کسی زمانے میں ہندوستانی گھروں میں خوراک کا معیار تھا کہ کھانا پیٹ بھرنے والا ہے یا نہیں۔ پھر صحت کا شعور بڑھا تو لوگوں نے کیلوریز کو گننا شروع کر دیا۔ اس کے بعد کم چکنائی، کم شکر اور کم نمک والی غذاؤں کا دور آیا۔
EPAPER
Updated: August 03, 2026, 7:46 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
کسی زمانے میں ہندوستانی گھروں میں خوراک کا معیار تھا کہ کھانا پیٹ بھرنے والا ہے یا نہیں۔ پھر صحت کا شعور بڑھا تو لوگوں نے کیلوریز کو گننا شروع کر دیا۔ اس کے بعد کم چکنائی، کم شکر اور کم نمک والی غذاؤں کا دور آیا۔
کسی زمانے میں ہندوستانی گھروں میں خوراک کا معیار تھا کہ کھانا پیٹ بھرنے والا ہے یا نہیں۔ پھر صحت کا شعور بڑھا تو لوگوں نے کیلوریز کو گننا شروع کر دیا۔ اس کے بعد کم چکنائی، کم شکر اور کم نمک والی غذاؤں کا دور آیا۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خوراک کی دنیا میں ایک نیا لفظ ’’پروٹین‘‘ سب پر غالب آ چکا ہے۔ سپر مارکیٹ ہو یا کوئک کامرس سائٹ پر مصنوعات کی آن لائن فروخت، تقریباً ہر دوسرا پیکٹ’’ہائی پروٹین‘‘ ہونے کا دعویدار ہے۔ بسکٹ ہو یا آٹا، دہی ہو یا دودھ، مشروب ہو یا اسنیکس، ہر برانڈ پروٹین کو طرۂ امتیاز بنا چکا ہے۔
یہ رجحان صرف جم جانے والوں یا باڈی بلڈرز تک محدود نہیں۔ اب والدین، بزرگ، خواتین حتیٰ کہ بچے بھی اس نئی غذائی بحث کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: Namenomics: کیا ایک نام اربوں ڈالر کا ہوسکتا ہے؟ یہ ہے’’برانڈ نیم‘‘ کی دُنیا!
۶؍ ہزار سے زائد ہندوستانیوں پر مشتمل ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ۸۶؍ فیصد صارفین اب اسنیکس خریدتے وقت پروٹین کو اہم معیار سمجھتے ہیں جبکہ تقریباً ۶۰؍ فیصد والدین اپنے بچوں کیلئے زیادہ صحتمند، پروٹین سے بھرپور غذاؤں پر اضافی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ایک تہائی صارفین نے کہا کہ انہیں پروٹین سے بھرپور مصنوعات کیلئے زیادہ رقم دینا گوارا ہوگا۔ یہ اعداد و شمار صارفین کی سوچ میں آنے والے بڑے انقلاب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس تبدیلی کی کئی وجوہات ہیں۔ سوشل میڈیا نے فٹ نیس، جسمانی ساخت اور غذائیت کے بارے میں عوامی شعور میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ڈاکٹر، غذائی ماہرین، فٹ نیس کوچیز اور عام صارفین روزانہ لاکھوں ویڈیوز اور پوسٹس کے ذریعے پروٹین کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو غذائی جز پہلے صرف کھلاڑیوں سے جوڑا جاتا تھا، اب اس کی گونج تقریباً ہر گھر میں سنائی دیتی ہے۔
یہ تبدیلی کسی حد تک خوش آئند بھی ہے۔ برسوں تک ہندوستان میں غذائی قلت کی بحث کیلوریز تک محدود رہی حالانکہ اصل مسئلہ معیاری پروٹین کی کمی بھی تھا۔ متعدد قومی غذائی مطالعات نشاندہی کر چکے ہیں کہ آبادی کا بڑا حصہ روزانہ مطلوبہ مقدار میں پروٹین حاصل نہیں کر پاتا۔ ایسے میں اگر لوگ اپنی غذا کے معیار پر زیادہ توجہ دینے لگے ہیں تو یہ مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن ہر رجحان کے ساتھ ایک کاروباری حقیقت بھی جڑی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: احتجاج کی بیلنس شیٹ: سرمایہ کس نے لگایا؟ قیمت کس نے ادا کی؟ منافع کتنا ہوا؟
جیسے ہی کسی غذائی جز کو ’’سپر فوڈ‘‘ قرار درجہ ملتا ہے، مارکیٹ اسے ایک نیا تجارتی موقع سمجھتی ہے۔ آج یہی پروٹین کے ساتھ ہو رہا ہے۔ تقریباً ہر فوڈ کمپنی اپنی مصنوعات میں ’’ہائی پروٹین‘‘، ’’پروٹین پلس‘‘ یا ’’پروٹین فورٹیفائیڈ‘‘ جیسے الفاظ شامل کر رہی ہے۔ مقصد صارف کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ ایک بہتر، جدید اور زیادہ صحتمند انتخاب کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی ’پروٹین معیشت‘ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ملک کی پروٹین مارکیٹ آئندہ دس برسوں میں ۱۷؍ فیصد سے زیادہ سالانہ شرح نمو کے ساتھ بڑھے گی اور تقریباً ۱ء۵؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہر ’’ہائی پروٹین‘‘ چیز واقعی زیادہ صحت مند ہوتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے۔
غذائی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ کسی بھی خوراک کو صرف ایک جز کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ اگر کسی چیز میں پروٹین تو زیادہ ہو مگر اس میں نمک، شکر یا انتہائی پروسیس شدہ اجزا بھی بڑی مقدار میں ہوں تو اسے صحت بخش قرار دینا درست نہیں۔ اہم یہ ہے کہ صارفین بھی اب پہلے جیسے نہیں رہے۔
ایک سروے میں ۶۲؍ فیصد افراد نے کہا کہ وہ کسی مشہور شخصیت (سیلبریٹی) کی تشہیر کے بجائے پیکٹ پر درج اجزا اور غذائی معلومات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ والدین کا رویہ بھی بدل رہا ہے۔ پہلے بچوں کیلئے اسنیکس کا انتخاب ذائقے اور قیمت کی بنیاد پر ہوتا تھا مگر اب غذائیت بھی فیصلہ کن عنصر بنتی جا رہی ہے۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر صحتمند خوراک صرف زیادہ قیمت ادا کرنے والوں کی پہنچ میں رہے تو کیا غذائیت بھی ایک طبقاتی سہولت بن جائے گی؟ یہ خطرہ حقیقی ہے۔ اگر پروٹین کو صرف مہنگے پیکٹ، درآمد شدہ سپلیمنٹس اور برانڈیڈ اسنیکس تک محدود کر دیا گیا تو کم آمدنی والے خاندان اس رجحان سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ حالانکہ ہندوستانی کچن میں پہلے ہی بے شمار سستے اور مؤثر پروٹین ذرائع موجود ہیں، جیسے دالیں، چنے، راجما، لوبیا، سویا، دودھ، دہی، پنیر، انڈے، مچھلی اور مونگ پھلی۔ یہ بھی واضح رہے کہ غذائیت کا تعلق ہمیشہ مہنگی مصنوعات سے نہیں ہوتا بلکہ متوازن خوراک سے ہوتا ہے اس لئے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہر شخص کو ’’بیلنسڈ ڈائٹ‘‘ پر عمل کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ’’ری ہومنگ‘‘ جیسے سادہ وائرل لفظ سے خبردار رہئے
آنے والے برسوں میں پروٹین صرف ایک غذائی جز نہیں رہے گا بلکہ خوراک کی صنعت، زرعی پالیسی، صحت عامہ اور صارفین کی ترجیحات کو متاثر کرنے والا اہم معاشی عنصربن کر ابھرے گا۔ سوال یہ نہیں کہ پروٹین اہم ہے یا نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے متوازن غذا کا حصہ بنائیں گے یا مارکیٹنگ اسے ایک ایسی ’’پریمیم‘‘ چیز بنا دے گی جو صرف مہنگی مصنوعات کے ذریعے ہی دستیاب ہوگی؟ مستقبل کی کامیاب غذائی حکمت عملی وہ ہوگی جو لوگوں کو زیادہ مہنگی خوراک خریدنے پر نہیں بلکہ بہتر انتخاب کرنے پر آمادہ کرے۔
اچھی صحت کا راز مہنگی چیزیں کھانے میں نہیں بلکہ صحیح چیز مناسب مقدار میں کھانے میں ہے۔ اور یہی وہ فرق ہے جسے صارفین، متعلقہ صنعتوں اور پالیسی سازوں یعنی تینوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔