Inquilab Logo Happiest Places to Work

قوم کے دید بانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا دانشمندی نہیں

Updated: June 07, 2026, 3:15 PM IST | Dr. Mohammed Muqeem Jaamai | Mumbai

اگر تعلیمی نظام میں خرابیاں موجود ہیں تو ان پر گفتگو ہونی چاہئے لیکن اس بحران کا بوجھ صرف استاد کے کندھوں پر کیسے ڈالا جاسکتا ہے؟

A teacher is not a "leper" but a watchtower, a watchman and a vigilant protector of the nation. He does not just teach the pages of a book but also lights a lamp of guidance in the difficult paths of life. Photo: INN
استاد کوئی ’’کوڑی‘‘ نہیں بلکہ ایک واچ ٹاور، ایک دید بان اور قوم کا بیدار محافظ ہے۔ وہ صرف کتاب کے اوراق نہیں پڑھاتا بلکہ زندگی کے دشوار راستوں میں رہنمائی کا چراغ بھی روشن کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این

کسی بھی قوم کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس کے عروج و زوال میں سب سے بنیادی کردار معلم کا ہوتا ہے۔ استاد محض کتابوں کے اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ نسلوں کے شعور کو جِلا بخشتا، کردار کو سنوارتا اور مستقبل کی بنیادیں استوار کرتا ہے۔ قوموں کے معمار ایوانوں میں نہیں، درس گاہوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی تعمیر کا فریضہ ایک معلم انجام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مہذب معاشرہ نے استاد کو بلند ترین مسند پر بٹھایا ہے۔

افسوس کہ ہمارے عہد میں بعض اوقات ایسے بیانات سننے کو ملتے ہیں جن سے معلم کی عظمت کو مجروح اور اس کا کردار مشکوک ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک مشہور ٹی وی اینکر نے  اساتذہ کے بارے میں قابل اعتراض بات کہی۔ بظاہر یہ چند الفاظ تھے، مگر ان الفاظ نے ایک ایسے طبقے کے وقار کو نشانہ بنایا جو صدیوں سے قوموں کی فکری اور اخلاقی تعمیر کا فریضہ انجام دیتا آرہا ہے۔

تنقید ہر مہذب معاشرہ کا حسن ہے، مگر تنقید اور تحقیر میں فرق ہے۔ جب یہ حد پار کر لی جائے تو گفتگو اصلاح کے بجائے دل آزاری اور نفرت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اگر تعلیمی نظام میں خرابی ہے  تو اس پر گفتگو ہونی چاہیے، اس کا بوجھ صرف استاد کے کندھوں پر ڈال دینا انصاف نہیں۔

ہمارے تعلیمی نظام کو بے شمار چیلنجز درپیش ہیں۔ نصاب کی خامیاں، وسائل کی کمی، انتظامی بے حسی، تعلیمی پالیسیوں کا عدم استحکام اور بدلتے سماجی رویوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا مگر ان خرابیوں کا ذمہ دار صرف استاد کو قرار دینا ایسے ہی ہے جیسے کسی عمارت کی کمزور بنیادوں کا الزام صرف اس مزدور پر لگا دیا جائے جو اینٹیں جوڑ رہا ہو۔

یہ بھی پڑھئے: زمین کو ہماری نہیں، ہمیں زمین کی ضرورت ہے

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج ہمارے ملک کے بیشتر نجی تعلیمی ادارے ایسے اساتذہ کے دم سے قائم ہیں جو نہایت قلیل تنخواہوں پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے اساتذہ ایسے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی ان کے گھر کے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی ناکافی ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ نسلوں کے مستقبل کو سنوارنے میں مصروف ہیں۔ ان کے چہروں پر معاشی پریشانیوں کی جھریاں ضرور ہوتی ہیں، لیکن ان کے ہاتھوں میں علم کا چراغ بجھنے نہیں پاتا۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ جو شخص دوسروں کے بچوں کو خواب دیکھنا سکھاتا ہے، وہ خود اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب نہیں دیکھ پاتا۔

دوسری طرف بعض تعلیمی اداروں کے ذمہ داران اور منتظمین تعلیمی خدمت کے نام پر معاشی ترقی کی بلندیاں طے کر رہے ہیں۔ عالی شان عمارتیں، شاندار دفاتر اور بڑھتے ہوئے معاشی مفادات اکثر اس حقیقت پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ ان اداروں کی اصل بنیاد وہ استاد ہے جو کم معاوضے اور محدود وسائل کے باوجود خاموشی سے اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔ اگر احتساب ہونا چاہئے تو صرف استاد کا نہیں بلکہ ان تمام حلقوں کا بھی ہونا چاہیے جنہوں نے تعلیم کو خدمت کے بجائے تجارت کا ذریعہ بنا دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ معلم کو محض ایک ملازم یا تنخواہ دار کارکن سمجھنا اس کے کردار کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ استاد کوئی ’’کوڑی‘‘ نہیں بلکہ ایک واچ ٹاور، ایک دید بان اور قوم کا بیدار محافظ ہے۔ وہ صرف کتاب کے اوراق نہیں پڑھاتا بلکہ زندگی کے دشوار راستوں میں رہنمائی کا چراغ بھی روشن کرتا ہے۔ اس کی نگاہ صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی، فکری اور تہذیبی احوال پر مرکوز رہتی ہے۔

جب نوجوان نسل بے راہ روی کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے، جب سوشل میڈیا اور مادہ پرستی کی یلغار اقدار کی بنیادوں کو متزلزل کر رہی ہوتی ہے، جب گھروں میں تربیت کے چراغ مدھم پڑنے لگتے ہیں، تب ایک مخلص استاد خاموش تماشائی نہیں بنتا۔ وہ اپنی بساط بھر اصلاح اور رہنمائی کی کوشش کرتا ہے۔ وہ صرف طالب علموں کو نصاب نہیں پڑھاتا بلکہ انہیں انسان بنانا بھی سکھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آئی پی ایل میں بلے بازوں کا ہی نہیں گیندبازوں کا بھی جلوہ رہا ہے

استاد صرف جماعت میں موجود طلبہ ہی کا مربی نہیں ہوتا بلکہ وہ ان بچوں کا سہارا بھی بنتا ہے جو والدین کے ہوتے ہوئے بھی محبت، توجہ اور تربیت سے محروم ہو کر یتیموں جیسی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ کتنے ہی نوجوان ایسے ہیں جو دیر رات تک قہوہ خانوں، گلی کوچوں اور مختلف اڈوں پر وقت ضائع کرتے ہیں، مگر ایک حساس معلم ان کے مستقبل کی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ ان کے بکھرے ہوئے خواب سمیٹنے، ان کے منتشر خیالات کو سمت دینے اور انہیں معاشرہ کا مفید فرد بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس اعتبار سے استاد صرف طلبہ کا نہیں بلکہ ایک بھٹکے اور بکھرے ہوئے سماج کا بھی رہنما ہوتا ہے۔

اسلامی روایت میں معلم کا مقام غیر معمولی ہے۔ رسولؐ اکرم  نے خود کو معلم بنا کر بھیجے جانے کا اعلان فرمایا۔ ہماری علمی تاریخ اساتذہ کے احترام کے روشن واقعات سے بھری پڑی ہے۔ شاگرد اپنے اساتذہ کے سامنے ادب سے بیٹھتے، ان کے نام کے ساتھ تعظیمی الفاظ استعمال کرتے اور ان کی صحبت کو سرمایۂ حیات سمجھتے تھے۔ یہی احترام علم کے فروغ اور معاشرتی استحکام کا سبب بنتا تھا۔

یہ درست ہے کہ ہر شعبے میں اچھے اور برے افراد موجود ہوتے ہیں اور تدریس کا شعبہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اگر کسی استاد سے کوتاہی سرزد ہوتی ہے تو اس پر تنقید ہونی چاہئے، احتساب ہونا چاہیے اور اصلاح کی کوشش بھی ہونی چاہئے۔ لیکن چند افراد کی کمزوریوں کی بنیاد پر پورے طبقۂ اساتذہ کو تحقیر کا نشانہ بنانا نہ انصاف ہے اور نہ دانش مندی۔ یہ دراصل اس چراغ پر پتھر پھینکنے کے مترادف ہے جو اندھیروں سے لڑ  رہا ہو۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم استاد کو الزام کا ہدف بنانے کے بجائے قومی تعمیر کے مرکزی کردار کے طور پر تسلیم کریں۔ اس کے معاشی استحکام، پیشہ ورانہ تربیت اور سماجی وقار کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔ کیونکہ قوموں کی ترقی کا راستہ درس گاہوں سے ہو کر گزرتا ہے اور درس گاہوں کی روح معلم ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عبادت گاہوں کے تحفظ کےقانون کے ساتھ کھلواڑ

آج اگر ہم اپنے معلمین کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے تو کل ہماری نسلیں علم، شعور اور اخلاق کے بحران میں مبتلا ہوں گی۔ یاد رکھئے! استاد صرف ایک فرد نہیں، ایک ادارہ ہے؛ صرف ایک پیشہ نہیں، ایک مشن ہے؛ صرف ایک ملازم نہیں، ایک دید بان ہے۔ اور جو قوم اپنے دید بانوں کی تذلیل کرتی ہے، وہ آخرکار اپنی منزلوں کا راستہ کھو بیٹھتی ہے۔ معلم قوم کا وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں نسلیں سفر کرتی ہیں۔ چراغوں پر الزام لگا کر اندھیروں کا علاج نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK