Inquilab Logo Happiest Places to Work

عبرت ناک انجام کے باوجود انصاف کے نام پر ناانصافی کا کھیل جاری ہے

Updated: January 12, 2026, 5:16 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

عقیدے اور یقین میں فرق کرنےوالے اس حقیقت کو شاید نہ سمجھ پائیں لیکن اس پر ہمارا عقیدہ بھی ہے اور یقین بھی کہ وقت آنے پر ہر ظالم کی گرفت ہوتی ہے اور وہ عبرت ناک انجام سے دوچار ہوتا ہے، خواہ وہ نمرود اور فرعون ہو یا پھر آنگ سان سوچی اور بشارالاسد۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

انسانی حقوق کی پامالی اور انصاف کے نام پر نانصافی کی روایت بہت پرانی ہے اور یہ سلسلہ آج کے ’مہذب‘ دور میں بھی جاری ہے۔ عقیدے اور یقین میں فرق کرنےوالے اس حقیقت کو شاید نہ سمجھ پائیں لیکن اس پر ہمارا عقیدہ بھی ہے اور یقین بھی کہ وقت آنے پر ہر ظالم کی گرفت ہوتی ہے اور وہ عبرت ناک انجام سے دوچار ہوتا ہے، خواہ وہ نمرود اور فرعون ہو یا پھر آنگ سان سوچی اور بشارالاسد۔ آج ہم ایسے ہی کچھ واقعات کو یاد کریں گے جن میں انصاف کے نام پر انصاف کا خون ہوا ہے اور جسے تاریخ نے ثابت کیا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ اس قبیل کے حکمرانوں نےاپنے خلاف اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کیلئے اکثرو بیشتر عدالتوں ہی کا سہارا لیا ہے تاکہ وہ اپنے ’انصاف‘ کو جواز کا جامہ پہناسکیں لیکن بقول امیر مینائی ’’قریب ہے یار روز محشر، چھپے گا کشتوں کا قتل کیوں کر:جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا۔ ‘‘ وقت آیا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا۔ 
 انگریز بنام بھگت سنگھ
بھگت سنگھ تحریک آزادی کے ہیرو ہیں لیکن انگریزی حکومت نے انہیں غدار قرار دیا تھا۔ ان پر بہت سارے الزامات تھے جن میں سے ایک اسمبلی ہال میں بم پھینک کردھماکہ کرنا اور دوم ’اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جان سانڈرز‘ کو گولی مارنے کا تھا۔ پہلے الزام کے تحت عمر قید اور دوسرے معاملے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ اس کیلئے لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرۂ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ حالانکہ ان کی پھانسی طے تھی مگر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ان کے خلاف مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ اس کے بعدبھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور۲۳؍ مارچ ۱۹۳۱ء کو انہیں پھانسی بھی دے دی گئی۔ 
تاریخ میں یہ بات درج ہے کہ انہیں پھانسی کی سزا دینے کیلئے ججوں پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت کیلئے جسٹس سید آغا حیدر عابدی، جسٹس جیسی ہلٹن اور جسٹس جے کولڈ اسٹریم پر مشتمل ایک سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران۴۵۵؍ افراد نے گواہی دی۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں انگریز جج انہیں پھانسی دینے پر بضد تھے مگر جسٹس آغا حیدر عابدی ان کے خلاف پیش ہونے والے ہر گواہ کے بیانات اور شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ اس کی وجہ سے بنچ کے دونوں انگریز ججوں کو ایسا لگا کہ سید آغا حیدر عابدی کے ہوتے ہوئے انہیں پھانسی کی سزا دینا مشکل ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ جسٹس آغا حیدر عابدی کو خریدنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز کو گروی رکھنے کے بجائے استعفیٰ دینا بہتر سمجھا۔ اس کے بعد ہی بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کیلئے انگریزی عدالت، پھانسی کی سزا پر مہر لگاپائی۔ 
انگریز حکومت نے انہیں غدار قرار دے کر پھانسی پر تو چڑھادیا تھا لیکن آج تاریخ میں بھگت سنگھ ہیرو اور انگریزی حکومت کو ظالم قرار دیا جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہم نے کبھی دعوت نامے کاانتظار نہیں کیا، اعلان ہی کو دعوت نامہ سمجھا

ہٹلر کا دور 
نازی جرمنی میں بظاہر قانون اور انصاف کا نظام باقی تھا، لیکن وقت نے ثابت کردیا ہے کہ اُس دور میں عدالتوں کو قانون کی پاسداری اور حکومت کو جمہوری اقدار سے خالی کر کے نازی نظریئے کا آلہ بنا دیا گیا تھا۔ ہٹلر کے دور میں عدالتوں کا مقصد انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ ریاستی نظریئے اور نسل پرستانہ سیاست کا تحفظ بن گیا تھا۔ یہ بات اب کھل کر سامنے آرہی ہے کہ نازی حکومت کے وزیر انصاف نے ججوں کو خطوط لکھے تھے جن میں ان سے کہا گیا تھاکہ ان کی پہلی وفاداری آئین اور انصاف کے ساتھ نہیں بلکہ ریاست اورہٹلر کے ساتھ ہونی چاہئے۔ اسلئے اُس دور میں ایسے جج ترقی پاتے رہے جو آستھا کی بنیاد پر فیصلے کرتے تھے اور حکومت سے اختلاف رکھنے والوں کو ٹھکانے لگاتے تھے۔ نازی حکومت نے عام عدالتوں کے ساتھ ہی کچھ خصوصی عدالتیں بھی قائم کررکھی تھیں، جن میں سب سے بدنام’پیپلز کورٹ‘ تھی جوسیاسی مخالفین کیلئے مخصوص تھی اور جہاں فیصلے پہلے سے طے شدہ ہوتے تھے۔ اس دور کا سب سے خطرناک پہلو یہ تھا کہ ظلم کو قانونی شکل دے دی گئی جس میں گرفتاریاں اور سزائیں، حتیٰ کہ قتل بھی قانونی عمل کے تحت دکھائے جاتے تھے اورعوام کو یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ سب کچھ ’قانون کے مطابق‘ ہو رہا ہے۔ 
اور پھر وہ دن بھی آیاجب ہٹلر اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچا۔ ۸؍ مئی ۱۹۴۵ء کو دنیا کے انصاف سے بچنے کیلئے اس نے خود کشی کرلی۔ 
بنگلہ دیش کے حالات
گزشتہ سال ایک عوامی انقلاب کے بعد بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد بنگلہ دیش کے چیف جسٹس عبیدالحسن کو بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ 
 تقریباً ۲۰؍ سال تک بنگلہ دیش کی مختار کل رہیں شیخ حسینہ پر بھی یہ الزام ہے کہ اپنے حریفوں کو سزا دینے کیلئےانہوں نے عدالتوں کا بھرپور استحصال کیا۔ ابھی حال ہی میں ان کی سخت حریف اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوا ہے۔ ان کے انتقال کے وقت یہ بات سامنے آئی کہ شیخ حسینہ کی حکومت کے دباؤکی وجہ سے عدالت نے انہیں علاج کیلئے ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اسی طرح شیخ حسینہ کے دور میں ۱۹۷۱ء کیجنگ آزادی سے متعلق مقدمات کی سماعت کیلئے قائم کی گئی خصوصی انصاف ٹریبونل نےجماعت اسلامی کے متعدد لیڈروں کو جنگی جرائم کے الزام میں سزا سنائی تھی۔ ان میں سے کئی معاملات میں جماعت اسلامی کے لیڈروں کو عمر قید اور پھانسی تک کی سزا دی گئی تھی۔ 
وقت گزرا، حالات بدلے تو عدالتوں کا مزاج بھی تبدیل ہوگیا۔ اب شیخ حسینہ خود ماری ماری پھرتی ہیں اور بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے تحت چلنے والی عدالت نے محض ۲۰؍ دن کی سماعت میں ان کیلئے پھانسی کی سزا تجویز کی ہے۔ 
یہ تو محض چند مثالیں ہیں ورنہ سچ تو یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات سے پوری تاریخ بھری پڑی ہے۔ اتفاق و اختلاف اپنی جگہ لیکن اس فہرست میں عراق کے صدر صدام حسین اور لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں اپنے مخالفین کو کچلنے کیلئے جائز و ناجائز ہر حربے کااستعمال کیا لیکن وقت آیا تو وہ بھی عبرت ناک انجام سے دوچار ہوئے۔ اسلئے اُن تمام کو جن کے ہاتھوں میں وقت نے زمام اقتدار سونپا ہے، اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔ بقول خواجہ اشرف:
وقت بدلاتو حالات بدل جائیں گے
آپ کے سارے خیالات بدل جائیں گے
دوست دشمن کے حوالے بھی نئے طے ہوں گے
آپ کے سارے سوالات بدل جائیں گے
وقت لکھے گا زمانے کے ورق پر نئی تحریر
باکمالوں کے کمالات بدل جائیں   گے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK