وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کیا جانے والا پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے، یہ صرف ایک سفری دستاویز ہے۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 10:03 PM IST | Kapil Sibal | Mumbai
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کیا جانے والا پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے، یہ صرف ایک سفری دستاویز ہے۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کیا جانے والا پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے، یہ صرف ایک سفری دستاویز ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پاسپورٹ سفری دستاویز بھی ہے۔ اسی طرح آدھار، ووٹر شناختی کارڈیا پیدائش سرٹیفکیٹ بھی جنہیں آئینی ادارے جاری کرتے ہیں، شہریت کا ثبوت نہیں ہیں ۔
واضح طورپر دیکھیں تو حکومت یا اس کے کسی قانونی ادارہ کی جانب سے جاری کیا گیا کوئی بھی دستاویز اپنے آپ میں کسی شخص کی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں سمجھاجا سکتا۔ اس معاملےکے دو پہلو ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پہلا یہ کہ کسی بھی دستاویز میں درج کوئی بھی بات خود اُس حقیقت کا ثبوت نہیں ہوتی۔ اگر اس کو چیلنج کیا جائے تو کسی قانونی اتھاریٹی یا عدالت کے سامنے اسے براہِ راست یا بالواسطہ شواہد کے ذریعے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ یہ قانون کا بنیادی اصول ہے۔ تاہم منظور ِعام قانونی مفروضہ کے مطابق ان دستاویزات میں درج حقائق اس وقت تک درست سمجھے جائیں گے جب تک کہ انہیں غلط ثابت نہ کر دیا جائے۔ اس طرح غلط ثابت کرنے کی ذمہ داری اُس شخص پر عائد ہوتی ہے جواُس کی صداقت کو چیلنج کرتا ہےیعنی ایسے کسی دستاویز میں موجود حقائق کو چیلنج کرنےوالا شخص جب تک انہیں غلط ثابت نہ کردے تب تک انہیں قانونی طور پر درست ہی تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ڈجیٹل انقلاب کے دور میں بڑھتے سائبر جرائم، بڑا چیلنج
پاسپورٹ حکومت کے ذریعہ جاری کیا جانے والا خصوصی اہمیت کا حامل دستاویز ہے۔ یہ اس وقت تک جاری نہیں کیا جاتا جب تک متعلقہ شخص کے بارے میں یہ تصدیق نہ ہوکہ وہ ہندوستان کا شہری ہے۔ پاسپورٹ جاری کرنے سےپہلے ضروری جانچ پڑتال کا ایک طے شدہ ضابطہ موجود ہے جس پر عمل درآمد کے بغیر پاسپورٹ جاری نہیں ہوتا۔ ذمہ داران کیلئے لازمی ہے کہ وہ درخواست میں دی گئی تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش جیسی تمام معلومات کی تصدیق کریں ۔
ایک بار جاری ہوجانے کے بعد اس سفری دستاویز کودیگر ممالک بھی حکومت ہندکے جاری کردہ معتبر دستاویز کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے پاسپورٹ خود اس سچائی کی عکاسی کرتا ہے کہ اس کا حامل شخص ہندوستان کا شہری ہے، اور اسی بنیاد پر دیگر ممالک کے امیگریشن حکام اسے داخلے کی اجازت دیتے ہیں ۔ دنیا کے کئی ممالک ہندوستانی پاسپورٹ کی بنیاد پر بغیر ویزا کے داخلے کی اجازت دیتے ہیں ۔ یہ سہولت اِسی قانونی تاثر پر مبنی ہے کہ پاسپورٹ کا حامل شخص ہندوستانی شہری ہے۔ ایسے میں وزارتِ خارجہ کا یہ کہنا کہ پاسپورٹ محض سفری دستاویز ہے، قانون کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قانونی مفروضے کو رد کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے والا کوئی تیسرا فریق بھی ہو سکتا ہے اور وہ ادارہ بھی ہوسکتا ہے جس نے پاسپورٹ جاری کیا ہے بشرطیکہ بعد میں اس کے سامنے نئے حقائق آئیں یا دیگر قانونی وجوہات موجود ہوں ۔ تاہم اس صورت میں اُن حقائق کو ثابت کرنا ضروری ہوگا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ شخص واقعی ہندوستان کا شہری ہے اور اس کا پاسپورٹ درست ہے، یا پھر پاسپورٹ منسوخ کر کے اس کی قانونی حیثیت پر از سر نو فیصلہ کیا جائے۔ اسلئےبحث ان دستاویزات کے معاملے میں بحث کا نقطہ ٔ آغازیہ قطعی نہیں ہوسکتا کہ آدھار کارڈ یا پاسپورٹ کا حامل شخص ہندوستانی شہری نہیں ہے۔
ایک اور اہم پہلو ہے جو توجہ طلب ہے۔ ہندوستان کا آئین دوہری شہریت کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرتا ہے تو وہ ہندوستانی شہریت خود بخودکھو دیتا ہے اور اس کا پاسپورٹ فوری طور پر منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ یہ نتیجہ خود اس کا ثبوت ہے کہ پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ شہریت کی بھی ثبوت ہے۔ قوانین کے مطابق کسی شخص کو مختلف بنیادوں پر ہندوستانی شہری تسلیم کیا جاتا ہے، جن میں پیدائش، نسب، رجسٹریشن، شہریت کے حصول (نیچرلائزیشن) اور کسی علاقے کے ہندوستان میں شامل ہونے کے نتیجے میں شہریت ملنا شامل ہے۔ ان میں سے کسی بھی بنیاد پر شہریت حاصل کرنےوالا شخص تمام شہری حقوق کو مستحق ہوتا ہے اور ہندوستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ’’ری ہومنگ‘‘ جیسے سادہ وائرل لفظ سے خبردار رہئے
حال ہی میں بہار، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور کیرالا کے انتخابات کے دوران سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے بی ایل اوز کو یہ اختیار دیکرسنگین قانونی غلطی کی کہ وہ کسی شخص کی شہریت پر شبہ کرتے ہوئے اور اس شبہ کو قانونی طور پر صحیح ثابت کئے بغیر ووٹ دینے کے حق سے محروم کر سکتا ہے۔ اس طرح ان دستاویزات سے وابستہ اس قانونی مفروضے کو نظر انداز کر دیا گیا کہ جب تک وہ غلط ثابت نہ ہوجائیں، صحیح ہیں ۔ نتیجتاً لاکھوں افراد حق رائے دہی سے محروم ہوگئے حالانکہ ان کے خلاف قانونی طور پرکوئی فیصلہ بھی نہیں ہوا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ مغربی بنگال میں اس کی وجہ سے پورا انتخابی عمل متاثر ہوا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ایسے طریقۂ کار کو قبول کیا، جس سے بالواسطہ طور پر برسراقتدار جماعت کو فائدہ پہنچا۔ یہ صرف قانونی غلطی نہیں ہے بلکہ ایسی غلطی ہے جو سیاسی توازن کو بدل دیتی ہے اور انتخابی مقابلے کو غیر مساوی بنا دیتی ہے۔ حال ہی میں چیف جسٹس آف انڈیا نے بھی ایک تقریر میں بجا طور پر کہا تھا کہ جب حقیقی مساوات موجود نہ ہو تو قانون سے طاقتور فریقوں کو غیر متناسب فائدہ پہنچتا ہے۔ یہ سمجھناضروری ہے کہ ووٹ دینے کا حق قانونی حق ہے، اگر اس حق کا دعویٰ ایسے دستاویز کی بنیاد پر کیا جا رہا ہو جس کے ساتھ قانوناً درست ہونے کا مفروضہ وابستہ ہے، تو پھر اس حق سے محروم کرنا دراصل مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہے، اور مساوات آئین کے تحت ایک بنیادی حق ہے۔ اس طرح اگر ایک ہی نوعیت کی قانونی دستاویز رکھنے والے ۲؍افراد میں سے ایک کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جاتی ہے اور دوسرے کو اس کے دستاویز کو غلط ثابت کئے بغیر، محروم کر دیا جائے تو یہ مساوات کے بنیادی حق کے خلاف ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ غیر ضروری تنازع ایسے وقت میں کھڑا کیا گیا ہے جب اقتدار بدعنوانی کے متعدد الزامات سے گھرا ہوا ہے تاہم اس کی وجہ سے ہندوستان کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ امید ہی کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ اس حقیقت کو سمجھےگا۔
(مضمون نگار سینئر وکیل اور راجیہ سبھا کے رکن ہیں )