• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے اخبارات نے ملک کے سیاسی، سماجی اور تعلیمی مسائل کو اجاگر کیا

Updated: October 18, 2026, 5:34 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

بعض اخبارات نے ووٹر فہرستوں سے مبینہ طور پر دانستہ طور پر مسلمانوں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوری نظام کیلئے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

The police could not tolerate the peaceful protest by the elderly mother and aged father of the victim, Ankita Bhandari. Photo: PTI.
مقتول انکیتا بھنڈاری کی بوڑھی ماں اور اس کے معمر باپ کا پرامن احتجاج پولیس سے دیکھا نہیں گیا۔ تصویر: پی ٹی آئی۔

رواں ہفتے غیر اردو اخبارات نے کئی اہم موضوعات کا احاطہ کیاہے۔ جنتر منتر پر مظاہروں پر پابندی عائد کرنے کے حکومتی فرمان کو بعض اخبارات نے جمہوری حقوق پر قدغن اور آمریت کے رجحان سے تعبیر کیا ہے۔ معروف ماہرِ تکنیک نندن نیلی کنی کی جانب سے نیٹ پرچے لیک ہونے کے خدشات سے بچاؤ کیلئے پیش کردہ تجاویز بھی اخبارات کے اداریوں کا موضوع بنی ہیں۔ اسی طرح بعض اخبارات نے ووٹر فہرستوں سے مبینہ طور پر دانستہ طور پر مسلمانوں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوری نظام کیلئے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب انکیتا بھنڈاری قتل معاملے کے تناظر میں دشینت گوتم کی گورنر کے عہدے پر تقرری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ 
یہ اقتدار کی بزدلی کا کھلا اعتراف ہے
سامنا( مراٹھی، ۱۴؍اکتوبر)
’’جمہوریت کی اصل روح حکمرانوں کی تالیوں میں نہیں بلکہ سڑکوں پر گونجنے والی اختلافی آوازوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ دہلی کی تاریخ صرف راشٹرپتی بھون، پارلیمنٹ ہاؤس یا اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس شہر کی اصل پہچان وہ تاریخی سڑکیں رہی ہیں جنہوں نے ہر دور کے آمر کے سامنے مظلوموں اور پسے ہوئے طبقات کے نعروں کو گونج بخشی ہے۔ تحریک آزادی کے دوران چاندنی چوک سے لے کر جامع مسجد اور کلاک ٹاور تک سامراجی تسلط کو جھنجھوڑا گیا بعد ازاں آزادی بوٹ کلب سے پارلیمنٹ کے دروازوں تک عوام نے ہمیشہ اپنے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ اس تاریخی تسلسل میں ’جنتر منتر‘ دہلی کے دل میں عوام کی فریاد اور آئینی حقِ احتجاج کا ایک ناقابل تسخیر استعارہ بن چکا تھالیکن افسوس کہ مودی، شاہ کی قیادت نے دہلی پولیس کے ذریعے احتجاجی مقامات کی فہرست سے جنتر منتر کو مستقل طور پر خارج کرکے جمہوری اقدار کا گلا گھونٹنے کی ایک شرمناک کوشش کی ہے۔ یہ فیصلہ محض امن و امان کا انتظامی قدم نہیں ہے بلکہ عوامی غیظ و غضب سے لرزتی ہوئی اقتدار کی بزدلی کا کھلا اعتراف ہے۔ بی جے پی کی پشت پناہی میں چلنے والی انّاہزارے کی تحریک سے لےکر امتحانات میں بدعنوانی اور تعلیمی بدحالی کے خلاف سونم وانگ چک کے ۳۶؍ روزہ مظاہرے تک، جنتر منتر نے اقتدار کو بارہا جھکنے پر مجبور کیا ہے۔ اب جبکہ ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے متنازع اور بدعنوان طریقہ کار کے خلاف عوامی غصہ ابل رہا تھا تو اس تحریک کے جنتر منتر پہنچنے سے قبل ہی وہاں لاکھوں کی تعداد میں مسلح فورس تعینات کردی گئی اور بالآخر اس مقام پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ پارلیمنٹ کےسامنے احتساب سے بچنے کیلئے ایک آئینی عہدیدار کو یوں ڈھال فراہم کرنا نہ صرف آئین مخالف ہے بلکہ جمہوریت کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: طلبہ احتجاج، نانا پاٹیکر کا انتقال اور غزہ جنگ کے تین سال پر اداریے

امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کا سلسلہ رکنا چاہئے
مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۱۵؍اکتوبر )
میڈیکل کے داخلہ امتحان نیٹ کے تناظر میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کا معاملہ اب محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں رہا بلکہ یہ ایک ناسور بن چکا ہے۔ اس سنگین اور تشویش ناک پس منظر میں نامور ٹیکنالوجی ماہر نندن نیلی کنی کی زیر قیادت ماہرین کے پینل کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز نے اس بحران سے نمٹنے کیلئے ایک نئی امید جگائی ہے۔ ان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ پہلے سے ایک مخصوص پرچہ تیار کر کے اس کی حفاظت کے روایتی جتن کرنے کے بجائے ایک وسیع’کوئسچن بینک‘ تیار کیا جائے اور امتحان شروع ہونے کے عین وقت ہی سوالیہ پرچہ ترتیب دے کر طلبہ تک پہنچایا جائے۔ موجودہ مجرمانہ گٹھ جوڑ کو توڑنے کیلئے یہ فارمولا واقعی تیر بہدف ثابت ہو سکتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ جب تک پرچے روایتی انداز میں مہینوں پہلے بن کر پرنٹنگ پریس اور امتحانی مراکز کی بھول بھلیوں سے گزرتے رہیں گے مجرمانہ ذہنیت والے عناصر ان میں رخنہ ڈالنے کی راہیں تلاش کرتے رہیں گے۔ نیلی کنی کا یہ استدلال تکنیکی لحاظ سے بے حد وزنی ہے کہ جدید مواصلاتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کے اس دور میں عین وقت پر پرچہ تیار کر کے ہزاروں مراکز تک فوری ترسیل کوئی ناممکن کام نہیں رہا۔ اگر ٹیکنالوجی کا مثبت اور فول پروف استعمال کیا جائے کمپیوٹر پر مبنی امتحانی مراکز کا دائرہ کار ڈیڑھ لاکھ سے آگے بڑھایا جائے اور بنیادی ڈھانچے کو جدیدخطوط پر استوار کیا جائے تو پرچہ پہلے سے لیک ہونے کا امکان ازخود ختم ہو جائے گا۔ حکومت وقت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نندن نیلی کنی ورکنگ گروپ کی یہ سفارشات محض ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ ملک کے لاکھوں نونہالوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا بیانیہ ہیں۔ ان اصلاحات کو محض فائلوں کی زینت بننے کے بجائے فوری اور مکمل طور پر نافذ العمل کیا جانا چاہیے ورنہ بار بار کمیٹیاں تشکیل دینا طلبہ کے زخموں پر نمک پاشی اور اصلاحات کے نام پر محض ایک فریب کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ ‘‘
 انتخابی عمل سے بے دخل کرنے کی دانستہ سازش
دی ہندو( انگریزی، ۱۵؍اکتوبر)
’’جمہوری نظام کی بقا شفاف انتخابی عمل پر منحصر ہوتی ہے لیکن جب انتخابات کا نگراں ادارہ خود ہی شکوک و شبہات کے گھیرے میں آ جائے تو نظام کی بنیادیں لرزنے لگتی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے زیر اہتمام ’ایس آئی آر‘کی موجودہ مہم جس انداز میں چلائی جا رہی ہے وہ اصلاحی عمل کم اور اصل ووٹروں کو چُن چُن کر انتخابی عمل سے بے دخل کرنے کی ایک دانستہ اور منظم سازش زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے نام نہاد منطقی تضادات کے عنوان تلے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے وہ نہ صرف آئینی روح کے منافی ہے بلکہ اس میں ایک گہری بدنیتی بھی جھلکتی ہے۔ ان خود ساختہ تضادات میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو خاندان کے حجم اور بچوں کی تعداد کو بنیاد بنانا ہے۔ اعداد و شمار گواہی دے رہے ہیں کہ یہ کوئی تکنیکی خامی نہیں بلکہ ایک مخصوص اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ دہلی کی انتخابی فہرستوں میں مسلمانوں کا تناسب۱۳ء۶؍ فیصد ہے مگر تضادات کے بہانے نشان زد کیے گئے ناموں میں ان کا حصہ ۲۰ء۳؍ فیصد بنتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ جب خاندانی حجم کی بنیاد پر طے شدہ ۵؍ وجوہات کو دیکھا جائے تو نشان زد افراد میں مسلمانوں کی شرح یکدم ۳۰؍ فیصد تک جا پہنچتی ہے۔ یہ غیر متناسب فرق بذات خود اس امر کا ثبوت ہے کہ مقصد انتخابی فہرستوں کو شفاف بنانا نہیں بلکہ ایک مخصوص طبقے کے ووٹ کاٹنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ رویہ قانونی اور آئینی اصولوں کے بھی صریح منافی ہے۔ آئین اور انتخابی قوانین کے تحت کسی بھی ووٹر کیلئے صرف چار شرائط درکار ہیں کہ وہ بھارت کا شہری ہو، عمر ۱۸؍ سال سے کم نہ ہو، متعلقہ حلقے کا رہائشی ہو اور قانون کے تحت نااہل قرار نہ دیا گیا ہو۔ ان بنیادی اصولوں کے برعکس یہ جانچنا کہ کسی ووٹر کے کتنے بچے ہیں یا اس کی ولادت کے وقت والدین کی عمر کیا تھی یا اس کے نام کے تلفظ میں کیا فرق ہے، نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر متعلق ہے۔ ‘‘
طاقتور مجرم اور عام کمزور شہری کیلئے پیمانہ یکساں ہو
جن ستہ( ہندی، ۱۶؍اکتوبر)
’’اتراکھنڈ کےایک ریزارٹ میں کام کرنے والی معصوم انکیتا بھنڈاری کے اندوہناک قتل کیس میں گو کہ عدالت نے تین ملزمین کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیا ہے لیکن کیا محض چند چہروں کو سزا دلوا دینا مکمل انصاف کی ضمانت ہے؟حقیقت یہ ہے کہ اس لرزہ خیز سانحہ کے بعد پولیس اور ریاستی مشینری نے جس غیر سنجیدہ اور مشکوک انداز میں تفتیش کو آگے بڑھایا، اس پر اٹھنے والی انگلیاں آج بھی جوں کی توں ہیں۔ ستمبر ۲۰۲۲ء میں قتل کے فوراً بعد راتوں رات ریزارٹ کے ایک حصے پر بلڈوزر چلا کر ثبوتوں کو خاک میں ملانے کی جو عجلت دکھائی گئی تھی، اس نے پہلے ہی دن اس معاملے کومشکوک بنا دیا تھا۔ اس پورے قضیے کا شرمناک پہلو وہ رویہ ہے جو ریاست نے ایک متاثر خاندان کے ساتھ روا رکھا ہے۔ انکیتا کے غمزدہ والدین جب اس مقدمہ میں شامل مبینہ وی آئی پی کردار کی شفاف تفتیش کا مطالبہ لےکر ملک کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچے اور انڈیا گیٹ پر انصاف کی صدا بلند کی تو ان کے اشک پونچھنے کے بجائے صبح سویرے دہلی پولیس کے ذریعے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ کیا دارالحکومت کی سڑکوں پر ایک مقتول بیٹی کے بوڑھے ماں باپ کا پرامن احتجاج اتنی بڑی دہشت بن گیا تھا کہ انہیں پابند سلاسل کرنا ضروری سمجھا گیا۔ سب سے سنگین سوال یہ ہے کہ جب خاندان واضح طور پر ایک بااثر اور آئینی عہدے پر فائز شخصیت کی طرف انگلیاں اٹھا رہا ہے اور سی بی آئی جانچ کی تکمیل تک ایسی تعیناتیوں پر روک کا مطالبہ کر رہا ہے تو پھر شفافیت کے راستے میں رکاوٹیں کیوں ڈالی جا رہی ہیں ؟ قانون کی حکمرانی کا کھوکھلا دعویٰ اسی وقت معتبر ہو سکتا ہے جب ایک بااثر اور طاقتور مجرم اور ایک عام کمزور شہری کیلئے احتساب کا پیمانہ یکساں ہو۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK