Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت: ڈیٹا سینٹرز پر ہندوستان کا بڑا داؤ، مگر پانی کہاں سے آئے گا؟

Updated: March 01, 2026, 12:47 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

مستقبل ڈیٹا کا ہے اور اس کیلئے ڈیٹا سینٹرس انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، ڈیجیٹل ترقی کے خواب کے ساتھ آبی بحران کا خطرہ ، بہتر منصوبہ بندی نہ ہوئی تو شہریوں کے نل اور دیہات کے کنویں متاثر ہو سکتے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو رہی ہے اور ڈیٹا اب نئی معیشت کی بنیاد بن چکا ہے۔ ایسے میں ہر ملک چاہتا ہے کہ عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں اس کا حصہ ہو۔ ہندوستان بھی اسی حکمت عملی کے تحت بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹروں کی تعمیر اور سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں، عالمی ٹیک کمپنیوں کی دلچسپی اور مقامی صنعتی گروپوں کے اربوں ڈالر کے منصوبوں نے ملک کو ایشیا کے اہم ڈیٹا ہب کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن اس ترقی کے ساتھ ایک بنیادی سوال شدت سے سامنے آ رہا ہے کہ ان ڈیٹا سینٹروں کیلئے درکار بے تحاشہ پانی کہاں سے آئے گا؟  واضح رہے کہ ڈیٹا سینٹر دراصل وہ محفوظ عمارتیں ہوتی ہیں جہاں ہزاروں طاقتور کمپیوٹر سرورس، اسٹوریج سسٹم اور نیٹ ورکنگ آلات مسلسل کام کرتے رہتے ہیں۔ یہی وہ جگہیں ہیں جہاں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، آن لائن ویڈیوز، سوشل میڈیا، بینکنگ اور مصنوعی ذہانت کے نظام چلتے ہیں۔ جب بھی کوئی صارف موبائل پر ویڈیو دیکھتا ہے، ای میل بھیجتا ہے یا اے آئی سے سوال کرتا ہے تو پس منظر میں کسی نہ کسی ڈیٹا سینٹر کا سرور متحرک ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جمہوریت میں اختلاف رائے کا حق ہے پھر احتجاج کو جرم کیوں بنایا جا رہا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ یہ طاقتور سرور بہت زیادہ  حرارت پیدا کرتے ہیں۔ انہیں ٹھنڈا رکھنے کیلئے بڑے پیمانے پر کولنگ سسٹم درکار ہوتے ہیں  اور دنیا کے بیشتر ڈیٹا سینٹر اب بھی پانی پر مبنی کولنگ نظام استعمال کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ایک درمیانے درجے کا ڈیٹا سینٹر روزانہ۱۱؍ سے  ۱۸؍ لاکھ لیٹر تک پانی استعمال کرسکتا ہے۔یہ مقدار کسی بھی چھوٹے قصبے کی روزانہ ضرورت کے برابر ہو سکتی ہے۔دنیا کے مختلف حصوں میں اس کے اثرات پہلے ہی دیکھے جا رہے ہیں۔ امریکہ کی ریاست جارجیا کی نیوٹن کاؤنٹی میں میٹا کے ڈیٹا سینٹر کے قیام کے بعد مقامی آبادی نے پانی کی کمی، کنوؤں کے خشک ہونے اور زیر زمین پانی کے معیار میں تبدیلی کی شکایات کیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایسے مراکز روزانہ لاکھوں گیلن پانی استعمال کر سکتے ہیں  جو قریبی آبادی کے کل استعمال کا نمایاں حصہ بن جاتا ہے۔

ہندوستان میں بھی اسی نوعیت کی تشویش سامنے آئی ہے۔ اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا کے قریب تُسیانا گاؤں میں قائم ایک بڑے ڈیٹا سینٹر پارک کے قریب قیام پذیر مقامی لوگوں نے بتایا کہ زیر زمین پانی کی سطح پہلے کے مقابلے میں کہیں نیچے چلی گئی ہے۔ جہاں پہلے پانی ۲۰؍ سے ۳۰؍ فٹ کی گہرائی پر مل جاتا تھا، اب ۷۰؍ سے ۸۰؍ فٹ تک کھدائی کرنی پڑ رہی ہے۔ اگرچہ اس تبدیلی کے پیچھے کئی عوامل ہو سکتے ہیں مگر صنعتی پانی کے بڑھتے استعمال نے اس خدشے کو مضبوط کیا ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹر مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔اس کے باوجود  ہندوستان  میں ڈیٹا سینٹر صنعت کو بھرپور سرکاری حمایت حاصل ہے۔ مرکزی بجٹ میں غیر ملکی کلاؤڈ سروس فراہم کنندگان کے  لئے ٹیکس  میںمراعات دی گئی ہیں تاکہ وہ  ہندوستان میں ہی اپنے   ڈیٹا سینٹر قائم کریں اور یہیں کے  انفراسٹرکچر کا استعمال کریں۔ وزیر اعظم نے بھی اعلان کیا ہے کہ ڈیٹا سینٹر نوجوانوں کے  لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے اور بھارت کو عالمی ڈیجیٹل مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اگر اس پالیسی کا نفاذ بہتر طریقے سے ہو تو واقعی اس شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ چونکہ یہ بالکل نئی فیلڈ ہوگی اس لئے ان میں بہتر روزگار بھی پیدا ہو سکتا ہےلیکن شرط یہی ہے کہ اس پالیسی کا نفاذ بہتر سے بہتر ہو ۔  

یہ بھی پڑھئے: تاریک شب کو تونے درخشاں بنا دیا

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں پہلے ہی ایک سو سے زیادہ ڈیٹا سینٹر فعال ہیں اور آئندہ چند برسوں میں درجنوں نئے منصوبے متوقع ہیں۔ مہاراشٹر، خصوصاً ممبئی، اس شعبے کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھر رہا ہے جبکہ بنگلور، حیدرآباد، چنئی، پونے اور نوئیڈا جیسے ٹیکنالوجی شہر بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ بڑے صنعتی گروپوں نے بھی قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹروں میں بھاری سرمایہ کاری کے منصوبے پیش  کئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اس شعبے کو طویل مدتی معاشی ستون سمجھتا ہے اور اسی کے مطابق کارروائی کررہا ہے۔ماہرین کے مطابق اصل چیلنج پانی کی دستیابی سے زیادہ اس کے انتظام کا ہے۔ ہندوستان دنیا کے ان چنندہ ممالک میں شامل ہے جہاں بارش کی مجموعی مقدار خاصی زیادہ ہےمگر مناسب ذخیرہ، تقسیم اور ری سائیکلنگ کے نظام کی کمی کے باعث بڑی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ اگر یہی پانی محفوظ کر لیا جائے اور صنعتی استعمال کیلئے باقاعدہ ایک الگ نظام بنایا جائے تو ڈیٹا سینٹروں کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔

تاہم  ماہرین ماحولیات اس مسئلے کو اتنا سادہ نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے کئی بڑے شہر پہلے ہی پانی کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بنگلورکو دریائے کاویری سے دور دراز سے پانی پمپ کر کے لانا پڑتا ہے، چنئی میں بارہا خشک سالی کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے اور شمالی و مغربی ہندوستان  کے کئی شہروں میں زیر زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ایسے میں اگر انہی علاقوں میں بڑے ڈیٹا سینٹر قائم ہوں جو روزانہ لاکھوں لیٹر پانی استعمال کریں تو شہری سپلائی اور زرعی ضروریات متاثر ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فرقہ وارانہ منافرت کی توسیع میں بچوں اور عورتوں کی شمولیت

ٹیکنالوجی اس مسئلے کے ممکنہ حل بھی پیش کر رہی ہے۔ کچھ جدید ڈیٹا سینٹر ایئر کولنگ، بند سرکولیشن والے واٹر کولنگ سسٹم اور ری سائیکلنگ کے طریقے اپنا رہے ہیں جن میں پانی بار بار استعمال ہوتا ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، صنعتی استعمال کیلئے ری سائیکل شدہ پانی کی فراہمی اور ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کو صاف کر کے استعمال کرنا بھی زیر غور ہےمگر ان سب اقدامات کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور سخت ضابطہ بنانے ضروری ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں ڈیٹا سینٹرس کی منظوری دیتے وقت صرف بجلی یا زمین نہیں بلکہ مقامی آبی توازن کو بھی اہم معیار بنانا ہوگا۔ شفاف کارروائی، پانی کے استعمال کی حد اور ری سائیکلنگ کے  اصول طے  کئے بغیر یہ صنعت ماحولیاتی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ اگر منصوبہ بندی درست ہو تو یہی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ماحول دوست بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مسلمان اور قانون آج اپنے حقوق سے ناواقفیت سب سے بڑا نقصان

حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کا دور رُکنے والا نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ممالک ڈیٹا سینٹر تعمیر کر رہے ہیں کیونکہ یہی جدیدمعیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ہندوستان کے لئےبھی یہ موقع ہے کہ وہ عالمی ڈیجیٹل نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرے مگر ترقی کی اس دوڑ میں پانی جیسے بنیادی وسیلے کو نظرانداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا ہندوستان  اپنی ڈیجیٹل ترقی کو پائیدار بنا  سکے گا؟ اگر حکومت، صنعت اور ماہرین مل کر ایسی حکمت عملی تیار کریں جس میں پانی کے تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتو یہ چیلنج ایک موقع میں بدل سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر ڈیٹا کے اس سیلاب کے درمیان کہیں پانی کی قلت کا بحران خاموشی سے گہرا نہ ہو  جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK