یہ خوش آئندہ ہے کہ تہران نے اب اپنے پڑوسی ممالک کو اُس وقت تک نشانہ نہ بنانے کافیصلہ کیا ہے جب تک کہ اس پر وہاں سے حملہ نہ ہو۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 11:14 AM IST | Asim Jalal | Mumbai
یہ خوش آئندہ ہے کہ تہران نے اب اپنے پڑوسی ممالک کو اُس وقت تک نشانہ نہ بنانے کافیصلہ کیا ہے جب تک کہ اس پر وہاں سے حملہ نہ ہو۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ ایران پر حملہ کرتے وقت سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایک ایسا ملک جو ۴۰؍ برسوں سے پابندیوں سے جوجھ رہا ہے، جس کی کمر معاشی طور پر ٹوٹ چکی ہے اور جہاںموساد اور سی آئی اے کے جاسوسی نظام نے اندرتک پیٹھ بنا رکھی ہے، پر حملہ یوں بیک فائر کرجائےگا۔ بتایا جارہاہے کہ اُس وقت جبکہ جنیوا میں بات چیت سے مسئلے کو(جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے) حل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی اور کشیدگی کو ٹالنے کیلئے ایران بہت سی باتیں بڑی حد تک مان لینے کو تیار تھا، اچانک موساد اور سی آئی اے نےاطلاع دی کہ ۲۸؍ فروری کی صبح تہران کے ایک محفوظ کمپاؤنڈ میں سپریم لیڈر خامنہ ای ، پاسداران ِ انقلاب کے سربراہ ، وزیر دفاع اور ایران کی دیگر اعلیٰ قیادت کی میٹنگ ہونے والی ہے۔اس اطلاع کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے پہلے سے تیار آپریشن کا وقت تبدیل کیا اور طے شدہ پروگرام سے پہلے حملہ کیا تاکہ ایرانی قیادت کو ایک ہی حملے میں ختم کیا جاسکے۔ انہیں کامیابی بھی ملی۔ خامنہ ای، وزیردفاع اور پاسداران انقلاب کے سربراہ سمیت ۴۸؍ قائدین پہلے ہی حملے میںمارے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: تاریک شب کو تونے درخشاں بنا دیا
امریکہ اور اسرائیل کو یقیناً یہ امید رہی ہوگی کہ میدان فتح ہوگیا اور قیادت کے خاتمے کے بعد تہران زیادہ دنوں تک مقابلہ نہیں کر پائےگامگر ایسا نہیں ہوا۔سپریم لیڈر کی موت نے ایران کے لڑنے کے عزم کو دوبالا کردیا۔ گزشتہ ۸؍ دنوں سے ایران نہ صرف اسرائیلی اورامریکی حملوں کا ڈٹ کر سامنا کر رہا ہے بلکہ اپنی میزائلوں سے اس نے امریکہ اوراسرائیل ہی نہیں پوری دنیا کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ خلیجی ملکوں میں امریکی سفارتخانے اور فوجی ٹھکانے نشانہ بن رہے ہیں اور امریکہ انہیں خالی کرنے پر مجبور ہے۔ کویت میں اس کا راڈار سسٹم ’تھاڈ‘ تباہ ہوچکا ہے، آبنائے ہرمز پر ایران کی بالادستی قائم ہے اور یہاں سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت پوری طرح بند ہے، یعنی دنیا کو ۲۰؍ فیصد تیل کی سپلائی تقریباً ٹھپ ہے۔قطر انرجی نے گیس کی پیداوار بند کردی ہے اور اندیشہ ہے کہ چند دنوں میں حالات بہتر نہ ہوئے تو خلیجی ممالک تیل کی پیداوار بھی بند کرنے پر مجبور ہوںگے۔ یعنی یہ صاف ہے کہ اگر جنگ نے طول پکڑا تو اس کی قیمت پوری دنیا چکائے گی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ طاقت کے لحاظ سے ایران کا امریکہ یا اسرائیل سے کوئی مقابلہ نہیں ۔ ایک خود کو عالمی سپر پاور کہلاتا ہے تو دوسرے کو علاقائی سپرپاور ہونے کا زعم ہے۔ دوسری طرف ایران دہائیوں کی پابندیوں کا مارا ہو اہے۔یہ صاف سمجھ میں آتا ہے کہ اسلحہ کے نام پر اس کے پاس خانگی طور پر تیار کئے گئے میزائلوں اور ڈرونز کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ مگر اس نے اپنے ان معمولی ہتھیاروں سے اسرائیل اور امریکہ کے فضائی دفاعی نظام کو پوری دنیا کے سامنے مذاق کا موضوع بنا کر رکھ دیاہے۔ وہ اسی وقت دشمن کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوتا جب اسرائیل کے آئیرن ڈوم یا امریکہ کے تھاڈ نظام کو غچہ دیکر اس کے میزائل اور ڈرون اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں بلکہ وہ اس وقت بھی امریکہ اور اسرائیل کو بھاری چوٹ پہنچا رہا ہوتا ہے جب اس کے داغے گئے میزائل یا ڈرون اپنے ہدف تک پہنچ پاتے اور امریکہ و اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام انہیں ہوا میں ہی روک لیتا ہے۔ ہندوستانی فوج کے سابق کرنل راجیو اگروال نے اپنے ایک تازہ تجزیہ میں نشاندہی کی ہے کہ ایران کا شاہد ڈرون جس نے امریکہ و اسرائیل کی نیند حرام کر رکھی ہے، کی لاگت ۳۰؍ سے ۵۰؍ ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ نہیں جبکہ اسے روکنے کیلئےامریکہ کے تھاڈ دفاعی نظام سے داغا جانےوالا ایک اِنٹرسیپٹر میزائل ۱۲؍ سے ۱۵؍ ملین ڈالر کا ہوتا ہے۔اسی طرح امریکہ جن پیٹریاٹ اور ٹوم ہاک میزائلوں سے ایران کو نشانہ بنارہا ہے ان کی قیمت تقریباً۱۰؍ سے ۳۰؍ لاکھ ڈالرفی میزائل ہے جبکہ ایرانی بیلسٹک میزائل کی قیمت تقریباً۸؍ سے سے۱۰؍ لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس فرق کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کو مالی اور فوجی دونوں محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔ اپنے چھوٹے چھوٹے ڈروان کے ذریعہ تہران کامیابی سے امریکہ اور اسرائیل کے انٹرسیپٹر میزائلوں کو ضائع کروارہا ہے ۔خلیجی ممالک اور وہاں موجود میں امریکی اڈوں کے پاس آئندہ چند دنوں میں ان کی قلت کا اندیشہ ہے۔ یہ قلت ایران کیلئے اپنے اہداف پہنچنے کا راستہ اور بھی صاف کردیگی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ وہ طویل جنگ کیلئے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شمال مشرقی لوگوں پرحملوں نے سرکار کی توجہ حاصل کی، لیکن مسلمانوں کا کیا؟
اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنی صدارت کی پہلی میعاد کے دوران ۹؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو کیا گیا وہ ٹویٹ ضرور یاد آرہا ہوگا جس میں انہوں نےمشرق وسطیٰ میں مداخلت کی امریکی پالیسی کو غلط ٹھہراتے ہوئے کہاتھا کہ ’’امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں لڑنے اور وہاں پولیس جیسا کردار ادا کرنے پر ۸؍ کھرب ڈالر خرچ کردیئے۔ ہمارے ہزاروں فوجی ہلاک یا شدید زخمی ہوئے اور لاکھوں لوگ مارے گئے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جانا اب تک کابدترین فیصلہ تھا۔‘‘ ہوسکتاہے کہ یہ احساس انہیں اس وقت پھر شدت سے ہورہا ہوجب وہائٹ ہاؤس میں ایران کے خلاف جنگ کے تعلق سے ان کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ عالم یہ ہے کہ اگر اسپین کھل کر جنگ کی مخالفت کررہا ہے تو امریکہ کے وہ اتحادی جو جنگ کی مخالفت سے گریز کررہے ہیں، وہ بھی جنگ کو جائز ٹھہرانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ فرانس اور کنیڈا کے بعد سنیچر کو جرمنی کے وائس چانسلر لارس کلنگ بیل نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے کھل کریہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ’’اس بات پر بہت زیادہ شبہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ جنگ جائز ہے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ جنگ کا کوئی جواز ہی موجود نہیں ہے۔ پہلے ایران میں مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاج کو بغاوت میں تبدیل کرانے کی کوشش کی گئی مگر جب اس میں کامیابی نہیں ملی تو پھر تہران پر حملے کیلئے حیلے بہانے گڑھے جانے لگے اور یہ دعویٰ کیا جانے لگا کہ وہ نیوکلیئر بم بنانے جارہاہے۔ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے کہ ابھی اکتوبر میں ہی خود امریکہ نے ۱۲؍ دن کی جنگ میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو تباہ کردینے کا اعلان کیاتھا۔
اس لئے ایران پر بلا جواز حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر عالمی نظام واقعی اصولوں پر مبنی ہوتا تو کسی بھی ریاست کو اس طرح یکطرفہ طور پر جنگ مسلط کرنے کی اجازت نہ ہوتی۔ موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ طاقتور ممالک اپنے مفادات کیلئےقوانین کو نظر انداز کر سکتے ہیں جبکہ کمزور ممالک سے انہی قوانین کی پابندی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔یہ صورتحال ہمیں ماضی کی جنگوں کی یاد دلاتی ہے۔ عراق پر حملے کے وقت بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ عالمی سلامتی کو خطرہ ہے اور فوری کارروائی ضروری ہے۔ بعد میں ثابت ہوا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا دعویٰ محض جھوٹ تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے، پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوا اور عالمی نظام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ ایران کے خلاف جنگ میں بھی اسی طرح کے بیانیے اور دلائل کا استعمال ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت، ایران پر حملے سرخی میں رہے
ایران پر کیا گیا حملہ دوسرا پہلو بھی لئے ہوئے ہے۔ چونکہ امریکہ ایران کی سرزمین پر حملے کیلئے مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے فوجی ٹھکانوں کا استعمال کرہا ہےاور یہ فوجی ٹھکانے ایران کے پڑوسی ممالک میں ہیں اس لئے فطری ہے کہ ایران ان اڈوں پر جوابی حملہ کریگا جو وہ کر رہا ہے تاہم اس سے اس جنگ کے خلیجی ممالک کے درمیان آپسی لڑائی میں تبدیل ہوجانے کا اندیشہ بھی موجود ہے جو یقیناً امریکہ اور اسرائیل کی منشاء کے عین مطابق ہو گا۔ اس پس منظر میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا سنیچر کا یہ اعلان خوش آئندہ ہے کہ ایران اپنے پڑوسی ملکوں میں امریکی ٹھکانوں پر اس وقت تک حملہ نہیں کریگا جب تک کہ وہاں سے اس کو نشانہ نہیں بنایا جائے ۔ ا س طرح اس محاذ پر بھی تہران نے واشنگٹن اور تل ابیب کو پسپا کرنے کی شاندار کوشش کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ہندوستان میں اے آئی کے ذریعے ’زندہ‘ ہوتے لوگ، ایک اُبھرتی ہوئی معیشت
بہرحال یکہ جنگ عالمی سیاست میں ایک خطرناک موڑ ہے جو اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ اگر دنیا پر امریکہ اوراسرائیل کا جنگل راج ہی چلنا ہے تو پھر اقوام متحدہ اور اس جیسے دیگر عالمی اداروں کا ڈھکوسلہ کیوں؟ ایران کے خلاف جنگ ہو یا اس سے قبل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی، اس نے اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ عالمی نظام نام کی کوئی چیزنہیں ہے اور جسے ہم عالمی نظام سمجھتے ہیں وہ دراصل طاقتور ریاستوں کے مفادات کا کے تحفظ کا نظام ہے۔ یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت ہی قانون بن چکی ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس رجحان کو نہ روکا تو مستقبل میں کسی بھی ملک کی خودمختاری محفوظ نہیں رہے گی۔ اسلئے ایران پر امریکی واسرائیلی حملہ کے خلاف آواز اٹھانا صرف ایک ملک کے دفاع کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کے تحفظ کا سوال ہے جس میں قانون، انصاف اور ریاستی خودمختاری کو طاقت پر فوقیت حاصل ہو۔