کے درمیان وسیع سیاسی شرکت کو تقویت دی۔ ان میں سے اکثر نے۱۹؍ صدی کے آغاز ہی میں حقِ رائے دہی حاصل کر لیا جو اس زمانے میں یورپ میں کم ہی دیکھنے کو ملتا تھا اور اس طرح جمہوریت گویا ایک’فطری‘ شے معلوم ہونے لگی۔ 
اگرچہ یورپی جمہوریت کسانوں اور جاگیرداری نظام کے درمیان کشمکش اور اشرافیہ و بورژوائیت کی باہمی ٹکراؤ کے زیرِ اثر پروان چڑھی، اس کے برعکس امریکی جمہوریت سماجی انصاف سے ایک حد تک دور رہی۔ چنانچہ اُس زمانے میں یہ ایک معمول کی بات تھی کہ جان ایڈمس کے سوا تقریباً تمام ’بانیانِ ریاست‘ غلاموں کے مالک تھے اور تھامس جیفرسن جو جمہوریت اور بہت سی دیگر اخلاقی خوبیوں کے بارے میں سب سے زیادہ فصیح سمجھے جاتے تھے، سیکڑوں غلاموں کے مالک تھے۔ یہ سب کچھ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ابتدائی سیاسی تشکیل کا ایک نمایاں تضاد بن کر سامنے آتا ہے۔ 
جاگیرداری کے اسی فقدان نے امریکی انقلاب کو فرانسیسی انقلاب کے مقابلے میں زیادہ محافظہ کار بنا دیا، کیونکہ فرانس میں انقلاب کا ٹکراؤ جاگیرداری نظام اور کلیسا دونوں سے ہوا تھا۔ چناں چہ جہاں بعد ازاں فرانسیسی انقلاب کا تجربہ دولت کی ازسرِ نو تقسیم اور سماجی انصاف کے سوالات میں الجھا رہا، وہاں امریکی انقلاب کی توجہ ملکیت کے دفاع پر مرکوز رہی۔ ناانصافی، خصوصاً نسلی ناانصافی، کے باوجود غالب انصاف سیاسی فکر میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہ کر سکا۔ 
چونکہ تجارتی معاہدوں، منڈیوں اور سماجی روابط جیسے گرجا گھروں، انجمنوں اور کلبوں نے، جن کی تعریف فرانسیسی مفکر Alexis de Tocqueville نے بڑے جوش سے کی تھی، معاشرے کی تشکیل اور ارتقا کو سمت دی، اس لیے فردی حقوق اجتماعی حقوق پر غالب آ گئے۔ نتیجتاً امریکی لبرل ازم میں ریاست کے بارے میں شکوک اور فلاحی روایات کی مخالفت مزید مضبوط ہو گئی۔ اسی طرح قانون، جو ریاست کی توسیع ہی کی ایک شکل تھا، فردی اقدام پر اُس طرح کی پابندی نہ بن سکا جیسا کہ یورپی معاشروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ خانہ جنگی کے بعد اس کا تسلسل اس صورت میں سامنے آیا کہ نسلی درجہ بندی نے جاگیردارانہ درجہ بندی کی جگہ لے لی۔ دوسرے لفظوں میں سماجی کشمکش میں نسلی عنصر طبقاتی عنصر پر غالب آ گیا۔ چناں چہ سماجی مسئلہ کسانوں اور جاگیرداروں کے درمیان تصادم کا نہیں رہا بلکہ غلام بنائے گئے افریقیوں اور مقامی باشندوں کا سفید فاموں کے مقابل کھڑا ہونے کا مسئلہ بن گیا۔ اسی تاریخی تناظر نے امریکی سیاسی ذہنیت کو ایک ایسے رخ پر ڈھالا جس میں فردی خودمختاری، طاقت کے استعمال کی آمادگی اور عالمی سطح پر قیادت کا احساس نمایاں رہا۔ 

یہ بھی پڑھئے: راگھو چڈھا نے’’ فارمولہ‘‘ تو سمجھ لیا لیکن ’’ مساوات‘‘ پر مات کھا گئے

یہی وہ پس منظر ہے جس کی بازگشت آج کے عالمی سیاسی مباحث میں بھی سنائی دیتی ہے۔ خصوصاً حالیہ برسوں میں جب امریکی صدرکی پالیسیوں نے ’امریکہ فرسٹ‘ کے تصور کو مرکزیت دی تو یورپ کے فکری اور سیاسی حلقوں میں امریکہ کے بارے میں تنقیدی گفتگو ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔ یورپی مبصرین کے نزدیک ٹرمپ کی خارجہ پالیسی دراصل اسی امریکی تاریخی رجحان کی نئی صورت ہے جس میں قومی مفاد کو عالمی ذمہ داریوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ شمالی اوقیانوس کے دفاعی اتحاد نیٹو کے بارے میں ان کے سخت بیانات، یورپی ممالک سے دفاعی اخراجات بڑھانے کے مطالبات اور تجارتی معاملات میں سخت رویے نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں ایک نئی بے چینی پیدا کی۔ یورپی دانشوروں کے ایک بڑے حلقے کے نزدیک یہ رویہ اس روایتی شراکت داری سے مختلف ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ اور یورپ کے درمیان قائم ہوئی تھی۔ اسی طرح عالمی تجارتی نظام، ماحولیاتی معاہدوں اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے بارے میں امریکی فیصلوں نے یورپ میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ یورپین یونین کے کئی رہنماؤں نے یہ موقف اختیار کیا کہ امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں سے عالمی نظم و نسق کے وہ ادارے کمزور ہوتے ہیں جنہیں یورپ بین الاقوامی استحکام کیلئے ناگزیر سمجھتا ہے۔ 
بعض یورپی مفکرین کے نزدیک ٹرمپ کی پالیسیوں نے دراصل اس بنیادی سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا امریکہ اب بھی عالمی قیادت کو اسی طرح سمجھتا ہے جس طرح سرد جنگ کے بعد کے دور میں سمجھا جاتا تھا، یا اب وہ زیادہ واضح طور پر ایک قومی ریاست کے مفادات کو ترجیح دینے والی طاقت بن چکا ہے۔ اس بحث نے یورپی سیاسی فکر میں امریکہ کے کردار کے بارے میں ایک نئی تنقیدی بصیرت پیدا کی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے بارے میں یورپ کی موجودہ تنقیدی نظر محض وقتی سیاسی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ اس طویل تاریخی پس منظر سے جڑی ہوئی ہے جس نے امریکی معاشرے کو تشکیل دیا۔ فردی آزادی، طاقت کے استعمال کی آمادگی، معاشی کامیابی کی جستجو اور ریاستی مداخلت کے بارے میں شکوک، یہ سب عناصر مل کر ایک ایسا سیاسی مزاج پیدا کرتے ہیں جو یورپی تجربے سے کئی پہلوؤں میں مختلف ہے۔ 
اسی لیے آج یورپی مباحث میں امریکہ کو صرف ایک اتحادی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جس کی پالیسیوں کو مسلسل تنقیدی نظر سے پرکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں یہ تنقیدی مکالمہ دراصل مغربی دنیا کے اندر ہی ایک نئے فکری توازن کی تلاش کی علامت ہے، جہاں طاقت، اصول اور عالمی ذمہ داریوں کے درمیان ایک نئے ربط کی جستجو جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK