Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوت پھینی کی مقبولیت جہان آباد کی گلیوں سے نکل کر آس پاس کے اضلاع تک پہنچ گئی

Updated: August 22, 2026, 4:35 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

 ہر علاقے کے اپنے مخصوص ذائقے ہوتے ہیں۔ ایسی جگہوں کا جب کبھی ذکر چھڑتا ہے تو اُس کی خوشبو خود بخود محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہندوستان کے مختلف شہروں اور قصبوں کی شناخت صرف ان کی عمارتوں، بازاروں اور تاریخی مقامات سے نہیں ہے بلکہ وہاں کے کھانے بھی اس کی پہچان کا ایک اہم حصہ ہیں۔

Authentic Soot Pheni is cooked in desi ghee over a low flame, allowing its aroma to spread far and wide. Picture: INN
اصلی سوت پھینی کودیسی گھی میں دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے، اسلئے اس کی خوشبو دور دور تک پھیل جاتی ہے۔ تصویر: آئی این این

 ہر علاقے کے اپنے مخصوص ذائقے ہوتے ہیں۔ ایسی جگہوں کا جب کبھی ذکر چھڑتا ہے تو اُس کی خوشبو خود بخود محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہندوستان کے مختلف شہروں اور قصبوں کی شناخت صرف ان کی عمارتوں، بازاروں اور تاریخی مقامات سے نہیں ہے بلکہ وہاں کے کھانے بھی اس کی پہچان کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ہمارے الٰہ آباد ڈویژن کی بات کریں تو اس میں پرتاپ گڑھ، کوشامبی، فتح پور اور خود الٰہ آباد ضلع شامل ہے۔ یہاں ہر ضلع کی اپنی ایک الگ شناخت ہے۔ پرتاپ گڑھ کا نام آئے تو آنولہ یاد آتا ہے، الٰہ آباد کا ذکر ہو تو امرود کا ذائقہ زبان پر محسوس ہونے لگتا ہے۔ کوشامبی میں بھی اپنے بہت سے ذائقے ہوں گے، اگرچہ میری واقفیت وہاں کے کسی ایک مخصوص پکوان یا مٹھائی سے اتنی نہیں ہے۔ کوشامبی کو۱۹۹۷ء میں باقاعدہ ضلع کا درجہ ملا، اس سے پہلے یہ الٰہ آباد کا حصہ تھا۔ ہاں وہاں کے سموسوں کا ذکر ضرور سننے کو ملتا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ذائقے میں بھی کچھ خاص بات ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بیرون ملک مقیم ہندوستانی کس طرح ۱۵؍ اگست مناتے ہیں؟ کیا جشن مناتے ہیں؟ پرچم لہراتے ہیں؟

آج فتح پور (ہنسوا) کی سوت پھینی (بعض علاقوں میں ’سوتر پھینی‘ بھی کہتے ہیں ) پر گفتگو ہوتی ہے... اگر اُس کے ذائقے کی بات کریں تو وہ سوندھی سوندھی دیسی گھی کی خوشبو الٰہ آباد، پرتاپ گڑھ، کانپوراور آس پاس کے دوسرے اضلاع تک پھیلی ہوئی ہے۔ فتح پور کے جہان آباد قصبے میں ۱۸۹۰ء میں یہ سوت پھینی بنانے کی شروعات اَئیا جین نے کی تھی۔ جو میدے اور خالص دیسی گھی سے تیار ہوتی تھی۔ ۱۳۶؍ سال پرانی وراثت کو اس وقت کمکیش جین سنبھال رہے ہیں۔ جب اس کام کی ابتدا ہوئی تو آس پاس کے گاؤں کے لوگوں کو بھی کام پر رکھا گیا۔ ان میں خواتین کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔ دیہی خواتین نے اس ہنر کو صرف روزگار کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ اسے سیکھا، سمجھا اور اپنی اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔ یوں ایک مٹھائی بنانے کا ہنر آہستہ آہستہ گھروں، گلیوں اور آس پاس کے گاؤں تک پھیلتا چلا گیا۔ گاؤں کی عورتیں ویسے بھی اپنے ہاتھوں کے ہنر کیلئے مشہور رہی ہیں۔ دستکاری سے وہ پھٹے پرانے کپڑوں کو نیا کر دیتی ہیں۔ بیکار پڑی ردی سے وہ ایسی ایسی خوبصورت اشیاء تیار کرتی ہیں کہ دیکھنے والے عش عش کرتے ہیں۔ 

سوت پھینی بنانے کا ہنر بھی انہی ہاتھوں میں پہنچا تو اس کے ساتھ محنت، صبر اور نفاست کی ایک نئی داستان جڑ گئی۔ سوت پھینی کی مقبولیت بھی جہان آباد کی گلیوں سے نکل کر آس پاس کے اضلاع تک پہنچی۔ پھر دوسرے علاقوں اور ریاستوں میں بھی اسے بنانے کا ہنر پھیلنے لگا۔ ہنر کی یہی خاصیت ہے کہ اسے جتنا بانٹو، اتنا ہی پھیلتا ہے۔ ایک شخص دوسرے کو سکھاتا ہے، دوسرا تیسرے کو، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک چھوٹے سے قصبے کا ہنر دور دراز علاقوں تک پہنچ جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: راجہ ارادت جہاں: آزادی کے گمنام مگر عظیم مجاہد

آج بھلے ہی مختلف جگہوں پر آپ کو سوت پھینی مل جائے لیکن فتح پور کی بات ہی اور ہے۔ جیسے امرود آپ کہیں کا بھی کھا ئیں لیکن دل کو تشفی الٰہ آبادی امرود سے ہی ملتی ہے۔ جیسے دسہری آم آپ کہیں سے بھی خرید لائیں لیکن ملیح آباد کی دسہری کا ذائقہ نہیں بھولتا۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں جب کاریگر سوت پھینی تیار کرکے اپنے ساتھ لے کر نکلتے تھے تو راستے میں اس کی خوشبو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھی۔ ذرا تصور کیجیے، کچی سڑک، گاؤں کی پگڈنڈی کو خوشبو سے معطر کردینے والے وہ دن کتنے حسین رہے ہوں گے۔ پرانے زمانے کی یہی تو باتیں تھیں۔ اُس وقت چیزیں خالص ہوتی تھیں۔ اس لئے ان کے ساتھ ایک تعلق بھی بنتا تھا۔ آج کی طرح ملاوٹی نہیں ہوتی تھیں۔ 

فتح پور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی محمد مبین(چند روز قبل ’انقلاب‘ لکھنؤ سے۱۵؍سالہ خدمات کے بعد سبکدوش ہوئے ہیں ) کہتے ہیں کہ سوت پھینی ہمارے بچپن کی اُن میٹھی یادوں میں شامل ہے، جس کا ذکر آتے ہی جیسے پورا ایک زمانہ آنکھوں کے سامنے گھوم آجاتا ہے۔ آج بازاروں میں طرح طرح کی اشیائے خوردونوش موجود ہیں لیکن سوت پھینی کا اپنا الگ ذائقہ ہے۔ اُس وقت سوت پھینی لاکر اُسے بڑے اہتمام سے رکھا جاتا تھا۔ بڑے سے مٹکے میں رکھ کر اوپر سے مٹی کی کوسیا سے پیک کر دیا جاتا تھا۔ کبھی گھر میں کسی ضرورت سے مٹکا کھولا جاتا تو اس کے ساتھ ہی سوت پھینی کی ایسی خوشبو پھیلتی کہ پورا گھر مہک اٹھتا تھا۔ خالص اور دیسی گھی سے بنے ہونے کی یہی پہچان تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: یوم آزادی، جشن آزادی اور حقیقی آزادی کا مفہوم سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت

آخر میں بات سوت پھینی بنانے کے طریقے کی ہو جائے... چھانے ہوئے میدے میں پانی ملا کر چکنا آٹا تیار کیا جاتا ہے، پھر اُس آٹے کی لوئیاں بنا کر انہیں خالص دیسی گھی میں ڈبوکر رکھا جاتا ہے۔ کاریگر انگلیوں سے میدےکی لوئی کی مالا بناکر اسے پھندا بناتے ہیں۔ پانچ بار پھندا بنا کر کچھ دیر کیلئے رکھ دیا جاتا ہے۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد تین تین پھندے بنائے جاتے ہیں ۔ اس کے بعددیسی گھی میں دھیمی آنچ پر اسے پکایا جاتا ہے۔ اس طرح باریک ریشے دار سوت پھینی تیار ہوتی ہے۔ دیسی گھی کی سوت پھینی مہنگی ہوتی ہے چنانچہ اب بازاروں میں بنسپتی گھی اور ریفائنڈ سے بھی اسے تیار کیا جانے لگا ہے۔ آخر میں بتاتا چلوں کہ سوت پھینی کو دستر خوان پر سجانے کیلئے زیادہ تام جھام کی ضرورت نہیں ہے۔ اُس میں حسب ذ ائقہ دودھ اور شکر شامل کیجیے اورلذیذ ذائقے سے لطف اندوز ہوئیے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK