گریجویشن کے دوران باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے باوجود اپنی پرواز کو متاثر نہ ہونے دینے والا یہ نوجوان نظام انصاف کا اہم رکن بننے کیلئے پرعزم ہے۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 3:21 PM IST | Shaikh Akhlaq Ahmad | Mumbai
گریجویشن کے دوران باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے باوجود اپنی پرواز کو متاثر نہ ہونے دینے والا یہ نوجوان نظام انصاف کا اہم رکن بننے کیلئے پرعزم ہے۔
زندگی میں بعض کامیابیاں صرف امتحان میں حاصل ہونے والے نمبروں کا نام نہیں ہوتیں بلکہ وہ قربانی، دعا، مسلسل جدوجہد اور پختہ عزم کی ایسی داستانیں ہوتی ہیں جو دوسروں کیلئے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ مہاراشٹر کے ضلع بیڑ سے تعلق رکھنے والے اعجاز محمود باغبان کی کامیابی بھی ایسی ہی ایک متاثر کن داستان ہے۔ انہوں نے ۳؍ سالہ ایل ایل بی میں داخلہ کیلئے ہونےوالے امتحان ’ایم اے ایچ-ایل ایل بی-۳؍ ایئرس سی ای ٹی -۲۶ء‘‘ میں غیرمعمولی۹۹ء۹۹؍پرسنٹائل حاصل کرکے اپنی محنت، استقامت اور والدہ کی قربانیوں کو ایک نئی شناخت بخشی ہے۔
اعجاز کا تعلیمی اور عملی سفر آسان نہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم چھترپتی شیواجی ودیالیہ سے مکمل کی۔ دسویں جماعت میں۹۲؍ فیصد نمبر حاصل کئے جبکہ بارہویں سائنس کا امتحان شری پتراؤ جونیئر کالج، عثمان آباد سے۷۳؍فیصد نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے خواب آنکھوں میں سجائے وہ پونے پہنچے لیکن گریجویشن کے دوران ہی والد کا انتقال ہوگیا اور زندگی نے اچانک ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔
یہ بھی پڑھئے: عبادت گاہوں کے تحفظ کےقانون کے ساتھ کھلواڑ
والد کے انتقال کے بعد گھر کی تمام ذمہ داریاں والدہ اور بڑے بھائی کے کندھوں پر آ گئیں۔ بڑے بھائی سلطان باغبان نے پھل فروخت کرکے گھر اور تعلیم دونوں کا بوجھ سنبھالا۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے یہ عزم کر رکھا تھا کہ اعجاز کی تعلیم کسی صورت متاثر نہ ہو۔روزنامہ انقلاب سےگفتگو کرتے ہوئے اعجاز نےجذباتی انداز میں اپنی جدوجہد کو بیان کیا :
وہ کہتے ہیں کہ ’’والد کے انتقال سےقبل بھی ہماری معاشی حالت بہت اچھی نہیں تھی لیکن ان کے جانے کے بعد مشکلات بڑھ گئیں۔ ایسے نازک وقت میں میرے خاندان اور سماج کے کئی مخلص افراد نے میرا حوصلہ بڑھایا اور ہر ممکن تعاون کیا۔ انہی کی مدد سے میں نیٹ سیٹ ( NET، (SET اور جے آر ایف جیسے قومی سطح کے اہم امتحانات میں کامیابی حاصل کی ۔ اس دوران میں کال سینٹر میں ملازمت بھی کرتا رہا۔ کالج کے زمانے میں’’کماؤ اور پڑھو‘‘ اسکیم کے تحت ملازمت کرکے اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کیے اور تعلیمی سفر جاری رکھا۔‘‘
اعجاز نے پونے کالج سے پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن مکمل کیا جبکہ عابدہ انعامدار سینئر کالج، پونے سے پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کی ریزیڈینشیل کوچنگ اکیڈمی میں داخلہ لیا اور یو پی ایس سی کی تیاری شروع کی۔ اس دوران وہ سی ڈی ایس اور سی اے پی ایف جیسے قومی سطح کی مسابقتی امتحانات کے انٹرویو کے مرحلے تک پہنچے، تاہم جسمانی اہلیت کے مرحلے میں کامیابی حاصل نہ کرسکے۔
ناکامیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اعجاز نے بتایا کہ ’’ناکامی عارضی ہوتی ہے۔ اگر انسان کا مقصد واضح ہو تو ہر ناکامی دراصل اگلی کامیابی کی جانب لے جانے والی سیڑھی بن جاتی ہے۔‘‘اپنی حالیہ کامیابی پرانہوں نے بتایا کہ ’’۲۰۱۹ءمیں والد کے انتقال کے بعد میرے بھائی نے سبزی اور پھل فروخت کرکے میری تعلیم جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج جو کامیابی مجھے ملی ہے، وہ دراصل میری والدہ کی دعاؤں، قربانیوں اور میرے بھائی کی محنت کا ثمر ہے۔ میری خواہش ہے کہ میرا یہ سفر ان نوجوانوں کے لیے حوصلے کا ذریعہ بنے جو مالی مشکلات کے باوجود بڑے خواب دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سچ تو یہی ہے کہ حشرات الدہر سے زیادہ عوام کی حیثیت نہیںا
اعجاز نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے اساتذہ، سرپرستوں اور خیرخواہوں کے سر باندھتے ہیں۔ انہوں نے گفتگو کے دوران پٹھان سر، جواد قاضی سر، انیس کٹّی سر، ڈاکٹر وحیدہ شیخ، شبانہ شیخ، علی مالیگاؤنکر، ڈاکٹر احمد شمشاد اور ڈاکٹر مختار شیخ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اپنے دوستوں ذیشان انصاری اور عبدالرحمن خان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل حالات میں ان کا حوصلہ بلند رکھا۔ اس کے علاوہ اشفاق ہجویانے سر اور کریسنٹ میڈیکل فاؤنڈیشن کی مالی اور اخلاقی مدد کو بھی انہوں نے اپنی کامیابی میں اہم قرار دیا۔اعجاز خود مختلف تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی کر رہے ہیں۔