ہندوستانی ثقافت کیا ہے؟ کیا یہ خالص ہندو ثقافت ہے یا بہت سی ثقافتوں کا امتزاج؟ ایسے کئی سوالات اِن دنوں اٹھ رہے ہیں۔ ہندوتواوادی اور ہندو راشٹر کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ہندوستانی ثقافت دراصل ہندو ثقافت ہے۔
EPAPER
Updated: February 15, 2026, 11:03 AM IST | Ram Puniyani | Mumbai
ہندوستانی ثقافت کیا ہے؟ کیا یہ خالص ہندو ثقافت ہے یا بہت سی ثقافتوں کا امتزاج؟ ایسے کئی سوالات اِن دنوں اٹھ رہے ہیں۔ ہندوتواوادی اور ہندو راشٹر کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ہندوستانی ثقافت دراصل ہندو ثقافت ہے۔
ہندوستانی ثقافت کیا ہے؟ کیا یہ خالص ہندو ثقافت ہے یا بہت سی ثقافتوں کا امتزاج؟ ایسے کئی سوالات اِن دنوں اٹھ رہے ہیں۔ ہندوتواوادی اور ہندو راشٹر کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ہندوستانی ثقافت دراصل ہندو ثقافت ہے۔ اس ثقافت پر مسلمان حملہ آوروں نے شدید حملہ کیا، لیکن اس نے ان حملوں کی بھرپور مزاحمت کی۔ یہ سچ ہے کہ جن لوگوں نے ہندو مت چھوڑ کر اسلام قبول کیا، ان میں سے کچھ اپنے ہندو ماضی سے مکمل طور پر الگ نہیں ہو سکے۔ حال ہی میں کولکاتا میں منعقدہ ایک مباحثہ جس کا موضوع تھا ’ہندو دھرم کو ہندوتوا وادیوں سے بچانے کی ضرورت ہے‘ میں یہ مسئلہ ایک بار پھر سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھئے: گاؤں میں آج بھی ایسے کئی گھر ہیں جہاں ’اُپلوں‘ کی مدد سے کھانے پکتے ہیں
ہندوتواوای کے نظریہ سازوں نے طویل عرصے سے یہ دلیل دی ہے کہ ہندوستانی ثقافت اور ہندو ثقافت ایک ہی ہیں۔ انہی میں سے ایک، جے سائی دیپک ہیں جنہوں نے کولکاتا کی بحث میں حصہ لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’گنگا جمنی ثقافت کہلانے والی یہ عجیب و غریب مخلوق ملک کی آزادی کے بعد جواہر لال نہرو اور ان کے ذریعہ جمع کئے گئے مارکس وادی،نہرووادی مورخین کے ذریعے تاریخ کو مسخ کرنے اور توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا نتیجہ ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ اس سوچ کا۱۹۱۶ء سے ۱۹۲۳ء کے درمیان فروغ ہوا۔
گنگا جمنی ثقافت کیا ہے؟ موٹے طور پر دیکھا جائے تو اس سے مراد وہ مخلوط ثقافت ہے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تقریباً ایک ہزار برسوں تک ایک ساتھ رہنے کے بعد پروان چڑھی۔ ساتویں صدی میں ہندوستان میں اسلام کی آمد کے ساتھ ہی ہندو اور مسلمان ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے لگے۔ یہ مخلوط ثقافت قرون وسطیٰ کے دور میں پروان چڑھی۔ سلطنت اور مغل بادشاہوں کا مقصد مقامی ثقافتوں کو تباہ کرنا نہیں تھا بلکہ طاقت اور دولت حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے ہندوستان کے ایک وسیع علاقے پر حکومت کی اور ان کے دور حکومت میں ہم آہنگی کی روایات پروان چڑھیں جن میں سے اکثر ہمارے ملک کے بہت سے حصوں میں اب بھی برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اُردو قومی تہذیب کا خوبصورت اظہار ہے: پروفیسر ناگاارجن واڈیکر
اس مخلوط ثقافت کی ابتدا مسلم بادشاہوں کے دور میں ہوئی، خاص طور پر شمالی ہندوستان میں دریائے گنگا اور جمنا کے آس پاس کے علاقوں میں۔ اسی وجہ سے اس کا یہ نام پڑا۔ تحریک آزادی کے دوران کئی رہنماؤں نے اس نام کااستعمال کیا لیکن، وہ مسلم اور ہندو قوم پرست، جنہوں نے تحریک آزادی کے بارے میں غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کررکھاتھا، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فروغ پانے والی اس ہم آہنگی کو پسند نہیں کیا۔اس کے باوجود ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان یہ ہم آہنگی قرون وسطیٰ کے ہندوستان میں سماجی زندگی کے تمام شعبوں میں پروان چڑھی اور آج بھی کئی جگہوں پر جاری ہے، حالانکہ یہ واضح طور پر نظر نہیں آتا ہے۔
اسکالر بی این پانڈے نے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ اس کا خلاصہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ’’اسلام اور ہندو ازم جو شروع میں متضاد معلوم ہوتے تھے،بالآخرآپس میں گھل مل گئے۔ دونوں ایک دوسرے میں گہرے طور پر پیوست ہو گئے، اور ان کے ملن سے محبت اور عقیدت کے نئے مذاہب ’بھکتی‘ اور’تصوف‘ وجود میں آئےجو الگ الگ مذاہب کے لاکھوں لوگوں کے دل و دماغ میں بس گئے۔ اسلامی طور اختیار کرنے والے صوفی تحریک اور ہندو طور پر چلنے والے بھکتی تحریک کے دھارے آپس میں مل کر ایک طاقتور دریا کی شکل اختیار کر گئے جس نے پرانے ویران علاقوں کو دوبارہ سرسبز کردیااور ملک کا چہرہ بدل دیا۔اس کی وجہ سے قرون وسطیٰ میں فنکارانہ یادگاریں، ادب، مصوری، موسیقی اور شاعری کی تخلیق ہوئی، اور محبت سے متاثر مذہب کی ترقی ہوئی، جو ہندوستانی تاریخ کی میراث ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کو اپنے حساب سے معاہدے کیلئے مجبور کرنے میں امریکہ کامیاب
مسلمان بادشاہوں، اسلام اور مقامی ثقافت کے مشترکہ اثر و رسوخ نے زندگی کے تمام شعبوں میں مخلوط ثقافت کو جنم دیا۔ موسیقی میں خیال، غزل اور ٹھمری اس تعامل کے نتائج کی بہترین مثالیں ہیں۔ شمالی ہندوستانی کلاسیکی موسیقی جیسا کہ آج ہم جانتے ہیں ہندو اور مسلم عناصر کے امتزاج کے۵۰۰؍ سالہ عمل کا نتیجہ ہے۔ بیجاپور کے ابراہیم عادل شاہ دوم (۱۶۲۶ء۔۱۵۸۰ء) کے دربار میں۳۰۰؍ ہندو گلوکار تھے۔ اس موسیقی کو مسلمانوں میں مقبول بنانے کیلئے انھوں نے خود اردو میں’کتاب نورنگ‘ نامی ایک کتاب ( ۵۹؍ نظموں پر مشتمل مجموعہ کلام ، جس آغاز سرسوتی دیوی کی تعریف سے ہوتی ہے) کی تشکیل کی۔ چیتنیہ مہا پربھو اور دیگر وشنو سنتوں کے زیر اثر بہت سے مسلمانوں نے اپنے اپنے انداز میں لکھا۔ رحیم اور رس خان ہندی کے سب سے مشہور شاعروں میں سے ہیں، جنہوں نے برج بھاشا میں بھگوان کرشن کی تعریف بیان کی۔ سید واجد شاہ نے ’ہیر اور رانجھا‘ لکھی جسے قرون وسطیٰ کے عظیم ترین کاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شیخ محمد نے مراٹھی ادب میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
دہلی کے ارد گرد بولی جانے والی فارسی بولیوں اور مغربی ہندی کے ملاپ نے ایک نئی زبان کو جنم دیا، جو بعد میں اردو کے نام سے مشہور ہوئی۔ کئی عظیم ہندو ادیبوں نے اردو کو نہ صرف انتظامی زبان کے طور پر اپنایا بلکہ اردو میں لکھ کر اس کے ادبی خزانوں کو بھی مالا مال کیا۔ ہندو فن تعمیر مسلم فن تعمیر کے پیچیدہ نقش و نگار سے متاثر تھا۔ اس فیوژن نے اس دور کی بہت سی شاندار عمارتوں کو شکل دی۔ یہ امتزاج آگرہ کے قلعے میں واقع جودھا بائی کے محل، فتح پور سیکری، اور مسجد قوت الاسلام کے محرابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش کی حویلیوں کے ساتھ ساتھ جودھ پور، بیکانیر اور جیسلمیر کی عمارتیں ’ہند عربی‘ فن تعمیر کی مثالیں ہیں۔ منی ایچر پینٹنگ کا ایک دلکش انداز تیار ہوا، جس میں فارسی تکنیک کو جلی ہندو رنگوں کے ساتھ ملایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع، بسوا شرما کا اشتعال انگیز ویڈیو اور جنرل نرونے کی کتاب
ایک دوسرے کے تہوار منانا اتنا عام تھا کہ دیوالی جیسے ہندو تہوار کو جشن چراغاں اور ہولی کو جشن گلابی کے طور پر منایا جاتا تھا۔ میسور میں، ٹیپو سلطان کے دور میں، دسہرہ شہنشاہ کی سرپرستی میں دس دنوں تک منایا جاتا تھا۔ تعزیہ کے جلوسوں میں تمام برادریوں نے شرکت کی۔