• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حفظ مراتب کا فقدان سماجی اقدار کو مسخ کر رہا ہے

Updated: February 15, 2026, 10:57 AM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

ملک میں حفظ مراتب کے فقدان کو ہر سطح پر دیکھا جا سکتا ہے۔ والدین اور اولاد کا رشتہ روز بہ روز جس پیچیدگی سے ہمکنار ہوتا جارہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ اس رشتے میں حفظ مراتب کا فقدان ہے۔یہ صورتحال یکطرفہ نہیں بلکہ فریقین اس میں برابر کے شریک ہیں۔

The lesson of maintaining good manners should be taught both at home and in school. Photo: INN
حفظ مراتب کے خیال رکھنے کا سبق گھر اور اسکول دونوں ہی جگہ پڑھایا جانا چاہئے ۔ تصویر: آئی این این

انسانی تعلقات اور رشتوں کی پاسداری میں حفظ مراتب کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔یہ انسانی قدر انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ان صالح عناصر سے مزین کرتی ہے جو فرد کی ذات اور اس کے گھریلو و سماجی تعلقات کو خوشگوار بناتے ہیں۔ انسانی رشتوں کے تنوع میں ماہ و سال کے امتیاز کو انسانیت کے سانچے میں ڈھالنے کا عمل بہت کچھ حفظ مراتب ہی پر منحصر ہوتا ہے۔مختلف عمر اور مختلف رشتوں سے منسلک انسان جب باہمی روابط میں اس قدر کو فراموش کرنے یا اسے غیر اہم سمجھنے کی خو اختیار کر لیتا ہے تو اس کی خانگی اور سماجی زندگی مختلف قسم کے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہونے لگتی ہے۔ان مسائل کا براہ راست اثر اس کے افکار و افعال پر رونماہوتا ہے اور وسیع تناظر میں سماجی رویوں پر اس کا اثر اس طور سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقدار حیات کے حوالے سے سوسائٹی کی وہ شناخت ہی معرض خطر میں پڑ جاتی ہے جو تہذیب و تمدن کے ارتقائی مراحل میں اس سوسائٹی کو انفرادی حیثیت کا حامل بناتی ہے۔تہذیب و ثقافت کے اختلاف کے باوصف حفظ مراتب کو تمام انسانی معاشروں میں قدر مشترک کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ لیکن عہد حاضر میں بلا تفریق ملک و معاشرہ انسانی رویوں میں جس سرعت رفتاری کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان میں ایک بڑی تبدیلی یہ بھی ہے کہ اب رشتوں اور تعلقات میں حفظ مراتب کو ملحوظ رکھنا ایک غیر ضروری امر کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گاؤں میں آج بھی ایسے کئی گھر ہیں جہاں ’اُپلوں‘ کی مدد سے کھانے پکتے ہیں

انسانی رویے میں آنے والی یہ تبدیلی اگر چہ عمومی صورتحال نہ سہی تاہم اس سے انکار مشکل ہے کہ سماج میں اب ایسے افراد وافر تعداد میں نظر آتے ہیں جو رفتار و گفتار میں حفظ مراتب کو دقیانوسی عادت یااس فرسودہ سوچ کا شاخسانہ گردانتے ہیں جو جدید سوسائٹی کے تقاضوں اور ترقی کے مراحل کو طے کرنے میں رخنہ اندازی کرتی ہے۔

اس وقت انسان وجودی سطح پر اور مختلف رشتوں اور تعلقات کے سیاق میں انفرادی حیثیت کا حامل ضرور ہے لیکن انفرادیت کا یہ تصور اس کے رویے میں اس طور سے عموماً کم ہی ظاہر ہوتا ہے جو صالح انسانی اقدار و صفات کے پروان چڑھنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ انسانی رویے کی یہ یکسانی نہ تو سن و سال کے فرق کا لحاظ کرتی ہے اور نہ ہی خانگی رشتوں اور سماجی تعلقات کی پاسداری میں ان طور طریقوں کو اختیار کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے جن کے ذریعہ ادب و احترام، محبت و ہمددری اور حلم و مروت جیسی صفات پروان چڑھتی ہیں۔معاصر سماج میں ان صفات کے فقدان کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ اب حفظ مراتب کا لحاظ رکھنا تضیع اوقات سمجھا جانے لگا ہے۔اس سوچ نے انسان کی ترجیحات بھی بدل دی ہیںاور یہی سبب ہے کہ اب معاشرے میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جوریاکاری، خود غرضی اور عیاری کو معیوب نہیں سمجھتے بلکہ ان حیلوں سے اپنا مقصد حاصل کرلینے کو ایک ہنر قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اُردو قومی تہذیب کا خوبصورت اظہار ہے: پروفیسر ناگاارجن واڈیکر

سوسائٹی میں حفظ مراتب کے فقدان کو ہر سطح پر دیکھا جا سکتا ہے۔ والدین اور اولاد کا رشتہ روز بہ روز جس پیچیدگی سے ہمکنار ہوتا جارہا ہے اس کی بڑی وجہ اس رشتے میں حفظ مراتب کا فقدان ہے۔یہ صورتحال یکطرفہ نہیں بلکہ فریقین اس میں برابر کے شریک ہیں۔ والدین نام نہاد ترقی یافتہ سوسائٹی میں خود کو نمایاں رکھنے کی خاطر اولاد کی پرورش اس انداز سے کرتے ہیں کہ اس رشتے کے فطری اخلاقی مطالبات کو درکنار کرکے اپنے وجود کوجدید مادی وسائل سے کشید ہونے والے اس مصنوعی رنگ میں رنگ لیتے ہیںجو نہ تو ان کی فطرت سے میل کھاتا ہے اور نہ ہی اس رشتے سے وابستہ ان انسانی تقاضوں کو پورا کرتا ہے جو گھر اور سماج میں خوشگوار ماحول تعمیر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی صورتحال اولاد کے رویے میں بھی دیکھی جا سکتی ہے اور اس معاملے میں اولاد ، والدین سے دو قدم آگے ہی نظر آتی ہے۔اکیسویں صدی کی نوجوان نسل صرف علوم و فنون ہی میں خود کو اپنے بڑوں سے بڑا نہیں سمجھتی بلکہ انسانی عادات و اطوار کے معاملے میں بھی وہ اپنے افعال کو بہ ہر طور حق بہ جانب سمجھتی ہے خواہ ان افعال سے انسانی و سماجی اقدار مسخ ہی کیوں نہ ہوتی ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کو اپنے حساب سے معاہدے کیلئے مجبور کرنے میں امریکہ کامیاب

حفظ مراتب کے فقدان کا یہ معاملہ صرف والدین اور اولاد کے رشتے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وہ تمام رشتے اور انسانی تعلقات جو ایک پر امن اور خوشگوار معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،ان سب میں اس فقدان کا مشاہدہ باسانی کیا جا سکتا ہے۔ ارتقا اور جدت کے نام پر انسانی اخلاقیات کے مسلمات کو مسترد کرنے کا رجحان خانگی اور سماجی ہر دو سطح پر انسانوں کو پیچیدہ مسائل میں مبتلا کرتا ہے اور اس صورتحال سے بچنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان باہمی روابط میں حفظ مراتب کا لحاظ ایک ناگزیر امر کے طو ر پر کرے۔اس قدر کو برتنے میں لاپرواہی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اب انسان ادب و احترام، محبت ورواداری کو بیکار سمجھنے لگا ہے۔اس طرز فکر کا حامل انسان اور سماج ان اقدار کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہوتے ہیںجن اقدار پر انسانیت کی بقا کا دار و مدار ہوتا ہے اور شیطان خصلت عناصر اسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK